Type to search

انصاف بلاگ تجزیہ حکومت

جے آئی ٹیز کی حقیقت: ڈفلی والے ڈفلی بجا

جے آئی ٹیز کی ڈفلی ہر طرف بج رہی ہے۔ عزیر بلوچ لیاری، کراچی میں ایک دہشت کی علامت تھا۔ اُس پر قتل سمیت سنگین الزامات عائد ہیں۔ اُس کے نیٹ ورک کو توڑنے اور آئندہ ایسے نیٹ ورکس کو جڑ پکڑنے سے پہلے قلع قمع کرنے کے لیے ایک ایسی جے آئی ٹی تشكيل دی گئی، جس میں مرکزی حکومت، صوبائی حکومت، پولیس و انٹيلى جنس اداروں کی نمائندگی تھی۔ سات اراکین پر مشتمل اس جے آئی ٹی کی رپورٹ بوجوه منظر عام پر نہ آسکی۔

سیاسی پارٹیوں کے الزامات در الزامات سامنے آتے رہے۔ چند ٹی وی اینکرز کی خصوصی توجہ اس پر مرکوز رہی ۔ تاہم، على زیدی، وفاقی وزیر نے بجٹ سیشن کے دوران اس رپورٹ کے حوالے سے پیپلز پارٹی پر تابَڑ توڑ حملے کرنے شروع کر دیے۔ پیپلز پارٹی کے مَرَنجاں مَرَنج سابق وفاقی وزیر نوید قمر بھی آپے سے باہر ہو گئے اور اپنا کوٹ اتار کر دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ علی زیدی کی تقریر کی تان اس بات پر ٹوتی رہی کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ، پیپلز پارٹی کی سرکاری سرپرستی میں دہشت پھیلاتا رہا اور لیاری گینگ کے ذریعے بھتہ بٹورتا رہا اور لوگوں کی جائیدادوں پر قبضے کرتا رہا۔

علی زیدی کے خیال میں ان کے پاس جے آئی ٹی کی اصل رپورٹ ہے، جبکہ سندھ حکومت جس رپورٹ کا حوالہ دیتی ہے، وہ نامکمل ہے اور اس میں کانٹ چھانٹ کرکے پیپلز پارٹی، آصف زرداری اور فریال تالپور کو صاف بچا لیا گیا ہے۔ ایسے میں علی زیدی یہ تک نہیں بتا سکے کہ کون انہیں “خاکی لفافے” میں مبینہ JIT رپورٹ فراہم كر گیا۔ الٹا، اپنا گند سپریم کورٹ کو صاف کرنے کے لیے دعوت دے ڈالی کہ وہ یہ تعین کرے کہ ان کی جے آئی ٹی رپورٹ درست ہے یا وہ رپورٹ “مقدس” ہے جو ترجمان سندھ حکومت نے پریس کو جاری کی ہے۔

اس پس منظر میں لاتعداد سوالات نے جنم لیا ہے۔ عوام میں جے آئی ٹی کا چرچا نواز شریف کے خلاف پاناما سکینڈل کی تحقیق کے لیے قائم کردہ جے آئی ٹی سے ہوا۔ عدالت عظمیٰ نے آئین کے تفویض کرده اختیارات زیر آرٹیکل 184(3) کو استعمال میں لاتے ہوئے، جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم صادر فرمایا۔ ہر اہم کیس کی تحقیق و تفتیش کے لیے جے آئی ٹی کو جزو لاینفک سمجھا جانے لگا۔ اس کی findings کو پتھر پر لکیر گردانا جانے لگا۔ قبل اس کے کہ ان اہم ترین سوالات کا جواب ڈھونڈا جائے کہ آیا JIT کی تشکیل آئین و قانون کے متصادم ہے؟ یا یہ کس قانون کے تحت معرض وجود میں آتی ہے؟ نیز یہ بھی کہ کیا جے آئی ٹی کسی کو گناہ گار یا معصوم قرار دے سکتی ہے؟، JIT کے ماخذ و تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالنا از بس ضروری ہے۔

پاکستان میں جے آئی ٹی یا Joint Investigation Team کا خیال یورپین یونین میں رائج قوانین سے مستعار لیا گیا معلوم ہوتا ہے۔ جہاں مختلف يورپين ممالک، اپنے اپنے ملکوں میں بیک وقت ایسے جرائم کی تفتیش کر سکتے ہیں، جن کا ارتکاب دو یا دو سے زیادہ ملکوں میں کیا گیا ہو۔ ایسی صورتوں میں دونوں ملکوں کی تفتیشی ایجنسیاں اپنی اپنی تفتیش کو دوسرے سے شیئر کرتی ہیں اور JIT وجود میں آتی ہیں۔ پاکستانی فوجداری فقہ میں JIT کا پہلی دفعہ تذكره 2013 میں ہوا، جب انسداد دہشت گردی ایکٹ،1997 میں ایک ترمیم لائی گئی، جس کے توسط سے جے آئی ٹی متعارف کروائی گئی۔ متعلقہ دفعات   11EEE اور 11EEEE ہیں۔

خیال رہے کہ اس ترمیم کے مطابق جے آئی ٹی Joint Interrogation Team کا مخفف ہے۔ اگر ان دفعات کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوگی کہJIT کی تشكيل کا حکم، حکومت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے، مقرره وقت کے لیے کرسکتی ہے، بالخصوص جہاں معاملہ گنجلک ہو اور گہری تحقیق کا متقاضی ہو اور جہاں ایک SP سے کام نہ چل سکتا ہو۔ اس ترمیم کے تحت JIT کے قیام کا فرض اولین حقائق تک رسائی، تحقيق و تفتيش اور اس ملزم سے پوچھ گچھ ہے، جس پر دہشت گردی کا سنگین الزام عائد ہے اور وه تین مہینے تک امتناعی حراست (preventive detention) میں رہ سکتا ہے۔ پوری ٹیم اس سے investigation کرے گی تاکہ معاملہ کی  تہہ تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔ JIT ایک SP اور مختلف سول ایجنسیوں کے افسران پر مشتمل ہو گی۔ اس ترمیم کی رو سے جہاں فوج نے کسی کو حراست میں لیا ہو، وہاں فوجی افسران یا عسکری ايجنسی کے افسران بھی JIT کا حصہ ہوں گے۔

یہاں پر اس امر کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ انسداد دہشت گردی کا پورا قانون، جیسا کہ اس کے عنوان سے ہی صاف ظاہر ہے، دہشت گردی کے جرائم بیخ کنی کے لیے بنایا گیا ہے۔ مزید برآں، اس میں دہشت گردی کی جامع اور مفصل تعریف بھی درج ہے۔ اس قانون کے علاوه، پاکستان میں رائج قوانین JIT کے متعلق مکمل طور پر خاموش ہیں۔ کوئی بھی شخص، جو قانون کی ہلکی سی بھی سوجھ بوجھ رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ کسی بھی قانون کو اُس وقت تک بروئے کار نہیں لایا جاسکتا، تاآنکہ قانون سازوں کے متعلقہ قانون بنانے کے مقاصد کو بھی ملحوظ خاطر نہ رکھ لیا جاوے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قانون کے الفاظ میں کوئی ردوبدل کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی لفظ کا اضافہ یا تخفيف کی جا سکتی ہے۔ اگر JITS کے قیام کو مندرجہ بالا ترمیم کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو جو بھی JIT اس ترمیم کے دائرہ کار میں نہیں آتی، وہ صاف صاف غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ غیر آئینی اس لیے کہ آئين پاکستان کا آرٹیکل 4، تحفظ قانون اور قانون کے مطابق لوگوں کے ساتھ برتاؤ کا حکم دیتا ہے۔ یہ واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ پاکستان میں موجود ہر شخص (صرف پاکستان کے شہری ہی نہیں) کے ساتھ مروجہ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا اور یہی آرٹیکل Rule of Law کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ آئین کا اہم ترین آرٹیکل مخص آرائش ہی کے لیے رہ گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب سابق وزیراعظم، نواز شریف کے خلاف JIT کی تشکیل کا حکم سپریم کورٹ نے صادر فرمایا تو اس بات کو یکسر فراموش کردیا گيا کہ ایسا قدم کھلم کھلا آئین و قانون سے روگردانی ہے اور آنے والے وقتوں میں غیر قانونی اقدام کو قانونی جواز فراہم کرنے کا باعث نہ بن جائے۔ اس فیصلے نے آئین و قانون کی بنیادیں ہلا دیں اور مسلمہ فقہ کو تلپٹ کرکے رکھ دیا۔ تاہم اس کا ایک جواز یہ تراشا جاتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ کوئی بھی direction کسی بھی حکومتی ادارے کو دے سکتی ہے۔ لیکن اس سے یہ امر کہاں مترشح ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نت نئی باڈیز کو بھی تشکیل دے سکتی ہے۔ اگر عدالت عظمی خود یہ سوال اٹھائے کہ (ARU) Asset Recovery Unit کس قانون کے تحت کام کر رہا ہے تو پھر ہر قانون پسند شخص یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوگا کہ کیا سپریم کورٹ کو آئین و قانون سے ماورا کسی وقتی یا مستقل ادارے کو معرض وجود میں لانے کا حق حاصل ہے؟ کیا آئین کا ارٹیکل 184(3) قانون کے تابع نہیں؟ کیا یہ آئین سے مبرا ہے؟ کیا ججز آئین و قانون کی پاسداری کا حلف نہیں لیتے؟ کیا آئین کا آرٹیکل 5 ہر شہری پر آئین سے وفاداری کی پابندی عائد نہیں کرتا؟ اگر JIT کی تشكيل ہی غیر آئینی و غیر قانونی ہو تو JIT کے اکٹھے کردہ ثبوت و شواہد کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ ویسے بھی قانون کے چار مسلمہ اصول ہیں۔ اولاً، جب کوئی عمارت کوکھلی بنیاد پر کھڑی ہو تو وہ دھڑام سے نیچے آ گرتی ہے۔ ثانیاً، جب کوئی چیز براه راست نہ کی جاسکتی ہو، اسے بالوسطہ طور پر بھی سرانجام نہیں دیا جاسکتا۔ ثالثاً، تفتیشی خود ہی جج نہیں بن سکتا۔ رابعاً، چاہے ضابطہ فوجداری، 1898 کی دفعہ 173 کے تحت، پولیس رپورٹ ہو یا JIT کی رپورٹ ہو، کسی شخص کو گناہ گار یا بے گناه قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسا تعين تو صرف عدالت ہی شہادت قلمبند کرنے کے بعد ہی کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے درجنوں فیصلے اس پر شاہد ہیں۔

لہذا، یہ بحث ہی بے کار ہے کہ عزیر بلوچ پر وفاقی وزیر علی زیدی کی قوم اسمبلی میں پڑھی جانے والی رپورٹ درست ہے یا وه رپورٹ مصدقہ ہے، جسے مرتضی وہاب ترجمان سندھ حکومت عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ویسے یہ بات فہم و ادارک سے بالاتر ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران علی زیدی صاحب کو عزير بلوچ کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا جنون کیوں سوار ہوا۔ علی زیدی کے علاوه باقی تقاریر بھی بجٹ سے متعلق كم اور دیگر معاملات سے متعلق زیادہ تھیں۔ اس عمل میں حزب اختلاف نے بھی اپنا پورا حصہ ڈالا۔ کہیں یہ بجٹ اجلاس کے لیے مقررہ وقت کو پورا کرنے کے لیے نورا کشتی friendly firing  کا حصہ تو نہیں۔ بجٹ بغیر کسی نکتے اور شوشے کی تبدیلی کے، شور شرابے میں پاس ہوجاتا ہے۔ دھواں دھار گاڑی گزر جاتی ہے اور اپنے پیچھے چھوڑے سياه دھوے سے عوام کا منہ کالا کر جاتی ہے۔ عوام اپنا سا منہ لے کر رہ جا تے ہیں۔ یہ ہے عوام کو بے وقوف بنانے کی حسین ترکیب۔

اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ JIT پاکستانی قانون میں ایک بدعت ہے۔ JIT کی رپوٹ نہ حرف آخر ہے اور نہ اسے کوئی تقدیس حاصل ہے۔ اس پر محشر اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ حکومت اپنا کام کرے مگر JITS کی آڑ میں اپنا اُلو سیدھا نہ کرے۔ میڈیا کو بھی ہر معاملے میں منصف بنے کا شوق نہیں چُرانا چاہیے۔ جس کا کام اُسی کو ساجھے۔

پس تحریر: جب عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی کے حوالے سے سندھ حکومت کو رسوا نہ کیا جا سکا تو پی ٹی آئی کے جوشیلے وزیر مراد سعید نے عزیر بلوچ کے مجسٹریٹ کے سامنے مبینہ اعترافی بیان کا سہارا لے لیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت میں کوئی ایک بھی شخص اس بات سے آگاہ نہ ہے کہ مروجہ ملکی قانون کے تحت ایسے اعترافی بیان جس میں دیگر افراد کو ملوث کیا گیا ہو، کی اُس وقت تک قانون کی نظر میں کوئی وقعت نہیں جب تک الزام عليہ اشخاص کو ایسے اعترافی بیان دینے والے پر اُسی وقت جرح کا موقعہ نہ دیا جائے۔ اس حیل و حجت کے بعد بھی مجسٹریٹ ٹرائل کورٹ میں پیش ہو کر ایسے اعترافی بیان کو خود پیش نہ کرے اور خنده پیشانی سے جرح کا سامنا نہ کرے۔ یہ اصول آئین کے آرٹیکل 10-A  کے بھی عین مطابق ہے۔ قبل ازیں، اسحاق ڈار کے ایسے ہی اعترافی بیان کو سپریم کورٹ کے ایک دو رکنی بینچ نے حديبيه پیپر ملز کیس میں اُٹھا کر باہر پھینک دیا تھا۔ شاید، موجوده حکومت جسٹس قاضی فیض کی اس جرات راندانہ کو ابھی تک دل سے بھلا نہیں سکی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *