Type to search

خبریں قومی معیشت

پاسپورٹ انڈیکس 2020: دنیا کے کمزور پاسپورٹس کی فہرست میں پاکستان 9ویں نمبر پر

پاسپورٹ انڈیکس کی جانب سے 2020 کی جاری فہرست کے مطابق دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ جاپان کے شہریوں کے پاس ہے جبکہ کمزور ترین پاسپورٹ افغانستان اور عراق کے ہیں۔

پاسپورٹ انڈیکس میں پاسپورٹس کی طاقت کا معیار بغیر ویزا ممالک انٹری کی اجازت کو قرار دیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر جاپان کے شہریوں کو 82 ممالک میں جانے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں جبکہ 34 ممالک میں ویزا آن ارائیول کی سہولت ان کو میسر ہے۔

اس کے بعد نیوزی لینڈ کا نمبر ہے جہاں کے شہری 77 ممالک میں ویزا فری جبکہ 39 میں ویزا آن ارائیول کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔

تیسرے پر فن لینڈ، آسٹریا اور لگسمبرگ مشترکہ طور پر موجود ہیں جہاں کے شہریوں کو 83 ممالک میں ویزا فری جانے کی اجازت ہے تاہم ویزا آن ارائیول کی سہولت صرف 32 ممالک میں دستیاب ہے۔

آئرلینڈ اور جنوبی کوریا کے حصے میں چوتھا نمبر آیا اور ان ممالک کا پاسپورٹ رکھنے والے 81 ممالک میں ویزا فری جبکہ 34 میں ویزا آن ارائیول کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔

اس کے بعد سوئٹزرلینڈ ہے اور سوئس پاسپورٹ کے حامل کو 80 ممالک میں جانے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں جبکہ 35 ممالک میں پہنچتے ہی ویزا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

آسٹریلیا اور ڈنمارک بھی سرفہرست 10 ممالک کا حصہ ہیں، آسٹریلین شہری 76 ممالک میں ویزا فری جبکہ 39 ممالک میں ویزا آن ارائیول کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈنمارک کے رہائشیوں کو 83 ممالک میں ویزا فری جبکہ 31 میں ویزا آن ارائیول سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

اس کے برعکس جن ملکوں کے شہریوں کو سب سے کم ملکوں میں مفت ویزا یا ایئرپورٹ پر ہی ویزا کی سہولت میسر ہے ان میں پہلے نمبر پر افغانستان اور عراق کے شہری شامل ہیں جن کو صرف 26 ملکوں میں ویزا فری یا آن ارائیول کی سہولت حاصل ہے، جبکہ شام کے پاسپورٹ کے حامل افراد صرف 29 ملکوں میں اس سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے پاسپورٹ کے حامل شہری بھی ان میں سے ایک ہیں جنہیں دنیا کے سب سے کم ملک میں یہ سہولت میسر ہے اور سب سے کمزور پاسپورٹ کی فہرست میں پاکستان 9 ویں نمبر پر موجود ہے کیونکہ اسے صرف 33 ملکوں میں مفت ویزا یا ایئرپورٹ پر ویزا دستیاب ہوتا ہے۔ ویسے پاکستان کی درجہ بندی میں کافی حد تک بہتری آئی ہے اس سے قبل یہ کمزور ترین پاسپورٹس میں دوسرے سے تیسرے نمبر پر بھی رہ چکا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *