Type to search

انسانی حقوق بلاگ تجزیہ خواتین

’’شوہرکو  چھوڑ دو!‘‘

پچھلے چوبیس گھنٹے سے سوشل میڈیا پر ایک خبر زور و شور سے گردش کر رہی ہے جس میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک خود ساختہ صحافی، ٹی وی پروڈیوسر نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا قتل کردیا ہے۔ یہ قتل 29 جون کو ہوا تھا اور مقتولہ کی بہن کے مطابق، ان کی بہن ظالمانہ گھریلو تشدد کا شکار تھی. یوں تو قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ابتدائی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے معلوم پڑتا ہے کہ موت گلا دبانے سے ہوئی تھی۔

 

ظلم، تشدد، قتل، خودکشی، یہ کچھ بھی مملکت خداداد میں نیا نہیں ہے۔ سنہ 2018 میں ہونے والی Thompson Reuters سروے کے مطابق پاکستان عورتوں کے لئے دنیا کا چھٹا خطرناک ملک ہے. اس خطرے کی بنیادی وجہ عزت کے نام پہ قتل، ریپ، اور گھریلو تشدد ہے۔

ایسے تمام واقعات جب سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آتے ہیں توعمومی طور پر لوگ اپنی دانست میں، شدید جدّت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لڑکی کو شوہر کو چھوڑ دینا چاہئے تھا۔

 

کیا ہمارے معاشرے میں شوہر کو چھوڑنا اتنا آسان ہے؟

نہیں !

ہمارے معاشرے میں لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اس کی بنیادی تربیت اس طرز پہ کی جاتی ہے کہ اس کو کل کو ‘دوسرے’  گھر جانا ہے. ایسی معاشرتی روایات اور اصولوں پہ پروان چڑھنے والی بچیوں یا خواتین سے یہ امید کرنا کہ انہوں نے شوہر کے غلط روّیے کے باعث ‘گھر کیوں نہیں چھوڑ دیا؟’ انتہائی بیوقوفانہ امید ہے.

بچیاں بچے، کم عمری سے ہی اپنے آس پاس کے ماحول کو اپنانے لگتے ہیں جہاں وہ عورت کو چولہے چکّی میں پستا، باپ سے پٹتا، گھر والوں سے کوسنے سنتے، بزرگوں سے صبر کی تلقین اور ہر طرح کی قربانی کا واعظ سنتے ہیں۔ خصوصی طور پی لڑکیوں کو شروع سے جھکاؤ سکھایا جاتا ہے. بھائی چھوٹا بھی ہو تو رعب دبدبہ بڑوں والا ہوگا. باپ کا غصہ ٹھنڈے پانی کی طرح پی جانے کا حکم ہوگا کیوںکہ وہ تمہاری دال روٹی کا مالک ہے. حد تو حد، اگر کوئی اولاد اپنے ساتھ ہونے والی کسی قسم کی زیادتی، بشمول جنسی، کی شکایات کردے تو اس کو خاموشی کا درس سکھایا جاتا ہے۔

 

ہم نے تو اپنے بچوں کو بھی وہ محفوظ گھر نہیں دیا جہاں انکی چیخ سنی جا سکے، جہاں انہیں رشتوں پر اعتبار ہو کہ وہ ان کے حقوق کا استحصال نہیں کریں گے۔ ایسے ماحول میں ہم ایسا کیسے سوچ لیں کے صدیوں کی روایات اور بوسیدہ اقدار کو ایک کمزور عورت للکارنے کی جرّت کرے گی۔

لڑکیوں کو یہ تو سکھایا جاتا ہے کہ انہوں نے دوسرے گھر جانا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ اس گھر سے واپس بھی آسکتی ہے. ہم انہیں ان کی ذات کی نفی سکھا کر ، شادی قائم رکھنے کے بہترین سماجی ٹوٹکے بتاتے ہیں. حالانکہ بتانا یہ چاہئے کہ یہ نکاح نامہ ہے، تمہاری موت کا پروانہ نہیں ہے۔

طلاق، جو کہ ایک مذہبی اور معاشرتی حق ہے، اس کو کالا دھبّہ بنا کر اپنے والدین ہونے کا بھرپور ثبوت دیتے ہیں. اس تربیتی طرز کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر لڑکیاں گھر واپسی کا راستہ نہیں چنتی ہیں، بلکہ زندہ یا مردہ بیاہتا قبر میں دفن ہوجاتی ہیں.

پہلی اور سب سے اہم وجہ ہے مضبوط تعلیم!

گھر میں اگر 4 بچے ہوں تو سب سے زیادہ تعلیم کا دھیان لڑکے کی جانب جاتا ہے. اسے مہنگے سکول میں ڈالا جاتا ہے، پروفیشنل ڈگری دلوائی جاتی ہے، کیوںکہ اس نے بوڑھے ماں باپ کا سہارا بننا ہوتا ہے. دوسری جانب لڑکیوں کو زیادہ سے زیادہ BA پاس کروا کر شادی کے پلو میں بندہ دیا جاتا ہے کہ تم اب اپنے شوہر کی ذمے داری ہو.

جب لڑکی نے دنیا داری تو سیکھی ہو لیکن دنیا نہ دیکھی ہو تو اس کے اندر خود اعتمادی کا شدید فقدان ہوتا ہے اور یوں وہ مکمل طور پر شوہر کے رحم و کرم پر ہوتی ہے. ماں باپ اپنی بیٹیوں کو تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم کرکے چار ثواب زیادہ نہیں کمائیں گے.

اب آپ کہ ذہن میں آئے گا کہ پھر پڑھی لکھی عورتیں کیوں پرتشدد زندگی سہتی ہیں؟ اس کا جواب ہیں آپ اور آپ کا بنایا ہوا کھوکھلا سماج!

سال 2020 ہے، لیکن پاکستانی ڈراموں میں ابھی بھی طلاق ایک انتہائی ممنوع فعل ہے. حالیہ ہی ایک ڈرامے میں دکھایا جارہا ہے کیسے ایک لڑکے کی ماں اپنے پڑوس کی لڑکی پر پہلے الزام لگاتی ہے کہ وہ اس کے معصوم بیٹے کو پھنسا رہی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہے کہ “میرے بیٹے کے لئے طلاق یافتہ ہی رہ گئی ہے؟”

جب لاکھوں لوگ پرائم ٹائم میں بیٹھ کر یہ ڈرامہ دیکھیں گے تو ان کے ذہن طلاق یافتہ عورت ایک گالی کی صورت ابھرے گی.

آج بھی برصغیر میں شادی بیاہ، بچے کی پیدائش جیسے خوشی کے موقعے پر طلاق شدہ اور بانجھ عورتوں کو دلہن سے فاصلے پر رکھا جاتا ہے کہ کہیں اس کا ‘منحوس’ سایا نو بیاہتا پر نہ پڑ جائے. سننے میں یہ باتیں زمانہ قدیم کی لگتی ہیں لیکن یہ ہیں اسی جدید اکیسویں صدی کی باتیں.

سماجی بے دخلی یا در بدری ایک بہت بڑی وجہ ہے جو عورتوں کو بے وفا،ظالم،یا فحش شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبورکردیتا ہے. ہمارے سماج میں مرد کتنا ہی ناکارہ کیوں نہ ہو، اسکا نام عورت کے ساتھ ہونا چاہئے.

اگر کوئی عورت طلاق یا شوہر سے علیحدگی سوچ بھی لیتی ہے تو اس کے دل میں طرح طرح کے خوف ڈالے جاتے ہیں. جیسے…..

— بھابھی کے ساتھ رہو گی؟

— بوڑھے ماں باپ خاندان میں کیا منہ دکھائیں گے؟

— چھوٹی بہنوں کا رشتہ کیسے ہوگا؟

— بچے اکیلے پال لو گی؟

— کل کو بیٹی کے سسرال والوں سے کیا کہو گی؟

— اکیلی عورت کی کوئی عزت نہیں ہوتی. سوچ لو؟

قصّہ مختصر، طلاق کو تیسری عالمی جنگ کا درجہ دے دیا جائے گا. اس بیچاری عورت کو لگے گا اگر اس نے طلاق لی یا دی تو حضرت اسرافیل صور پھونک دیں گے.

اب آپ ہی بتایئں، کون عورت اپنے سر یہ گناہ لے گی؟

اکثر لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ پسند کی شادی کا نتیجہ ہمیشہ برا ہوتا ہے جیسا لاہور کے صحافی کی بیوی کے ساتھ ہوا.

اصل میں یہ تمام باتیں ایک سوچی سمجھی، سماجی منصوبہ بندی ہے جس کا بنیادی مقصد عورت کو بندی نہیں بلکہ باندی بنانا مقصد ہے.اس منصوبہ بندی کا سہرا یوں تو پدر شاہی کو جاتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میں عورت کا کردار بھی ہے جیسے ماں، ساس، نند، بہنیں،خالہ، پھوپھی، جیٹھانی، دیورانی، بھابھی، اور محللے والیاں بھی……یہ وہ زنانہ رشتے ہیں جن میں مردوں سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے تو وہ نظام میں رہ کر نظام کا ساتھ دیتی ہیں.

ایسی کوئی تحقیق نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ شادی اگر والدین کی مرضی سے ہوگی تو کامیاب ہوگی. کامیابی کا انحصار آپ کی پسند پر نہیں ہے. شادی والدین کی پسند سے ہو یا اپنی پسند سے، واپسی کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہونا چاہئے اور کھلے دل سے ہونا چاہئے.

پاکستان میں سماجی فقدان کے ساتھ ہی حکومتی منصوبہ بندی بھی ناکام ہے. ملک میں تقریبآ ایک تہائی کیسز گھریلو تشدد سے جڑے ہوتے ہیں لیکن بمشکل صرف ١-٢.٥% ہی قانونی انجام کو پہنچتے ہیں. ہمارے ملک میں عورتوں کے لئے پناہ گاہوں کی کمی ہے اور جو ہیں وہاں وہ محفوظ نہیں ہیں.

اس کے ساتھ ہی قانونی چارہ جوئی ایک انتہائی مشکل کام ہے. ہمارے معاشرے میں تھانہ کچہری کرنا شرمندگی کا باعث بنتا ہے بھلے قصور سامنے والے کا ہو. ہم بیٹی پر چار لات گھونسیں برداشت کرلیں گے لیکن تھانے جا کر رپورٹ نہیں کریں گے. جو رپورٹ ہو بھی گئی، تو ایک بار پھر قانون آپ کو تاریخوں کے لئے دوڑائے گا.

مضبوط قانونی نظام اور سماجی و اخلاقی حمایت  کی کمی ہماری عورتوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ دنیا چھوڑ دیتی ہیں لیکن ‘شوہر کا گھر’ نہیں چھوڑتی ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *