Type to search

بڑی خبر خبریں قومی

سی پیک کا منصوبہ اسد عمر سے لے کر عاصم سلیم باجوہ کے حوالے کرنے کی تجویز

اس وقت اگر غور کیا جائے تو تقریباً ہر اہم عہدے کو حاضر سروس یا سابقہ فوجی افسر سنبھالے ہوئے ہے۔ سی پیک کا منصوبہ پاکستان کے لئے گیم چینجر کہلاتا ہے۔ اس منصوبے کی نکیل بھی حکومت نے جنرل (ر) عاصم باجوہ کے ہاتھ میں تھمائی ہے۔ گو کہ وہ وزارت اطلات کے دائرہ اختیار میں بھی اپنا اختیار استعمال کریں گے۔

تاہم، اب سی پیک اتھارٹی کے اثر و رسوخ کو نیا رخ دینے کے لئے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں چیئرمین اتھارٹی کے پاس وسیع ترین اور طاقتور ترین اختیارات ہوں گے۔

ایکسپریس ٹریبیون پر شہباز رانا کی خبر کے مطابق حکومت نے سی پیک اتھارٹی 2020 کے نام سے ایک مجوزہ بل کا ڈرافٹ تیار کیا ہے۔ جس کے تحت بہت سی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ جس میں سر فہرست وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اسد عمر کو چیئرمین جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی سی پیک کے عہدے سے برخاستگی بھی شامل ہے۔ یہ اس عمل کا حصہ ہے، جس کی تجویز اس قانونی مسودے میں دی گئی ہے جس کے تحت وزیر پلاننگ ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کی بجائے چیئرمین سی پیک اتھارٹی ہی جوائنٹ کوارڈینیشن کمیٹی کا شریک چئیرمین ہوگا۔

اس بل میں چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے کو مزید مضبوط کر دیا گیا ہے اور اس کے اختیارات میں بہت حد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئے اختیارات کے تحت مالی وسائل طلب کر سکتا ہے جب کہ ان کا از خود انتظام بھی کر سکتا ہے۔ وہ منصوبہ بندی اور اپنے منصوبہ جات کو عملی جامہ پہنانے کا براہ راست اختیار رکھے گا۔ اور اگر اس سلسلے میں کوئی بھی محکمہ یا افسر سی پیک اتھارٹی کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو چیئرمین سی پیک اتھارٹی اس سے باز پرس کرنے اور اس کے خلاف تحقیقات شروع کرانے کا بھی مجاز ہوگا۔

اس خبر کے مطابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے ماتحت ایک چیف آف سٹاف بھی رکھا جائے گا۔ یہ ایک ایسا عہدہ ہے جس کی اس سے پہلے سویلین سیٹ اپ میں مثال نہیں ملتی۔

اس بل کا مقصد سی پیک اتھارٹی کو وزارت پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کی انتظامی ماتحتی سے نکال کر براہ راست وزیر اعظم کے ماتحت کرنا ہے لیکن وزیر اعظم بھی صرف وہی اختیارات استعمال کر سکے گا جو اس بل میں مجوزہ ہیں۔ جب کہ اس بل کے بعد چیئرمین سی پیک وزیر اعظم کو براہ راست جواب دہ ہوگا نہ کہ پہلے کی طرح وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو۔

اس سے قبل اتھارٹی کا واحد دفتر اسلام آباد میں بنانے کی تجویز تھی مگر اب تجویز کیا گیا ہے کہ اتھارٹی اپنے تمام دفاتر پورے ملک میں بنا سکتی ہے۔ جب کہ اس کی ساخت میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس سے قبل اتھارٹی ایک چیئرمین سی ای او، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آپریشنز، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریسرچ اور چھ ممبران پر مشتمل تھی مگر اب چیئرمین چیف آف سٹاف اور چھ ممبران پر مشتمل ہوگی۔

بظاہر اس پیش رفت میں سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا وژن بھی شامل ہوگا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی خبر میں یہ ضرور کہا گیا ہے کہ مجوزہ بل کے کچھ  ایسے حصے حتمی بل میں شاید حذف ہو جائیں جو وفاقی حکومت کے بزنس رولز سے متصادم ہوں گے۔

بہت سے لوگ اسے پاکستانی فوج کو ایک اور ادارے کا مکمل اختیار دیے جانے کے حوالے سے تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واپڈا، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، پی آئی اے اور ایسے کئی دیگر سرکاری اداروں کی سربراہی کے بعد اب سی پیک بھی مکمل طور پر فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

تاہم، اس ضمن میں دسمبر 2019 میں بھارتی جریدے The Print میں شائع ہونے والی خبر انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس کے مطابق سی پیک کی زمامِ کار عاصم سلیم باجوہ کے حوالے کرنے کی وجہ ہی یہ تھی کہ چینی حکام سی پیک سے جڑے متعدد منصوبوں میں حد سے زیادہ تاخیر پر ناخوش تھے اور بارہا اس کا اظہار بند کمروں میں ہونے والی ملاقاتوں میں کیا جا چکا تھا۔ موجودہ حکومت کے مشیر برائے تجارت اور سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے امریکی جریدے Financial Times کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان پر معاشی دباؤ بڑھا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ چند سالوں کے لئے اس کے کچھ پروجیکٹ مؤخر کر دے۔ ماضی میں مختلف حکومتی وزرا کے بیانات بھی اس حوالے سے موجود ہیں جب کہ وزیر اعظم عمران خان کے ایک اور معاونِ خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ امریکہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ سی پیک پاکستانی معیشت کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہوگا۔

انتظامی اور سیاسی حقائق اپنی جگہ، قرائن یہی بتاتے ہیں کہ سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین عاصم سلیم باجوہ کو لگائے جانا، جو کہ اس وقت پاک فوج کے ترجمان تھے جب اس منصوبے کو شروع کیا گیا، اور اب ان کو تفویض کیے جانے والے مجوزہ اختیارات میں چینی حکومت کا بھی عمل دخل ہونا ممکن ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *