Type to search

تجزیہ دہشت گردی سیاست مذہب

کیا پاکستان میں داڑھی کے ڈیزائن کے علاوہ کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا؟

جولائی 15 کو مسلم لیگ نواز کی رکن صوبائی اسمبلی رخسانہ کوثر نے پنجاب اسمبلی میں ایک قراردار جمع کروائی۔ اس قرارداد کا متن کچھ یوں ہے:

’’پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ داڑھی مبارک خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سنت ہے اس پر کسی قسم کی ڈیزائننگ وغیرہ سخت گناہ ہے، داڑھی اور سنت مبارکہ کی توہین ہے جو لوگ ڈیزائننگ کرتے ہیں وہ لوگ سنت مبارکہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔

لہٰذا پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ قانون سازی کر کے داڑھی مبارکہ کی ڈیزائننگ کروانے والوں اور متعلقہ حجام کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘‘

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی افواج نے قبائلی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوں میں مختلف آپریشنز کر کے دہشتگردی کا خاتمہ کیا ہے۔ اس ضمن میں پنجاب کی انسداد دہشتگردی محکمے کی خدمات کو سراہا نہ جانا زیادتی ہوگی۔ اور یہ بھی کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کم از کم رخسانہ کوثر نامی یہ غیر معروف ایم پی اے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی خاطر بندوق کا سہارا نہیں لے رہیں، اس لئے ان کو دہشتگرد کہنا مناسب نہ ہوگا۔ لیکن اس حقیقت کا بیان لازمی ہے کہ طالبان کی آمد پر افغانستان اور پاکستان کے قبائلی و دیگر علاقوں میں بھی سب سے پہلے حجاموں ہی کی شامت آئی تھی۔ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں حجاموں کو طالبان کے خطوط موصول ہوئے جن میں انہیں دھمکیاں دی گئی تھیں کہ اگر داڑھی کے ساتھ وہ کچھ کیا گیا جس سے رخسانہ کوثر صاحبہ کو مسئلہ ہے تو ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جائے گا۔ ان دھمکیوں کے بعد ان بیچاروں نے ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا کہ ہم نے علما سے اس حوالے سے مشاورت کی ہے اور اس کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ہم ایسی کوئی تراش خراش میں حصہ نہیں لیں گے کہ جو طالبان اور ان کے ہمنوا علما کے لئے قابلِ قبول نہ ہو۔

داڑھی کوئی ایسا معاملہ نہیں جس پر گذشتہ 1400 برس میں کوئی بات چیت نہ کی گئی ہو۔ ہر دور میں اس قسم کے مباحث سامنے آتے رہے ہیں اور ہر دور میں ہی علما ان معاملات پر طالبان والے دلائل بھی دیتے رہے ہیں اور معتدل نظریات کے حامل بھی رہے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا داڑھی پر اتنا سخت نظریہ رکھا جا سکتا ہے کہ اس میں تراش خراش کروانا نہ صرف گناہ بلکہ سنت کی توہین قرار دے دیا جائے؟

معتدل عالمِ دین جاوید احمد غامدی کا اس حوالے سے ماننا ہے کہ داڑھی کے حوالے سے کوئی ایسی قدغن نہیں لگائی گئی جس کی تشریح اس انداز میں کی جائے جیسی محترمہ نے اپنی قرارداد میں کی ہے یا جو طالبان اور دیگر دہشتگردوں اور انتہا پسند گروہوں کی تشریح ہے۔

ان کا استدلال ہے کہ سنت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ چیز جو اپنی نوعیت میں دینی ہو۔ مثلاً نماز، روزہ یا حج وغیرہ جو کہ ظاہر ہے کہ ایسے rituals یا مذہبی رسومات ہیں جن کے بارے میں کوئی دو رائے ہو نہیں سکتیں کہ یہ دینی عبادات ہیں۔ اس زمرے میں تو داڑھی نہیں آتی۔ دوسری طرح کی سنت وہ ہوتی ہے جس کے بارے میں رسول اکرمؐ نے خود بتایا ہو کہ یہ سنت ہے۔ مثلاً سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانے کی تلقین اگر آپؐ خود سے نہ کرتے تو ہمیں کبھی پتہ نہ چلتا کہ یہ سنت ہے یا اس پر عمل ضروری ہے۔ جب آپؐ نے واضح طور پر کہہ دیا کہ ایسا کیا جانا چاہیے تو پھر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دینی حکم ہے اور اس پر عمل کرنا لازم ہے۔ لیکن اس طرح کا حکم اگر کوئی آیا ہے تو اس کا ثبوت چاہیے ہوگا۔ اور داڑھی سے متعلق چار مستند احادیث ہیں جن میں کہیں یہ حکم نہیں دیا گیا کہ داڑھی لازمی رکھی جائے۔ ہاں البتہ ایسی صورتوں کو ناپسند کیا گیا ہے کہ جہاں کوئی شخص داڑھی مکمل طور پر منڈھوا لے مگر مونچھوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔ ایک موقع پر انصار کو خضاب لگانے کے حوالے سے بھی تاکید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ دیگر اہلِ کتاب جس طرح سے داڑھیاں رکھتے ہیں، آپ کی داڑھیاں ان سے مختلف دکھنی چاہئیں۔ وہاں بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لازماً داڑھی رکھیں۔

جیو نیوز پر چند سال قبل دیے گئے اپنے انٹرویو میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مسلمان رسول اکرمؐ سے انتہائی خاص محبت رکھتے ہیں اور یہ طے ہے کہ آپؐ اور آپؐ سے پہلے انبیا علیہم السلام نے داڑھی رکھی لہٰذا مسلمان آج تک داڑھی رکھتے آئے ہیں اور آئندہ بھی رکھتے رہیں گے لیکن یہ شریعت کے احکامات میں شامل نہیں ہے۔ جو کچھ بھی دین میں شامل ہے، وہ اللہ کے رسولؐ نے بہت واضح انداز میں بیان کر دیا ہے اور داڑھی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا شریعت کے احکام یا دین کے احکام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ آئینِ محبت کے زمرے میں آتا ہے۔ دین اس چیز کو موضوع بناتا ہے کہ ہمیں اپنے بدن کی تطہیر کے لئے کیا کرنا ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص کے داڑھی نہیں ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا جسم کسی بھی طرح سے ناپاک ہے یا نجاست سے پر ہے۔ اسی طرح داڑھی کا ہونا یا نہ ہونا اخلاق کی تطہیر کی بھی کوئی دلیل نہیں۔ داڑھی کا عبادات سے تعلق نہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ حدیث میں تو حکم بہت واضح ہے کہ داڑھی رکھنی چاہیے تو غامدی نے کہا کہ اگر آپ ان احادیث کو غور سے دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ داڑھی رکھنی ہے یا نہیں رکھنی زیرِ بحث ہی نہیں ہے بلکہ بحث یہ ہو رہی ہے کہ داڑھی کیسی ہونی چاہیے کیونکہ اس دور میں داڑھی سبھی رکھتے تھے۔ انبیا علیہم السلام ہمیں تہذیب سکھانے کے لئے آتے ہیں۔ ان احادیث میں آپؐ نے ایسے موضوعات پر بات کی ہے کہ بعض لوگ بڑی بڑی مونچھیں رکھ لیتے ہیں یا پھر داڑھی کو منڈھوا لیتے ہیں اور مونچھوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں، یہ تکبر کی نشانی ہوتی ہے اور تکبر دین میں ایک بڑا جرم ہے اور بعض لوگ اس طرح کی داڑھی مونچھ رکھتے تھے جو تکبر کا اشارہ دیتی تھیں تو اس سے آپؐ نے منع فرمایا۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اپنا سر مکمل طور پر منڈھوا دیتے ہیں، اس سے دین کا کوئی لینا دینا نہیں۔ لیکن آپؐ نے ایک جگہ فرمایا کہ اپنے بال سنوار کر رکھنے چاہئیں تو اس سے یہ معنی نہیں لیا جا سکتا کہ آپ نے سر پر بال لازماً رکھنے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے سر پر بال ہیں تو انہیں بنا کر لوگوں کے سامنے آنا چاہیے۔

اس حوالے سے 2007 میں بننے والی ہدایتکار شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لئے‘ میں ایک مکالمہ اس چیز کو مزید عام فہم انداز میں بیان کر دیتا ہے کہ کوئی شخص جب عشق کی آخری منزل پر ہوتا ہے تو اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنے محبوب جیسا دکھے، جس پر بلھے شاہ نے لکھا کہ رانجھا رانجھا کر دی نی میں، آپے رانجھا ہوئی، سدّو نی مینوں دھیدو رانجھا، ہیر نہ آکھو کوئی یعنی ہیر کی محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ لوگ اسے رانجھا ہی کہیں۔ لیکن یہاں محترمہ چاہتی ہیں کہ زبردستی سرکاری حکم پر محبت کی جائے۔ محبت ایسے نہیں ہوا کرتی۔ یہ انسان کے دل کی کیفیت ہے۔ اسے دلوں کے فیصلوں پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔

اس ریاست کو یوں بھی داڑھیوں سے زیادہ پیچیدہ مسائل درپیش ہیں۔ صاف پینے کا پانی عوام کو میسر نہیں، لوڈ شیڈنگ ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، مہنگائی، بیروزگاری، کرونا وائرس اور نہ جانے کیا کیا۔ ہم اللہ اللہ کر کے اس انتہا پسند سوچ سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں، محترمہ رخسانہ کوثر سے گذارش ہے کہ ہمیں ان غیر ضروری مباحث میں الجھانے کی کوشش نہ کریں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *