Type to search

احتجاج تعلیم خبریں خواتین قومی

بیکن ہاؤس یونیورسٹی میں طلبہ پر ذہنی تشدد اور ہراساں کیے جانے کا انکشاف

سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بک پر بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی ایک طالبعلم کی جانب سے کی گئی ایک طویل پوسٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بیکن ہاؤس یونیورسٹی میں طلبہ کو ہراساں کیا جاتا ہے اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی حفصہ حق نامی طالبعلم نے فیس بک پر اپنی ایک طویل پوسٹ میں بتایا کہ بیکن ہاؤس یونیورسٹی میں ایک خاتون پروفیسر کی جانب سے انہیں کس طرح ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ہراساں کیا گیا۔

سائیکالوجی کی طالبعلم حفصہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے شعبہ سائیکالوجی کی ڈین ڈاکٹر روہی خالد نے انہیں یونیورسٹی میں گریجویشن کے چوتھے سال میں شدید ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا اور ہراساں کیا۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ڈاکٹر روہی خالد کلاس میں مجھے تمام غلط حوالوں کے لیے بطور مثال پیش کرتی تھیں اور دوسرے طلبہ سے کہتی تھیں کہ بڑے ہو کر ایسے نہ بننا، اور میرے ہر کام کو تنقید کا نشانہ بناتی تھیں۔ یہاں تک کہ میری تربیت پر بھی سوال اٹھاتی تھیں اور غیر ضروری طور پر امتحانات میں میرے نمبر کم کیے جاتے تھے۔

انہوں نے لکھا کہ ڈاکٹر روہی خالد نے طلبہ کو ذہنی تشدد کا نشانہ بنا بنا کر ان کی ذہنی صحت کو متاثر کر دیا ہے اور تمام طلبہ ان کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔

حفصہ نے ڈاکٹر روہی خالد کے حوالے سے مزید بتایا کہ ایک امتحان میں انہوں نے مجھے 25 میں سے 21 نمبر دیے اور کلاس میں کہا کہ اس نے سب ٹھیک لکھا ہے لیکن میں نے اس کی لکھائی کی وجہ سے 4 نمبر کم کیے ہیں۔

انکشافات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے حفصہ نے بتایا کہ میں نے بطور سائیکالوجی طالبعلم کے اپنی نصابی سرگرمیوں کے سلسلے میں یونیورسٹی میں چند سال قبل خودکشی کرنے والی ایک طالبعلم لڑکی پر ریسرچ شروع کی تو مجھے ڈاکٹرروہی خالد نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ میں نہیں چاہتی کہ اس لڑکی کے بارے میں کوئی سوچے بھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ملک کے دیگر بڑے تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ کو ذہنی تشدد، ہراساں اور جنسی ہراساں کیے جانے کے حوالے سے خبریں سامنے آئی ہیں۔

Dr. Ruhi Khalid, the Dean of Institute of Psychology from Beaconhouse National University BNU Beaconhouse School System…

Posted by Hafsah Haq on Thursday, July 16, 2020

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *