Type to search

تجزیہ سیاست

کرونا وائرس بحران کے دوران لال لال تحریک کا کردار

’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ اور ’جب لال لال لہرائے گا تو ہوش ٹھکانے آئے گا‘ کے نعروں سے مقبول ہونے والی طلبہ تحریک نے بائیں بازو کی سیاست کو اک نئی جلا بخشی۔ یقیناً ہماری اس تحریک نے نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی جمود کو توڑتے ہوئے ان میں ایک نئی انقلابی روح پھونک دی۔ جس کا مظاہرہ طلبہ یکجہتی کے دوران دیکھنے کو ملا جب ملک کے 55 شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اپنا بنیادی حق مانگنے نکلے۔

گذشتہ سال نومبر میں ہونے والے طلبہ مارچ پہ لال لال کیا لہرایا کہ حکمرانوں کے ایوان میں لرزہ طاری ہو گیا تو ریاست نے ہمیشہ کی طرح جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو کچلنے کی سر توڑ کوشش شروع کر دی۔

طلبہ مارچ لاہور کے فوراً بعد ہمارے ساتھیوں پر غداری کے مقدمات بنائے گئے، ہمارے ایک ساتھی عالمگیر وزیر کو یونیورسٹی سے اغوا کرنے کے بعد اس پر بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا۔ اس ریاستی جبر سے ہمارے حوصلے پست نہ ہوئے بلکہ ہم نے یکجا ہو کر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یکے بعد دیگرے بہت سے احتجاج کیے، سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر آواز اٹھائی، تاریخیں بھگتیں، عدالتوں اور جیلوں کے چکر کاٹے۔ ان حالات کے دوران بہت سے ساتھیوں نے مصیبت کی ہر گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا۔

’لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے‘۔ ڈھیروں جہتوں کے بعد بالآخر ہمارے ساتھیوں کو بری کیا گیا۔ عالمگیر وزیر کو تقریباً چھ مہینے جیل میں رکھ کر رہا کیا گیا۔ بہت سے ناقدین جو ہم پہ تنقید کے وار جاری رکھے ہوئے ہیں ان میں سے بہت سے افراد نے کسی بھی جگہ ہمارا ساتھ نہ دیا مگر وہی افراد تنقیدی وار کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔

بے شک نومبر میں ہونے والا طلبہ یکجہتی مارچ پاکستان میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے مل کر منعقد کیا مگر ہمارے نعروں کی مقبولیت کے باعث لاہور اس تحریک کا مرکز بن گیا۔ سوشل میڈیا، ٹی وی انٹرویوز، تقریروں اور تحریروں کے باعث ہم چند ایک طلبہ اس تحریک کاچہرہ بن کر سامنے آئے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پیچھے بہت سے ایسے کردار ہیں جنہوں نے اس مارچ کو کامیاب بنانے میں ہم سے بھی زیادہ اہم اور قلیدی کردار ادا کیا۔

ہماری تنظیم اور سیاسی تربیت کا خاصہ ہے کہ یہاں لیڈر بن کر کوئی نہیں رہنا چاہتا بلکہ ہمارا ہر کامریڈ بحیثیت ورکر مختلف مراحل میں اپنی نظریاتی تربیت حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا نظریاتی سیاسی اصول کی بنا پر ہم تمام ساتھی جو طالب علم نہیں رہے انہوں نے طلبہ تحریک کی قیادت موجودہ حقیقی طلبہ کے حوالے کر دی اور نظریاتی سیاست کی ایک اور سیڑھی چڑھتے ہوئے نوجوانوں، مزدوروں اور کسانوں کی نئی سیاسی تحریک ’حقوقِ خلق موومنٹ‘ سے منسلک ہو گئے۔

جدوجہد جاری تھی کہ اسی دوران ہمارے ساتھی محسن ابدالی کو جبری گمشدگی کا سامنا کرنا پڑا، ہمارے ساتھی عمار رشید سمیت دیگر کامریڈز کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا، سندھ میں ہماری ساتھی سندھو نواز کو ہراساں کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں، بلوچستان میں طلبہ حقوق کی آواز اٹھانے والے طلبہ کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا، کشمیر، گلگت، فاٹا اور دیگر علاقوں سے گاہے گاہے ہمارے ساتھیوں پر ریاستی جبر کی خبریں موصول ہوتی رہیں مگر ہم ڈٹے رہے اور مل کر اس جبر کے خلاف آواز اٹھائی اور بہت حد تک کامیاب ہوئے۔

اسی دوران اپنے محدود وسائل میں تنظیم سازی کا کام آگے بڑھایا۔ وسائل کی قلت کے باعث ہم بہت سی ایسی جگہوں پہ نہ جا سکے جہاں سے ہمیں دعوتیں موصول ہوئیں۔ مگر یہ بھی ہماری تنظیم کا خاصہ ہے کہ ان محدود وسائل میں بھی ہر شخص نے ذمہ داری سے کام لیتے ہوئے تنظیم کا کام آگے بڑھایا۔ جس میں پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو اور حقوقِ خلق موومنٹ کا بڑے شہروں سے نکل کر چھوٹے شہروں میں تنظیم سازی کرنا باعثِ صد افتخار ہے۔

کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے دو دن قبل ہم سب لاہور پریس کلب کے باہر ہمارے ساتھی عالمگیر وزیر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے مگر اچانک لاک ڈاؤن اور شہروں کے بند ہونے کی وجہ سے بہت سے ساتھیوں کو اپنے آبائی علاقوں کی طرف واپس جانا پڑا۔ یہ ایک نظریاتی کمٹمنٹ ہی ہے کہ ہم سب نے اپنے شہروں میں جا کر سیاسی کام شروع کر دیا۔ علاوہ ازیں ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرکزی سیاسی کام کو مزید تیز کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی دوران ہم نے کچھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو تشکیل دیا جن میں ہفتہ وار طلبہ میگزین ’دی سٹوڈنٹس ہیرلڈ‘ کی اشاعت شروع کی گئی۔ بائیں بازو کے نئے جرنل ’پاکستان لیفٹ ریویو‘ کی بنیاد رکھی گئی جس میں تمام سینیئر لکھاریوں کا نظریاتی اور تحقیقی کام شائع کیا جا رہا ہے۔ بائیں بازو کے نظریات کو عوام تک پنچانے کے لئے ایک یو ٹیوب چینل ’مقدمہ‘ کے نام سے شروع کیا گیا جس میں تاریخ، سیاسیات، سماجیات، معاشیات، تھیوریز اور دیگر موضوعات پر باقاعدگی سے لیکچرز دیے جاتے ہیں۔

اس وبا کے بعد جب حکومت نے محنت کشوں اور مزدوروں کی سرپرستی کرنے سے انکار کر دیا تو ہم نے حقوقِ خلق موومنٹ کے زیر سایہ اپنی مدد آپ کے تحت ’لیبر ریلیف کیمپین‘ کا آغاز کیا جس میں نوکریوں سے محروم مزدوروں میں راشن تقسیم کیا گیا۔ اس راشن ڈرائیو کے دوران بہت سے ساتھیوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ دوستوں نے اپنی مدد آپ اور عوامی اپیل کے تحت چندہ اکٹھا کیا۔ لاہور، کراچی، مرید کے، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لیہ، پاکپتن سمیت دیر کئی شہروں کے مزدوروں میں راشن تقسیم کیا گیا۔ (ابھی تک تقریباً پانچ ہزار مزدوروں میں راشن تقسیم کیا جا چکا ہے)۔

دوسری طرف ہمارے طالب علم ساتھی انٹرنیٹ کی سہولیات نہ ہونے کے باعث تعلیم سے محروم طالب علموں کی آواز بنے رہے۔ بلوچستان، فاٹا، کشمیر، گلگت، سندھ اور پنجاب کے بہت سے ایسے علاقے جو انٹرنیٹ، تھری اور فور جی سہولیات سے محروم ہیں، ہمارے شہروں میں رہنے والے طلبہ کی طرف سے آن لائن کلاسز کے نام پر ہونے والے تعلیمی استحصال کے خلاف ایک بھر پور آئن لائن کیمپین کا آغاز کیا گیا۔ پنجاب کی کچھ طلبہ تنظیموں نے عارضی طور پہ آواز اٹھائی اور ہمیشہ کی طرح صرف پنجاب کے طلبہ کے معمولی حقوق منوا کر اپنی راہ ہو لیے مگر اپنے پشتون، بلوچ، سندھی، کشمیری اور گلگتی ساتھیوں کو بھول گئے۔ تاہم، پچھلے دنوں 23 جون کو سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی طرف سے پاکستان بھر کے 35 سے زائد شہروں میں آن لائن کلاسز اور وبا کے ان دنوں میں فیسوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا گیا جسے منعقد کرنے میں پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو نے کلیدی کردار ادا کیا۔

اسی دوران سوشل میڈیا، زوم، کالز اور وٹس ایپ کے ذریعے تنظیم سازی کے عمل کو تیزی سے بڑھایا گیا۔

وبا کی اس صورتحال میں ہمیں بہت عرصہ بعد اہل خانہ کے ساتھ رہ کر پڑھنے کا موقع ملا جس کے باعث خاندانی زندگی کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ میری ذاتی اطلاعات کے مطابق ہمارا کوئی ایسا ساتھی نہیں جس نے ان دنوں کسی کتاب کا مطالعہ نہ کیا ہو، میں خود ان مہینوں میں پندرہ سے زائد کتب مکمل کر چکا ہوں۔

قرنطینہ کے انہی ایام میں کامریڈز کی نظریاتی تربیت کے لئے آن لائن سٹڈی سرکلز منعقد کروائے جا رہے ہیں جس میں بہت سے موضوعات کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالیہ سٹڈی سرکلز میں لینن، ٹروٹسکی، ماؤزےتنگ، روزا لکسمبرگ، امبیدکر سمیت بہت سی شخصیات کے سیاسی کام کو تفصیل سے پڑھا گیا ہے۔ ان سٹڈی سرکلز میں نئے اور پرانے تمام ساتھی بھرپور شرکت کرتے ہیں۔

لاک ڈاؤن کرنے سے بے روزگار ہونے والے مزدوروں کی سرپرستی تو درکنار، حکومت نے اسے کھول کر بھی استحصالی سرمایہ داروں کا محاسبہ نہ کیا۔ ان حالات میں حقوقِ خلق موومنٹ کے تحت مزدوروں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف بھر پور مہم چلائی گئی جس میں ہم نے کچھ کامیابیاں بھی سمیٹیں۔ اس مہم کی بنیاد پر چن ون فیکٹری اور ماسٹر مولٹی فوم کے مزدور اپنی فیکٹریوں سے تنخواہیں لینے میں کامیاب ہوئے۔ ان نامساعد حالات میں حکومت خود روزگار دینے کی بجائے اسے عوام سے چھینتی رہی جس کے تحت سٹیل مل ملازمین کو نوکریوں سے بر طرف کر دیا گیا۔ وبا کے ان حالات میں ہم نے اپنی زندگیوں کی پروا کیے بغیر سڑکوں پر نکل کر ان مزدوروں کے لئے آواز اٹھائی۔

لیبر ریلیف کیمپین، دی سٹوڈنٹس ہیرلڈ، پاکستان لیفٹ ریویو، (یوٹیوب چینل) مقدمہ، ویب نارز، میٹنگز، تنظیم سازی، رابطے اور سیاسی تربیت سمیت تمام اہم سیاسی کام جاری ہیں۔ طلبہ، مزدوروں، کسانوں، خواتین، مظلوم قومیتوں اور بے روزگاروں کے حقوق کے لئے حقوقِ خلق موومنٹ بھر پور میدان عمل میں ہے اور تمام مظلوم آوازوں کو ایک جگہ جوڑنے کے لئے کوشاں ہے۔ لہٰذا ناقدین کا یہ خیال کرنا کہ انہیں کچھ نظر نہیں آ رہا کا جواب یہی ہے کہ شاید انسان وہی دیکھتا ہے جو دیکھنا چاہتا ہے۔ ان تمام کاموں کی تصدیق آپ ہمارے فیس بک پیجز، ٹویٹر اور انفرادی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کر سکتے ہیں۔

ہم ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا اور ان کے بھی تہ دل سے ممنون ہیں جو تنقید کر کے ہماری اصلاح کا باعث بنتے ہیں۔ مگر شاید اب وقت آ چکا ہے کہ ہم تنقیدی وار کرنے کی بجائے گراؤنڈ پہ حقیقی جدوجہد کریں۔ ہماری لڑائی بہت بڑی اور طویل ہے، ہمارا مقصد بڑا ہے اور ہمارا حریف طاقت ور ہے لہٰذا ہمیں دانشمندانہ بحثوں سے آگے بڑھتے ہوئے سیاسی میدان عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے ایک دوسرے کو مضبوط کرنا ہے کیونکہ ہماری جنگ انفرادی نہیں اجتماعی ہے۔ اسے اجتماعی جدوجہد کے ذریعے ہی جیتا جا سکتا ہے۔ اس لئے ہمارا مقصد اس جدوجہد سے جڑے لوگوں کو توڑنا نہیں بلکہ جوڑنا ہونا چاہیے۔

Tags:

1 Comment

  1. ejaz ahmed جولائی 1, 2020

    سٹیل ملز۔۔۔پی آئی۔اے اور ریلویز۔۔۔۔جس طرح عوام کے دکھوں میں اضافہ کر رھے۔۔اور حکومت و ریاست جس بے دردی سے ان کے معاملات چلا رھی۔۔۔یہ سب قابلِ نفرین ھے۔۔اگر یہ سارے ادارے ٹھیک ھونے قابل ھیں۔۔۔تو پہلی ترجیح پہ انکو بیچ دیا جائے۔۔یا بند ضرور کر دیں۔۔اگر اربوں کھربوں کا خسارہ بھی ھو اور عوام کا بھلا بھی نہ ھو۔۔۔تو صرف ملازموں کی فوج ظفر موج کو پالنا عوام کی ذمہ داری نہیں ھونا چاھییے۔

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *