Type to search

بڑی خبر خبریں سیاست میڈیا

بے نامی جائیدادوں بارے سوال پر وفاقی وزیر فیصل واوڈا آپے سے باہر: جواب میں صحافیوں عمر چیمہ، فخر درانی کو نازیبا القابات اور لغو گفتگو

  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا  اپنی بدمزاجی جو اکثر بد تمیزی میں تبدیل ہوجاتی ہے  کے لئے مشہور ہیں۔ ابھی وفاقی کابینہ میں انکی تو تو میں میں کی باز گشت تھمی نہیں تھی کہ وہ نجانے کن جذبات کے زیر اثر  جنگ گروپ سے منسلک صحافیوں  فخر دورانی اور عمر چیمہ سے الجھ پڑے ہیں۔ اور جنگ جیو کے مالک میر شکیل الرحمان کے لئے بھی نازیبا ٹویٹس کی ہیں۔

ٹویٹر پر ہوئی اس جھڑپ میں فیصل واوڈا نے فخر دورانی اور عمر چیمہ کو نا مناسب الفاظ اور لغو القابات سے پکارا ۔ ان صحافیوں  نے بھی وفاقی وزیر کو جواب دیئے تاہم انہوں نے پیشہ ورانہ حدود نہیں پھلانگی، بلکہ ان سے چند سوالات کے جواب مانگے۔   یہ جنگ  ٹویٹر پر اس وقت شروع ہوئی جب فیصل واوڈا نے دی نیوز سے وابستہ تحقیقاتی صحافی فخر دورانی کی ٹویٹ پر نا زیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے رد عمل دیا۔ فخر دورانی نے اپنی خبر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا۔ فیصل واوڈا کی امریکی شہریت بارے خبرچھپے6 ماہ ہوگئے۔ECP اس معاملےکودبا کربیٹھ گئی۔ سپریم کورٹ کےفیصلے کی روسے یہ نا صرف نااہل بلکہ انکےخلاف قانونی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ اسکےباوجودبھی یہ6 ماہ سےسرکاری خزانےسےتنخواہ لینے کیساتھ اہم وزارت سنبھالےہوئےہیں۔ یہ کیسا نظام ہے؟

 

جس پر فیصل وواوڈا نے انہیں  مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ چھوٹے! پہلے اُس بزدل ،فراڈ ، چور ، جنگ جیو کے مالک میر شکیل الرحمن کے پاس جیل جاؤ اور اُسے بتاؤ کہ جن چیزوں کو روکنے کے لئے وہ میرے خلاف تم لوگوں سے بے بنیاد خبریں لگوا رہا تھا وہ سب شواہد میں جمع کر چکا ہوں اور اب بے تابی سے میر شکیل کے جیل سے باہر آنےکا انتظار کر رہا ہوں۔

جبکہ اس کے جواب میں فخر دورانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا منسٹر صاحب ادھر ادھر کی باتوں کی بجائےمیرے چند سوالوں کا جواب دے دیں۔ویسےیہی سوال آپ سےعدالتیں اور الیکشن کمیشن بھی پوچھ رہی ہیں۔ کیا آپ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امریکی شہری نہیں تھے؟ کیا آپ کی لندن میں 9 پراپرٹیز تھی جو آپ نے کبھی ڈکلئیر نہیں کیں؟ کیاآپ نے2018 میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم سےفائدہ نہیں اٹھایا؟ کیا آپ نےکراچی ڈیفنس میں اپنےملازم کےنام پر پلاٹس نہیں رکھےہوئےتھے؟ کیا آپ نےسندھ ہائی کورٹ کواپنی تعلیمی ڈگری امریکہ اورکاغذات نامزدگی میں پاکستانی ظاہر نہیں کی؟ سوال تو اوربھی بہت لیکن آپ جواب دینےسےراہ فرار اختیارکرتےہیں۔

جس کے جواب میں فیصل واوڈا نے  کہا کہ لفظ چھوٹے سے سمجھ نہیں آیا؟ جتنا تیرا قد اور اوقات ہے اُتنا جواب دے دیا۔جنگ جیو کے فراڈمالک میر شکیل کےجیل سے آنے کا انتظار ہے اُسکی ذاتی گھٹیا حرکتیں اور دیگر سب شواہد دونگا- میں نے میر ابراہیم کے منہ پہ اُس کو اُس کے باپ کی اوقات بتائی۔ میں میر شکیل کی طرح بزدل نہیں-

اس پر عمر چیمہ نے رد عمل دیتے ہوئے ٹویٹ میں لکھا کہاگر نیب آزاد ہوتا تو میر شکیل الرحمان کی بجائے فیصل واوڈا جیسے لوگ اندر ہوتے جسے آج تک کسی نے بلا کر نہیں پوچھا کہ تم پر جو الزامات ہیں (اور انکے دستاویزاتی ثبوت موجود ہیں) انکا جواب ہی دے دو یہاں الٹی گنگا بہتی ہے 

تو فیصل واوڈا نے عمر  جواباً ٹویٹ پر لکھا اوئےچیمے!!میر شکیل کے ٹشو پیپر- پہلے بھی استعمال ہوئے اب پھر؟؟ پہلے بھی انہی حرکتوں کی وجہ سے پبلک سے سر مُنڈوایا اور جوتے کھائے- کیا پھر سر پہ بال آگئے؟؟ بزدل میر شکیل سے پوچھ جو بیماری کا بہانہ کر کے جیل سے ہسپتال چھپ کے بیٹھا ہوا ہے! اُسی کمرے میں جس میں نواز شریف چھپا تھا۔

وفاقی وزیر کے اس انداز کی سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں نے بھرپور مذمت کی ہے اور ان سے پوچھا ہے کہ اپنی پراپرٹیز اور نیشنلیٹی کے حوالے سے سوالات کے جوابات دیں۔ معروف صحافی مطیع اللہ جان نے لکھا کہ ایک وزیر ایک صحافی پر انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے  ہوئے تشدد کی حمایت کرتا ہے اس پر اس حوالے سے طنز کرتا ہے بلکہ اس کو یاد کراتا ہے۔ کیا شرمناک بات ہے۔
وجییہہ ثانی نے لکھا کہ سوال کی چوٹ سے گریں گی سب دیواریں۔ یہ سوال اتنا سچ اورکڑوا تھا کہ معززوزیرصاحب ایک مخصوص حالت میں سوشل میڈیا پربدتہذیبی پر اتر آئے۔۔وزیر صاحب اسی طرح کے سوال اور رپورٹنگ کی پاداش میں میرشکیل جیل میں ہے۔ یہ سچ کی ادنیٰ قیمت ہے۔ان کےساتھ جو کریں گےوہ کرلیں گے۔ پہلے سوال کا جواب دیں۔
اسی طرح دیگر صحافیوں کی جانب سےبھی اس رویئے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔  یاد رہے فیصل واوڈا اپنے رویئے کی وجہ سے پہلے بھی تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ یہ وہی وزیر ہیں جو اے آروائی کے شو میں فوجی بوٹ لے آئے تھے اور انہوں نے  اسے میز پر رکھ کر نیا تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔
Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *