Type to search

بلاگ تجزیہ دہشتگردی

شہید اسامہ بن لادن: کوئی اتنی بڑی بات نہیں

جب کوئٹہ میں افغان طالبان کا شوریٰ اجلاس ہوسکتا ہے۔ جب عالمی دہشتگرد خالد شیخ محمد راولپنڈی سے گرفتار ہو سکتا ہے۔ جب پاکستان کی شہریت رکھنے والا ملا منصور پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے کا شکار ہو سکتا ہے۔ جب یمن سے تعلق رکھنے والا القاعدہ کا سرگرم رکن محمد علی المعروف شعیب المکی پاکستانی دارلحکومت اسلام آباد سے گرفتار ہو سکتا ہے۔ جب طالبان کمانڈر ملا عمر کی کراچی میں ایک نہیں کئی بنگلے اور جائیدادیں ہو سکتی ہیں۔

جب ملا برادر کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہو سکتا ہے، جب بینظیر بھٹو طالبان کو “اپنے بچے” قرار دے سکتی ہے۔جب بیت اللہ محسود کی موت پر مسلم لیگ ن کا وزیر داخلہ چودھری نثار پارلیمان میں آنسو بہا سکتا ہے۔ جب تحریک انصاف کا وزیراعلی طالبان کو صوبے میں دفتر دینے کا اعلان کر سکتا ہے۔ جب تحریک انصاف کا ہی ایک اور رکن طالبان کو وزارتیں دینے کی تجویز پیش کر سکتا ہے۔ جب فوجی آمر پرویز مشرف وزیر داخلہ میجر (ر) آفتاب شیرپاؤ کے ساتھ مل کر 4 ہزار پاکستانی امریکہ کو فروخت کر سکتا ہے

جب سراج الحق صاحب پشاور میں ملا عمر کا غائبانہ نماز جنازہ ادا کرسکتا ہے۔ جب منور حسن صاحب طالبان کے مرنے والے کتے کو بھی شہید کا درجہ دے سکتا ہیں۔ جب ایک فوجی جرنیل امریکہ میں بیٹھ کر آرمی پبلک سکول واقعے کو “سٹریٹیجک کولیژن” قرار دے سکتا ہے۔

جب ایک حاضر سروس لیفٹننٹ جنرل سعید اقبال سی آئی اے کو اسامہ کی رہائش کی معلومات کے بدلے پناہ اور ملین ڈالرز کا انعام پاکر امریکی ریاست سین ڈیاگو میں عیاشی کی زندگی گزار سکتا ہے۔ جب پاکستان کی مسجدوں اور مدرسوں سے جیش محمد کے لوگ افغانستان میں “جہاد” کیلئے چندے جمع کر سکتے ہیں اور فسادیوں کو ٹریننگ دے سکتے ہیں۔

جب 144 بچوں کا قاتل احسان اللہ احسان فوجی چھاؤنی سے بیوی بچوں سمیت بحفاظت ترکی جاسکتا ہے۔ تو عالمی دہشت گرد “اسامہ بن لادن” کو عمران نیازی صاحب “شہید” کا درجہ بھی دے سکتا ہے۔ اس میں کوئی اتنی بڑی بات نہیں

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *