Type to search

بلاگ تجزیہ

یہ ایاز امیر پر ’22 سالہ جدوجہد‘ کا عقدہ کب کھلا؟

سیاسی حکومتیں کامیاب اور ناکام ہوتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔ کسی حکومت سے عوام زیادہ ہی عاجز آ جائیں، تو آئین میں وسط مدتی انتخابات کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت بھی اس وقت مشکل صورتحال سے گزر رہی ہے۔ اب وہ مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام، اس پر تو بہت بحث ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں بھی ہوتی رہے گی۔ لیکن جن لوگوں پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے، سوال تو ان سے کیے جانے کی ضرورت ہے۔

آج ایک اور محترم صحافی پر عمران خان کی سیاست کا عقدہ اچانک کھل گیا ہے۔ اب سے چند ماہ قبل تک پاکستان بنانے سے لے کر 2018 انتخابات تک کی تمام برائیوں کی جڑ وہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کو قرار دیتے ہوئے وہ عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتے تھے کہ عمران خان ہی ان برائیوں کو ٹھیک کر سکتا ہے، وہی کرے گا عوام کے ان تمام دکھوں کا مداوا۔ یہ صاحب تو 2013 میں ہی اسلام آباد ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے میں پہنچ گئے تھے کہ جب ان کا نعرہ تھا کہ سیاست نہیں، ریاست بچاؤ۔ 2014 کا دھرنا ہوا تو یہ اپنے اخباری کالمز اور ٹی وی تجزیوں میں اس کی افادیت اور اہمیت ہر خاص و عام پر واضح کرتے دکھائی دیے۔

یہ صاحب کوئی اور نہیں بلکہ دنیا نیوز سے منسلک سینیئر تجزیہ نگار محترم ایاز امیر صاحب ہیں جو کہ کسی زمانے میں ڈان اخبار میں ہفتہ وار کالم لکھتے تھے اور پاکستانی ترقی پسندوں کے لئے ایک پیر و مرشد کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن پھر کچھ سیاسی وجوہات کی بنا پر انہوں نے اپنا قبلہ ایسا تبدیل کیا کہ جمہوریت ہی سے متنفر نظر آنے لگے۔ 2013 اور 14 کے دھرنے تو ایک طرف، موصوف نے دنیا اخبار کے لئے اردو کالم لکھنا شروع کیے اور اسی چینل کے پروگرام تھنک ٹینک کا بھی حصہ بن گئے۔ اس پلیٹ فارم سے بھی انہوں نے عمران خان کی بھرپور حمایت کی اور 2018 انتخابات میں تحریک انصاف کو تنہا حکومت بنانے کے قابل اکثریت نہ ملی تو یہ تک کہہ ڈالا کہ جب سب کچھ عمران خان کے لئے کیا ہی جا رہا تھا تو کم از کم اسے حکومت بنانے کے لئے اکثریت تو دلوا دیتے۔ ایسی مانگے تانگے کی حکومت کا کیا فائدہ کہ وہ بیچارہ بلیک میل ہی ہوتا رہے؟ یعنی عشقِ عمران خان میں موصوف نے جمہوریت کے بنیادی اصول یعنی شفاف انتخابات کو پامال کرنے پر اس کے خلاف آواز اٹھانا تو درکنار، اس کے حق میں آواز اٹھائی بلکہ افسوس کا اظہار کیا کہ مزید دھاندلی نہیں کی گئی۔

مگر آج دو سال بعد وہی ایاز امیر ہیں جن پر یہ حقیقت اچانک آشکار ہو گئی ہے کہ عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد کا آغاز سیاستدانوں کی مخالفت اور بعد ازاں جنرل مشرف کی تین سال مسلسل حمایت کی صورت میں ہوا تھا۔ اور یہ بھی انہیں حال ہی میں پتہ چلا ہے کہ عمران خان نے مشرف کا ساتھ تب چھوڑا جب ان کے من کی مراد وزارتِ عظمیٰ انہیں نہ مل سکی۔ لکھتے ہیں: درخشاں سیاسی ماضی ذرا ملاحظہ ہو۔ جنرل پرویز مشرف نے اشارہ کیا تو اس کے ساتھ ہو لیے، اس امید پہ کہ مقتدرہ کو ان کی ضرورت پڑے گی اور وزارتِ عظمیٰ کا تاج ان کے سر سج جائے گا۔ ایسا نہ ہوا تو انداز بدل گئے اور جمہوریت کا عَلم تھام لیا۔

سونے پہ سہاگہ یہ کہ ایاز امیر صاحب جس نواز شریف حکومت کے خلاف پانچ، چھ سال مسلسل لکھتے اور بولتے رہے، وہ انہیں اب پتہ چلا ہے کہ صاف شفاف انتخابات سے وجود میں آئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ 2013کے انتخابات نواز شریف نے سویپ کیے، کم از کم پنجاب میں‘‘۔ پھر انہیں یہ احساس بھی غالباً کچھ زیادہ شدت سے ستانے لگا ہے کہ 2014 کے دھرنے میں ’’علامہ صاحب کی ڈوریں کھینچی جا رہی تھیں اور جنابِ عمران خان بھی His master’s voice بنے ہوئے تھے‘‘۔ اور یہ تو وہ ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں اور ایک بار پھر لکھا ہے کہ ’’واقفانِ حال جانتے ہیں کہ الیکشن مہم میں جو مدد پاکستان تحریک انصاف کی ہو سکتی تھی وہ کی گئی‘‘۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے موصوف اس شر میں سے کسی خیر کی توقع لگائے بیٹھے تھے۔ کیسے سادہ لوح تھے، شر میں سے خیر کی توقع لگائے بیٹھے تھے۔

ایاز امیر صاحب کچھ عرصہ قبل ہی تائب ہو گئے تھے۔ حالیہ دنوں میں حسن نثار صاحب کا بھی ایک ویڈیو پیغام منظرِ عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے اپنی ’غلطی‘ کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے بڑے خوبصورت انداز میں تحریکِ انصاف سے جان چھڑاتے ہوئے لکھا کہ میں تو آئیڈیلسٹ آدمی ہوں، عمران خان میرے معیار پر پورا نہیں اتر سکا۔ میں تو عمران خان سے بھی پہلے سے ملک میں ایک تیسری قوت کے لئے جدوجہد کر رہا ہوں۔

دیگر حضرات میں ہارون الرشید اور اوریا مقبول جان ہیں جنہوں نے عمران خان اور تحریک انصاف کی حمایت سے کنارہ کشی اختیار کی ہے۔ یہ دونوں حضرات شد و مد کے ساتھ عمران خان کی میڈیا مہم چلاتے رہے تھے۔ اوریا مقبول جان صاحب نے تو اس سلسلے میں مذہب کو بھی خوب بیچا تھا اور ہارون الرشید صاحب تو وہ ہیں جنہوں نے 1996 سے عمران خان کو قوم کا مسیحا بنا کر پیش کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔

سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان صاحبان کو یہ خیال اب کیوں آ رہا ہے؟ ایاز امیر نے لکھا ہے کہ عمران خان سے امیدیں کچھ زیادہ وابستہ کر لی گئی تھیں۔ درست۔ لیکن یہ امیدیں بندھوانے میں آپ لوگوں کے کردار کو کیسے فراموش کیا جائے، حضور؟ یہ اصول تو دین کا طے کیا ہوا ہے، کہ حساب کے وقت ترغیب دینے والے سے بھی باز پرس ہوگی۔ پھر چاہے وہ نیکی کی ہو، یا بدی کی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *