Type to search

شاعری فیچر نظم

میرا اب دل نہیں کرتا

 

میرا اب دل نہیں کرتا
جینے کو مچلنے کو

یونہی بے پر کی اڑانے کو
دل کو لبھانے کو

کوئی قصہ سنانے کو
میرا اب دل نہیں کرتا

یاروں کا زمانہ وہ
دل کا ٹھکانہ وہ

جہاں کچھ غم نہیں ہوتا
جہاں دل نم نہیں ہوتا

مگر اب جاں بھی جاؤ تو
بھلے سب کچھ بھی لاؤ تو

اب کچھ بھی نہیں ملتا
میرا اب دل نہیں کرتا

وہ محبت کا فسانہ بھی
جہاں دل میں تھی خواہش بھی

شناسا ہو تو ایسا ہو
سنہری شام جیسا ہو

خیالوں کا سکوں بن کر
خوابوں کا جنوں بن کر

کچھ ایسے وہ ملے ہم سے
کہ دکھ بھول جائیں سب

کچھ ایسے وہ سنے ہم سے
کہ سکھ گنگنائیں سب

کچھ اپنی بھی سنائے وہ
کہ دل کھول کر سن لیں

محبت کے وہ سب قصے
گلے شکووں کے سب جھگڑے

مگر کچھ کھو گیا جیسے
نجانے کیا ہوا، کیسے

کہ اب کچھ دل نہیں کرتا
میرا اب دل نہیں کرتا

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *