Type to search

بلاگ تجزیہ

پارلیمانی نظامِ حکومت یا صدارتی ۔ ۔ ۔ ایک نئی بحث

دارالحکومت اسلام آباد اور اسکے جڑواں شہر کے کچھ خفیہ گوشوں میں ایک بار پھر صدارتی نظامِ حکوم فضائی برکات کا ذکر سرگوشیوں میں سننے میں آ رہا ہے۔ ان سرگوشیوں کے پسِ پردہ کون ہے یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ یوں کہنے کو تو ہمارے سلیکٹڈ وزیر اعظم ہی اسکے حمایتی نطر آتے ہیں۔  لیکن واقفانِ حال جانتے ہیں کہ صدارتینظامِ حکومت جب جب ملک میں نافذ رہا اس وقت صرف ہمارے ‘مہربانوں’ ہی کی حکومت تھی۔

 

ان صدارتی ادوار کے علاوہ بھی کوئی سول حکومت انکے احکامات کو رد کرنے کی گستاخی کم ہی کرتی تھیں اورجب بھی کسی عوامی رہنما نے ایسی جرأت کی تو اسکا جو حشر ہوا وہ ایک عالم نے دیکھا۔کہنے کو تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایوب خان ہوں، ضیا الحق ہوں یا پرویز مشرف ان سب نے انتخابات کرائے اور بلڈی سولینز کو شامل کر کے یہ تاثرٔ دینے کو کوشش کی کہ یہ عوامی حکومت ہے لیکن سب با خبر ہیں کہ وہ چاہے حکومت ہو یا عدلیہ کس کا حکم بجا لاتی تھیں۔ یہ حکومتیں کتنی با اختیار تھیں یا ہیں اس کے لئے چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

۱۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب ایوب خان سے اختلاف کیا تو بعد میں انکا کیا حشر ہوا؟

۲۔ محمد خان جونیجو نے ضیا الحق سے اختلاف کیا تو انکی وزارتِ عظمیٰ کا کیا ہوا؟

۳۔ میاں نواز شریف نے جب جب اختلاف کیا تو وہ کتنے با اختیار ثابت ہوئے؟

۴۔ ہمارے سلیکٹڈ وزیر اعظم جس وقت لاک ڈاؤن کی شدید مخالفت کر رہےتھے لاک ڈاؤن ہو چکا تھا، اب پوچھا جا

سکتا ہے کہ یہ کس کے حکم پر ہوا؟

جب سے 58-2 بی ختم ہوئی ہے ہمارے ‘مہربانوں’ کو پریشانی لاحق ہونی شروع ہو گئی حالانکہ انہیں پریشان ہونے کی قطعاؑ ضرورت نہیں تھی کیونکہ انکی باجگزار عدلیہ تو موجود ہی ہے جو اپنے آقاؤں کی خوشنودی کیلئے ہر حکم بجا لانے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ اسکی بہترین مثال میاں نواز شریف ہیں جن کو عدلیہ کے ہی ذریعہ رخصت کیا گیا۔ 

اب ہمارے ‘مہربانوں’ کو اٹھار ویں آئینی ترمیم پر تحفظات ہیں کیونکہ اس ترمیم کے ذریعہ صوبوں کو زیادہ پیسہ چلا جاتا ہے جبکہ مرکز کے پاس پیسہ کم ہوتا ہے اور وہ انکی لازوال’ قربانوں’ کا صلہ دینے سے قاصر ہے۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *