Type to search

انٹرٹینمنٹ خبریں

فلموں میں سیکس سین کی شوٹنگ کے دوران اداکاروں پر کیا بیتتی ہے؟:’میں شرمندگی سے بچنے کے لئے شراب پی رہی تھی’

آج کل کی ہالی ووڈ فلموں اور سیزنز میں سیکس کی عکاسی عام ہے۔ یہی اب بالی ووڈ میں بھی رائج ہوتا جا رہا ہے۔ آج کی پاکستانی نسل کو ان فلموں اور سیزنز تک رسائی بھی عام حاصل ہے اور اگر ازراہ مذاق کہا جائے کہ پچھلی نسل ان سے جلن کا شکار بھی کہ ان کے زمانے میں ضیائی دور کا پی ٹی وی ہوا کرتا تھا جس کے ڈراموں میں سیکس کی کل عکاسی دروازے کا بند ہونا صبح کھلنا اور بستر کی چادر پر چند سلوٹیں ہی ہوا کرتا۔

بہر حال ناظرین اس حوالے سے ضرور متجسس رہتے ہیں کہ آیا یہ فلم اور ڈرامہ سٹار یہ سیکس سینز کیسے فلما لیتے ہیں؟ تب انکے کیا جذبات ہوتے ہیں؟ کیا انہیں ایسا کرنا عجیب نہیں لگتا؟ انکے خاندان کی جانب سے انہیں ایسا کرنے پر کس رویئے کا سامنا رہتا ہوگا؟ حتیٰ کہ گوگل پر یہ بھی سوال گردش کرتا نظر آیا کہ مباشرت پر مبنی ان سینز کی عکس بندی کے دوران مباشرت یا سیکس کا عمل اصل میں کیا جاتا ہے؟
ناظرین کی خوش قسمتی کہ ان سب کے بارے میں کہیں نا کہیں کسی اداکار یا اداکارہ نے بات ضرور کر رکھی ہے اور ان سوالات کے جوابات نیا دور نے انہیں کے تجربات اور محسوسات کی روشنی میں اپنے ناظرین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
سییکس کے سین فلمانے کے لئے اب فلم یا ڈرامہ پروڈکشن کریو کے ساتھ موومنٹ کوچ منسلک ہوتے ہیں موومنٹ کوچ کا کام اداکاری اور رقص کے دوران جذبات اور چہرے کے تاثرات اور جسم کی حرکات و سکنات کے درمیان ربط پیدا کرنے میں مدد فراہم کرنا ہوتا ہے اور یہ لوگ سیکس جیسے جذباتی مناظر فلمانے میں اداکاروں کی مدد کرتے ہیں اور جنسی قربت کو پیشہ ورانہ حدوں میں رکھنے اور اس صورتحال سے پیدا ہونے والی جذباتی، شرم ساری اور تناؤ کے لئے کاونسلنگ دینے کا کام بھی کرتے ہیں۔
عام طور پر اداکاروں کو اپنے کردار کے حوالے سے ایک ایک پہلو پر آگاہی دی جاتی ہے اور اس حوالے سے جانتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے اور اس میں انکی رضا مندی شامل ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر امریکی سیزن نارمل پیپل کی دوسری قسط میں میریئن اور کونل پہلی مرتبہ سیکس کرتے ہیں۔
کونل کے بیڈ روم میں دس منٹ کے اس سین میں دونوں کرداروں کو بہت قریب سے دکھایا گیا، یہ ان کے تعلقات میں ایک اہم موڑ تھا۔
سین کے مطابق میریئن اپنا کنوارا پن کھو رہی ہے اور اداکاروں اور ناظرین کے لیے یہ بالکل واضح ہے۔ اس سین کو ناظرین نے اس لیے سراہا کیونکہ اس میں رضامندی کے عنصر کی عکاسی کی گئی تھی۔
بی بی سی کو انٹرویو میں اس سین کی موومنٹ کوارڈینیٹر نے بتایا کہ میں نے بالکل شروع ہی میں دونوں اداکاروں پال میکل (کونل) اور ڈیزی ایڈگر جونز (میریئن) سے پوچھا تھا کہ اس جنسی مواد، عریاں ہونے اور چھوئے جانے سے انھیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔ اور انہیں اس میں مسئلہ نہیں تھا۔
لیکن یہ سب اتنا سادہ بھی نہیں اور کئی اداکاروں کو یہ سب کرنا بہت مشکل لگتا ہے۔ اور اس تناؤ کو مٹانے کے لئے وہ مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ ٹرو بلڈ سیزن کی اداکارہ لزی کلپان نے انکشاف کیا کہ انہیں اس سیزن کے لئے ایک سیکس سین فلمانا تھا۔ وہ اس قدر تذبذب کا شکار تھیں کہ انہوں نے اس سب سے بچنے کے لئے دبا کر شراب پی اور سیٹ پر پہنچ گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اس حوالے سے شدید دباؤ کا شکار تھیں کہ انہیں پورے کریو کے سامنے برہنہ ہونا پڑے گا۔

وہ کہتی ہیں کہ صبح سات بجے کا وقت تھا میں میک اپ روم میں برہنہ کھڑی ووڈکا چڑھا رہی تھی اور میک اپ آرٹسٹ گھٹنوں پر جھکے میرے کولہوں پر میک اوور کر رہا تھا۔ یہ سب بہت قربت پر مبنی تھا۔ مجھے سب کے سامنے برہنہ جانا تھا یہ خوفناک تھا۔ بہت خوفناک۔
فور ویڈنگ اینڈ فیونرل کے سٹار ایچ گرانٹ اس حوالے سے واضح ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں سیکس سین کرتے ہوئے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ عام طور پر سب یہ جواب دیتے ہیں کہ اتنے لوگ ہوتے ہیں یہ مزیدار نہیں۔ نہیں میں تو جنسی حظ اٹھاتا ہوں اور جنسی طور پر فعال ہوجاتا ہوں۔
مشہور امریکی برطانوی ادارکاہ سیینا ملر نے اپنی فلم لو بائی نائٹ میں سیکس سین کے حوالے سے کہا کہ انکے ساتھ اداکار انکے بھائی جیسے ہیں تو سیکس سین اتنا مشکل نہیں لگا۔
مشہور اداکارہ کیٹ ونسلٹ کو سیکس سین کرنا بہت برا لگتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب آپ صبح اٹھیں اور آپ کو معلوم ہو کہ آپ نے برہنہ ہو کر سب کے سامنے کسی قریب اجنبی شخص کے ساتھ سیکس سین فلمانا ہے تو اس سے برا کوئی احساس نہیں ہوسکتا۔
ڈیلی میل یو کے مطابق ادراکارہ اینا پیکوین نے ٹرو بلڈ میں متعدد ساتھی اداکاروں کے ساتھ سیکس سین فلمائے ہیں۔ جبکہ ان سیز کو فلمانے والے ہدایتکار انکے شوہر سٹیفن میور تھے جنہوں نے انکے ساتھ فلم میں کام بھی کیا ہے۔ انکے شوہر بتاتے ہیں کہ سیکس سین شوٹ کرتے ہوئے وہ اپنی بیوی کو بطور اداکارہ بتاتے تھے کہ انہیں سین میں حقیقت کا گمان پیدا کرنے میں کہاں کیا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اداکار کو بتاتے تھے کہ انہیں کیا حرکات و سکنات درکار ہیں۔ اور جسم کا کونسا حصہ چھوا جانا چاہئے۔
ایسی بھی کہانیاں ہیں کہ جب اداکار یہ سین فلماتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ حدود سے باہر نکلے اسی طرح اداکاروں کو سیکس سین سے پہلے دوران اور بعد میں نفسیاتی سہارے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم ان میں سے اکثر اداکار اس بات پر متفق ہیں کہ معاشرتی حدوں کے پار جا کر ہی وہ سراہے جانے کے قابل عظیم فن پارے تشکیل دے سکے ہیں جس کی انہیں دنیا نے داد دی ہے

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *