Type to search

خبریں سیاست قومی میڈیا

صحافی ہارون رشید کے پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان پر بے بنیاد الزامات، دونوں کو امریکی ایجنٹ قرار دے دیا

پاکستان کے صحافی اور تجزیہ کار ہارون رشید کے حال ہی میں ایف سی کالج سے نکالے جانے والے پروفیسرز پر خلاف بے بنیاد الزامات، پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان کو امریکی ایجنٹ قرار دے دیا۔ عمار علی جان نے بے بنیاد الزامات کے خلاف پیمرا میں رپورٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق عمار علی جان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو کلپ شئیر کیا جس میں ہارون رشید نے ان پر اور پروفیسر ہود بھائی پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ عمار علی جان نے الزامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ان بے بنیاد الزامات پر چینل 92 نیوز کے خلاف پیمرا میں رپورٹ کریں گے۔

واضح رہے کہ نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کے پروگرام مقابل میں گفتگو کرتے ہوئے صحافی و تجزیہ کار ہارون رشید نے کہا کہ (عمار) علی جان صاحب ایک ٹیچر ہیں ایف سی کالج میں، اور ایک صاحب ہیں جو پاکستان کی قسمت میں جو آزمائشیں لکھی گئی ہیں، میں اس سے سخت لفظ نی کہہ سکتا اس کا نام ہے ہود بھائی۔

ہارون رشید نے ان ٹیچرز کو اللہ کا عذاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1985 سے میں دیکھ رہا ہوں یہ (ہود بھائی) پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہیں، انڈیا کے ایٹمی پروگرام پر انہیں اعتراض نہیں ہے۔ کیونکہ یہ نوکر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہود بھائی امریکی سفارت خانے کا نوکر ہے، راشد خان عمران خان کا دوست ہے اس کے پاس وہ ڈاکومینٹ پڑا ہوا ہے، اور وہ دکھاتا نہیں ہے کیونکہ وہ بڑا محتاط آدمی ہے۔

ہارون رشید نے مزید کہا کہ ایف سی کالج ایک امریکی چرچ کے پیسے سے چلتا ہے۔

عمار علی جان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ (عمار) علی جان پی ٹی ایم کے لیے کام کر رہا تھا، پی ٹی ایم امریکیوں نے بنوائی ہے، اور اس کے پیچھے را ہے، اور اس کے پیچھے این ڈی ایس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب امریکی فوج کے ریٹائرڈ افسر پی ٹی ایم کے حق میں سوشل میڈیا پر کمپین چلاتے ہیں۔ وہ (عمار علی جان) پی ٹی ایم کے لیے کام کر رہا تھا اس لیے ایف سی کالج والوں نے نکال دیا۔ کیونکہ طلبہ احتجاج کرتے تھے اور دوسرے استاد احتجاج کرتے تھے، لوگوں کے پتا تھا کہ یہ ریاست کے خلاف ہیں، ہود بھائی تو 1985 سے ریاست کے خلاف کام کر رہا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *