Type to search

خبریں سیاست

پروموشن یا سلیکشن؟: 6 سینئر افسران ہونے کے باوجود ریلوے حکام نے ایک جونئیر افسر کا نام وزیر اعظم کو بھیج دیا گیا

 

 

 

ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد اسد علی خان جونیجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد کے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے سوال برائے سی ای او کی تقرری کیلئے 6افسران کے نام شاٹ لسٹ کرنے اور اہل سینئر افسران کی موجودگی کے باوجود وزیراعظم کو جونیئر افسر کے نام کی سمری بھیجنے، سینیٹر مشاہد اللہ خان کے 31اکتوبر 2019کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے تیز گام کے متاثرین کی امداد، 9جون 2020سے اب تک ریلوے حادثات کی تفصیلات کے علاوہ کوئٹہ تفتان اور سبی ہرنائی ریلوے ٹریک کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات پر رپورٹ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ میرے علم میں بات آئی ہے کہ محکمہ ریلوے نے سی ای او کی تقرری کیلئے 6افسران کو شارٹ لسٹ کیا گیا اور سینئر افسران کی موجودگی کے باوجود ایک جونیئر افسر کا نام سمری میں وزیراعظم کو بھیجاگیا ہے. کیا وہ قانونی تقاضے پورے کرتا ہے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے کہ کیا یہ پرموشن ہے یا سلیکشن ہے اور وزیراعظم کس اختیار کے تحت اسطرح کی پرموشن کر سکتے ہیں کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس کی وضاحت پیش کی جائے۔
قائمہ کمیٹی نے تیز گام کے حادثے کے شکار ہونے والے متاثرین کے لواحقین کو ابھی تک امداد نہ دینے پر سخت برہمی کا اظہارکیا. اراکین کمیٹی نے کہا کہ بتایا جائے تیز گام حادثہ کا شکار ہونیوالے لواحقین کو امداد دینے کا اعلان کس نے کیا تھا اور یہ بھی  بتایا جائے لواحقین کو 47ملین روپے کی ادائیگی کب ہوگی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر حکومت نے متاثرین کو امداد دینے کا وعدہ کیا تھا تو وہ پورا کیا جائے اور آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو رپورٹ دی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت ریلوے کو قائمہ کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم کو بھجوانے کی ہدایت کر دی۔
قائمہ کمیٹی کو 9جون 2020سے اب تک ہونے والے ریلوے حادثات کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 9جون سے اب تک 14ریلوے حادثات ہوئے ہیں جن میں 22افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کوئٹہ تافتان ٹریک جب سے بنا ہے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔سی پیک منصوبہ میں دوبارہ اسکی فزیبلئٹی تیار کی گئی.

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *