Type to search

انسانی حقوق انصاف تجزیہ

یہ داغ داغ اجالا

خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق جنہیں پندرہ ماہ قبل نیب کی حراست میں دینا پڑا اور 17 مارچ 2020 کو ایک مختصر حکم کے ذریعے سپریم کورٹ نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ، اس کی تفصیلی وجوہات سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ نے 18 جولائی کو جاری کیں۔ میڈیا کو اس کی خبر 20 جولائی کو ہوئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 87 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ ، ان چیده چیده فیصلوں میں شامل ہوگا ، جنہیں عدلیہ کے ماتھے کا جھومر کہا جا سکے گا۔
    اگر ایک جملے میں اس فیصلے کو سمیٹا جا سکے تو یہ سیاسی شطرنج کی بساط بچھانے والوں ، پیٹنے والوں، سیاسی بونوں کو قد آور بنا کر ملک وقوم پر مسلط کرنے والوں کا مرثیہ ہے ، ایک دلدوز چیخ ہے، شخصی آزادیوں کی ایک تمنا ہے اور قوم کے لیے باوقار انداز سے جینے کے لیے ایک روڈ میپ ہے۔
    کچھ سالوں سے یہ چلن ہو چکا ہے کہ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان اپنی سوچ و نتائج فکر کے اظہار کے لیے کسی معروف مصنف ، كتاب یا دانشور کا سہارا لیتے ہیں ۔ صاحبان بصیرت فیصلے کے آغاز سے ہی اس کے تیوروں کا جائزہ لے لیتے ہیں ۔ گویا لفافہ دیکھ کر خط کے مضمون کو جان جاتے ہیں اور بسا اوقات پہلا پیراگراف ہی حاصل کلام ہوتا ہے ۔
   فیصلے کا آغاز انگریزی مفکر ، جان سٹورٹ مل کی شہره آفاق کتاب On Liberty کے ان الفاظ سے ہوتا ہے ۔ انگریزی الفاظ یوں ہیں :
“A state which dwarfs its men in order that they may be more docile instruments in its hands even for benefit purposes– will find that with small men no great thing can really be accomplished.”
اگر اس کا ترجمہ اس کی روح کے ساتھ کیا جائے تو وہ کچھ یوں ہوگا:
” اگر کوئی ریاست اپنے شہریوں کو حقیر / کمتر بناتی ہے اور ان کی قدرومنزلت اس لیے کم کرتی ہے کہ شہری سرجھکائے رہیں اور اس کے مقاصد و منصوبوں میں مزاحم نہ ہوں ، تو ایسی ریاست کو جلد یہ معلوم ہو جائے گا کہ چھوٹے لوگوں سے بڑے بڑے کام نہیں لیےجاسکتے یعنی ان کے ذریعے بڑے بڑے منصوبوں کو بروئے کار نہیں لایا جاسکتا”۔
اس ایک قول کے ذریعے یہ پیغام واضح طور پر دیا جا رہا ہے کہ ریاست پاکستان کے اس وقت تک کیا ارادے رہے ہیں اور اگر یہی سوچ کارفرما رہی تو اس کے نتائج بھی وہی نکلیں گے ،جس کا اشاره مغربی مفکر نے کیا ہے ۔
دل نہیں ، تجھ کو دکھاتا ورنہ ، داغوں کی بہار
اس چراغاں کا کروں کیا ، کار فرما جل گیا (غالب)
فیصلے کا دوسرا حصہ ایسا ہے ، جس میں دی گئی observations پر عام بحث مباحثہ ہونا ضروری ہے ۔ اینکر حضرات اپنے اپنے ذوق کے مطابق کچھ پیراگراف کا ترجمہ کرکے اور معنی خیز مسکراہٹ اور کبھی پڑھنے کے انداز سے ناظرین و سامعین کو سمجھانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن اگر فیصلے کے اس حصے کو پرده اخفاء میں ہی رہنے دیا گیا یا احتیاط کا دامن تھامتے ہوئے ، مطیع الله جان کے واقع سے سبق لیتے ہوئے ، پہلو تہی کی گئی تو نہ صرف سپریم کورٹ کے درد کا درماں نہیں ہوسکے گا ، بلکہ اس معاشرے کے کھوکھلے پن اور اس کو لاحق موذی امراض کا بھی شافعی علاج نہیں ہوسکے گا۔
    معزز جج صاحبان کسی بھی اشکال کو دور کرنے اور جسد قومی پر لگے کاری زخموں کو دکھانے کے لیے پیراگراف نمبر 66 ، صفحہ نمبر 61 پر یوں رقمطراز ہوئے :
 ” نیب اور اس سے پہلے اسی قبیل کے قوانین ملک میں کوئی بہتری تو نہ لاسکے یا گورننس کے سر چشموں سے تو گند صاف نہ کرسکے ، الٹا ان قوانین کے استعمال سے جسد قومی میں ابتری پیدا ہوئی اور انتشار نے جنم لیا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ ان قوانین کو بنانے اور بروئے کار لانے کا خفی سبب ہی یہ تھا کہ سیاسی مخالفین کے بازو مروڑ کر انہیں سر تسلیم خم کرنے کا خوگر بنایا جاسکے ۔ يا كم از كم وقتی طور پر ہی سہی ، سیاسی مخالفین کو سیاسی منظرنامے سے غائب کیا جا سکے۔ ان قوانین کو بڑی مہارت سے سیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑ اور ان کے اندر نئے نئے گروپوں کی تشكيل کے لیے بھی نیب جیسے قوانین کا ہتھیار استعمال کیا گیا ۔
سیاسی بونوں کا انتخاب کیا گیا ۔ ان کی نشوونما کی گئی ، ان کا ڈھنڈورا پیٹا گیا ۔ اور ان کے قد کاٹھ میں اضافہ کیا گیا ، ممتاز کیا گیا اور طاقت بخشی گئی ۔ ایسے افراد جن کا ماضی داغدار اور مجرمانہ استعداد کار سے مملو تھا ، انہیں ہمارے سروں پر مختلف حیثیتوں میں مسلط کیا گیا کہ وہ ہم پر حکمرانی کریں ۔ اور پھر جو نتائج نکلنا چاہیئے تھے ، وہ نکلے۔
  اسی طرح ایسے لوگوں کو ٹریننگ دی گئی ، مالی امداد فراہم کی گئی ، تحفظ دیا گیا اور ان کی واہ واہ کی گئی ، جنہوں نے معاشرے کو اتھل پتھل کردیا۔ اور پھر یہی افراد اپنے مہربانوں کے خلاف عفریت بن کر ڈٹ گئے ۔ اس دوران گورننس میں بے ایمانی ، بد انتظامی اور بد چلنی کو پوری سرعت اور شدت سے فروغ ملتا رہا اور یہ خرابیاں معاشرے میں پوری طرح رچ بس گئیں ۔ گویا ، الٹی ہوگئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا۔”
متذكره پیراگراف میں بونوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یقیناً سپریم کورٹ کا یہ منشاء نہیں اور نہ چھوٹے قد والوں پر کوئی طنز مقصود ہے ۔ یہاں pygmies سے مراد وہ لوگ ہیں ، جو شیخ رشید کے بقول گملوں کی پیداوار ہیں ۔ جن کا اپنا کوئی قد کاٹھ نہیں ہوتا۔ سیاست میں اور قومی زندگی میں غیر معروف ہوتے ہیں ۔ اور پھر کمپنی ان کی مشہوری کرتی ہے انہیں مقبول بنایا جاتا ہے اور انہیں قوم کے سروں پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ بات جلی نہیں حفی انداز میں کی گئی ۔ مگر جنہیں ذرا بھی فہم و شعور ہے ، ان کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں کہ اشاره كس طرف ہے ۔ میری دانست میں ایوب خان کے دور میں کنونشن مسلم لیگ کا قیام ، ضیاء الحق کے دور میں مجلس شوریٰ کا قیام اور جزل حميد کی فخریہ پیش نظر آئی جی آئی کا قیام ، جس کے ذریعے نواز شریف کو مینڈیٹ دلایا گیا ، اور مشرف کے دور میں ق لیگ کا قیام ، سپریم کورٹ کے بیان کردہ معیارات پر پورا اترتے ہیں ۔ اور اگر روئے سخن کسی اور طرف ہے تو یہ فرشتے اور بونوں کے محافظ ہی اس کا راز کھول سکتے ہیں ۔
   سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بار بار اور باندازِ دیگر اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ بھی چاہتی ہے کہ احتساب ہو اور ملک و سوسائٹی کرپشن کے ناسور سے پاک ہو ، لیکن ان ارفع مقاصد کے حصول کے لیے، جو طریقہ کار اختیار کیا جائے ، وہ بھی مبنی برانصاف ہو ۔ وه شفاف ہو اور تیز تر ہو ، مہینوں اور سالوں ، انکوائری ، تفتیش و ریفرنس کی تیاری میں نہ لگا دیے جائیں اور اس کا مقصد سیاسی لوگوں کو زچ کرنا، ان کی وفاداریاں تبدیل کروانا نہ ہو ، سیاسی انجنیرنگ تو اس عمل کے ذریعے بالکل نہ ہو۔ گویا انصاف کا ترازو کسی بھی سٹیج پر ایک طرف لڑھکنا نہیں چاہئیے ۔
” انصاف نہ صرف ہونا چاہیئے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئیے۔”
    نیب ہتھکڑیاں لگا کر جس طرح ملزمان کو ریمانڈ کیلئے بار بار پیش کرتی ہے ، اس پر تو کچھ نہیں کہا گیا ، لیکن اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے کہ ابھی نیب کے پاس ملزم کے خلاف کافی شواہد و میٹریل موجود نہیں ہوتا، جس سے مبینہ ملزم کا مبينہ جرم میں ملوث ہونا نظر آتا ہو۔ پھر بھی نیب ، اُس شخص کو گرفتار کر لیتی ہے، جس سے وہ خود اور اس کے بیوی بچے و خاندان سخت اذیت سے گزرتے ہیں ۔ معاشرے میں بدنامی الگ ہوتی ہے ۔ ٹرائل اور فیصلے سے پہلے کی حراست کو Pre-trial conviction کہا گیا ہے اور یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ قانون میں ایسا کوئی تصور موجود نہیں ۔ نيب کا گرفتار کرنے کا اختیار بھی بے لگام نہیں اور احتساب عدالتوں اور ہائی کورٹس کو بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا ہے ۔ اور انہیں یہ کہنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ بھی قدرے آزادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں ۔
   سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں شخصی آزادیوں کا نعمہ اتنی بار اور اتنے تواتر سے آلاپا ہے کہ لگتا ہے کہ عدالت عظمی چاہتی ہے کہ قوم کا ہر فرد اور ہر اداره اس کا حدی خواں ہو جائے اور اسے اس طرح حرز جان بنا لیا جائے کہ معاشرے سے جور و ستم اور ظلم و استبداد کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ باہر پھینکا جائے ۔
   پیراگراف 47 ، صفحہ 51 پر انڈین سپریم کورٹ کے فیصلہ ” سدا رام ساتن گاپا” AIR 2011 SC 312 کے درج ذیل اقتباس کو اس موضوع پر نصاب قرار دیا گیا ہے:
” اگر زندگی میں آزادی نہ ہو تو ایسی زندگی کی کیا آبرو ، حقیقت اور کیا وقار ہوگا ۔ ایسی زندگی تو بے معنی ہوگی ، اپنا مفہوم ہی کھو دے گی اور اس کی کوئی وقعت نہیں رہ جائے گی اور ایسے جینے سے کیا حاصل ہوگا ۔ اسی لیے” آزادی” کو مہذب زندگی کی روح کہا گیا ہے”۔
ٹھیک ٹھیک انگریزی الفاظ یوں ہیں :
“Life bereft of liberty would be without honour and dignity and it would lose all significance and meaning and the life itself would not be worth living. This is why “liberty” is called the very quintessence of a civilized existence”.
پیرا گراف نمبر 47، صفحہ نمبر 53 اس شعر کے ساتھ ختم ہوتا ہے
وہ دیکھ نہ پائے اب تلک
دیکھنا ہم جو چاہتے تھے
  وه کیا تھا ، جس کی اس ملک کے عوام نے آرزو کی تھی ، وہ کونسے آدرش تھے ، جو نشان راہ بھی نہ بن سکے اور جسد قومی کو وہ کونسے مرض لاحق ہوگئے ، جس نے منزل کھوٹی کردی ۔
یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
(فيض احمد فيض)
     عام طور پر عدالت عظمی ایسے سوال اٹھانے سے گریز کرتی رہی ہے ، لیکن اب درد اتنا سوا ہو گیا ہے کہ اگر اس کا درماں نہیں ہوسکتا ، مداوے کی کوئی صورت ہی نہیں ره گئی تو کم از کم چوٹوں ، زخموں ، ناسوروں کا درشن تو کروا دیا جائے – لیجیے ، ایکسرے رپورٹ اور اپنی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ-
صفحہ نمبر 52 ، پیراگراف نمبر 47 طويل بھی ہے اور ثقیل بھی ہے ۔ صرف اس کے ایک حصے کا ترجمہ پیش خدمت ہے:
” آئین میں جن بنیادی حقوق کی گارنٹی دی گئی ہے عوام کو اکثر و بیشتر ان حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ برابری ، منصفانہ سلوک ، تحمل اور جمہوری اقدار پر مبنی اصولوں کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا جاتا ہے۔
اپنی ہی بات کی سچائی پر اٹل یقین (Dogmatism) ، اقربا پروری ، نااہلیت/نکماپن ، رجعت پسندی ، دھوکہ دہی ، مصنوعی شان و شوکت ، خود نمائی ، احساس تفاخر ، مختلف النوع تعصبات اور بدعنوانی/ کرپشن ہماری سوسائٹی کے رگ وپے میں سرایت کر چکے ہیں ۔ بلکہ ان خرابیوں نے سوسائٹی کا بیڑہ غرق کردیا ہے / سوسائٹی ان میں ڈبکیاں کھا رہی ہے ۔
جب کبھی کوشش کی گئی کہ آئین کی حکمرانی ہو ، قانون کی بالادستی ہو تو ایسی ہر کوشش کو پوری قوت سے ناکام بنا دیا گیا ۔ مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات کی علیحدگی Trichotomy of power جس طرح آئین میں وضع کی گئی ہے اور اس کی حدود و قيود کو معین کیا گیا ہے ، اسے پائے حقارت سے پاؤں کے روند دیا جاتا ہے۔ یہی رویہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے حوالہ سے روا رکھا گیا ہے ۔
     نخوت و غرور ، زعمِ پارسائی اور عوام سے بے اعتناعی کا دور دوره ہے ۔ہم اس حال تک زیاده تر اس لیے پہنچے ہیں کہ بار بار براه راست غير آئینی مداخلتيں
Direct unconstitutional interventions
ہوئیں اور غیر جمہوری قوتوں نے من مانی manipulations کیں( اپنا الو سيدها کیا)۔
    ہوس اقتدار اور اپنی ذات کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم آئین کی متعین کرده راہیں گم کر بیٹھے اور ملک کا نظم و نسق چلانے کے لیے سیاست و سیاستدانوں کے لیے political space سمٹتی و سکڑتی رہی۔ صورت حال اس لیے بھی سنگین ہوتی گئی کہ نچلی سطح پر لوکل گورنمنٹ کے قیام سے بھی انکار کیا جاتا رہا۔ یہ فی نفسہ آئین اقدار و کلچر کی شدید نفی ہے۔ ایسا فعل جمہوریت کی روح سے بھی سراسر متصادم ہے ۔ اس طرح غربت وافلاس کو کم کرنے یا ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا بھی ہماری آخری ترین ترجیحات میں شامل رہا۔ اختلاف رائے کو بڑے پیمانے پر کچلنا بھی جمہوریت سے لگا نہیں کھاتا ۔ ایک منصفانہ / عادلانہ اور روشن خیال نظام کا قیام ایک دور ازکار خواب بن کر رہ گیا ہے”۔
   پیراگراف 48 جو صفحہ 53 سے شروع ہوتا ہے ، وه نیب اور اس کے چیئرمین پر براہ راست ایک فرد جرم ہے ۔ یہ چارج شیٹ اگر کسی عام سے کارندے ، اہلکار یا آخری درجے کے مجسٹریٹ پر بھی لگائی جائے تو اُس کی راتوں کی نیند حرام ہو جائے اور وه کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے ، مگر نیب کے چیئرمین وہ صاحب ہیں، جنہیں اپنی قانونی مہارت پر فخر ہے ، جو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھی رہے ، ہائی کورٹ کے جج اور پھر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج (Puisne Judge) بھی رہے ، یعنی وہ آئینی امور و قانونی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
   پیرا گراف 48 کی ابتدا یوں ہوتی ہے:
” موجوده کیس ایک کلاسکل مثال ہے ، جس میں آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کو پاؤں تلے روندا گیا ۔ غیر قانونی طور پر آزادی کو سلب کیا گیا اور انسانی وقار کو یکسر نظر انداز کیا گیا ۔ سارے ہی عرصے پر محیط نیب کا رویہ قانون کو سراسر نظر انداز کرنے کا مظہر رہا ۔Fair Play, equity and propriety کو بھی بالکل ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا ۔”
   لگتا ہے کہ کوئی شخص سپریم کورٹ کو یہ باور نہیں کروا سکا کہ چیئرمین نیب ، نہ صرف ایک پولیس آفیسر کے چشم و چراغ ہیں ، بلکہ انہوں نے خود اپنے کیرئر کا آغاز ایک پبلک پراسیکیوٹر  کی حیثیت سے کیا۔ جو ان دنوں پولیس کا ہی ایک ذیل شعبہ / ڈیپارٹمنٹ ہوا کرتا ہے ، کوئی چاہے بھی تو اپنے وجود میں رچی بسی خوشبو کو کیسے نکال سکتا ہے ۔ پرانی عادتیں بدلی نہیں جا سکتیں ۔
(Old habits die hard.)
ایسے میں موصوف سے قانون کی پنجہ آزمائی کروانا اور ان سے انصاف کی توقع کرنا ایسے ہی ہے کہ اونٹ پہاڑ کے نیچے ضرور آئے گا۔ جو نیب کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں یا چیئرمین کو بھڑکا کر غیرت دلا کر انہیں استعفا پر آماده کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، وه اپنی توانائیوں کو بچا کر کسی مفید کام میں لائیں۔ بہتوں کا بھلا ہوگا ۔
    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں احترام آدمیت و تکریم آدم Dignity of man کو بنیادی حق قرار دیا ہے ۔ یہ آئین کا آرٹیکل(1) 14 ہے ، اور آرٹیکل a) (2) 4) میں بھی اس کا ذکر ہے ۔ فیصلے کے تناظر میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ جب نیب یا کوئی بھی اداره ( پولیس ، ایف آئی اے وغيره) کسی کو گرفتار کرتی ہے ، اس کے ہاتھوں میں زنجیریں پہنا کر عوام اور میڈیا میں اُس کی تذلیل کی جاتی ہے، عوام کی نظروں میں اس کی عزت و شہرت کو داغدار کردیا جاتا ہے اور پھر اسے مہینوں اور سالوں بغیر ٹرائل کے پابند سلاسل ركھا جاتا ہے تو اس شخص پر تو جو بیتی ہے ، وہ تو سمجھتا ہی ہے ، مگر اس دوران اُس کے بیوی بچے جس ناقابل بیان اذیت سے گزرتے ہیں اور روزگار چھن جانے سے ان پر جو قیامت گزر جاتی ہے ، اس کا احساس نیب و دیگر ادارے کیوں نہیں کرتے۔
    سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ ہر کیس میں ملزم کو گرفتار کرنا کیوں ضروری ہے ۔ صرف اس لیے کہ اس پر کوئی الزام لگ گیا ہے ۔ الزام کی نوعیت اور اس کے لیے ضروری شواہد کی فراہمی کے بغیر ہی تفتیش اور نیب کا چیئرمین اپنی انا کی تسکین کے لیے کیوں کر گرفتاری کا حکم دے سکتا ہے ۔ کیا چیئرمین نیب گرفتاری کے اختیار کو arbitrarily من مرضی سے اور بلا روک ٹوک استعمال کر سکتا ہے؟ جواب نفی میں ہے ۔
اگر ملزم کی پندرہ ماہ کے بعد ( جیسا کہ اس کیس میں ہوا) ضمانت ہو بھی جاتی ہے یا ریفرنس quash ہو جاتا ہے۔اور ملزم بری ہو جاتا ہے۔ اس کے گزرے دنوں کا حساب کون دے گا ؟
بقول غالب
کی میرے قتل کے بعد، اُس نے جفا سے توبہ ہائے
اُس زوُد پشیماں کا پشیماں ہونا
کیا کوئی بھی compensation اس کی تلافی کرسکے گی ۔ جواب يقينا نفی میں ہے ۔
    میرا ایک سوال معزز جج صاحبان سپریم کورٹ سے ہے ۔ اگر ایک معاملہ ان کے سامنے آگیا ، جسے وہ خود اختیارات کے ناجائز استعمال کا کلاسیکی کیس قرار دیتے ہیں اور یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ گرفتاری ومراست سراسر ناجائز تھی تو پھر کیا انہیں ایک قدم آگے بڑھ کر چیئرمین نیب اور ہر شخص کے مستقبل کا بھی خود ہی فیصلہ کردینا نہیں چاہیئے تھا ، جو اس گھناونے کھیل میں ملوث ہے؟
    سپریم کورٹ کے پاس اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ چیئرمین نیب دیگر کیسوں میں یہی حرکت نہیں کرتے۔ سپریم کورٹ جب خود فرما رہی ہے کہ سیاسی تقسیم کے ایک طرف کے لوگوں پر تو نیب اپنے دانت تیز کرتی اور پنجے گاڑتی ہے اور دوسری طرف اُس کی نظر ہی نہیں جاتی تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ نیب ظلم وستم ڈھانے کا ایک قانونی انتظام ہے اور حکومت وقت کے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال ہوا ہے ، ہوتا رہا ہے اور اگر سپریم کورٹ نے مخص نشاندہی ہی پر اكتفا کیے رکھا تو یہ ماتم کسی اور کیس میں کرنے کے لیے تیار رہیئے ۔
     خدارا ، وقت کا پہیہ رکے گا نہیں اور نہ کاتب تقدیر ، ہماری تقدیر بدلے گا ۔ جب تک نيب چیئرمین اور متعلقین کو misconduct پر سپریم جوڈیشل کونسل نہ صرف برطرف کرے ، بلکہ متاثرین کو کہا جائے کہ وہ چیئرمین نیب و دیگران کے خلاف اربوں روپے سے damages suit دائر کریں ۔ اور عدالتوں کو ہدایت کی جائے کہ ٹرائل کورٹس و ہائی کورٹس چھ ماہ کے اندر اندر فیصلہ واپیل نمٹا دیں۔
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
(فیض احمد فیض)
  سپریم کورٹ اپنے پرانے فیصلوں پر بھی نظرثانی کرے کہ ایسے دعوی جات ، صرف اس وقت تک دائر ہو سکتے ہیں، جب ٹرائل اختتام پذیر ہو جائے اور یہ ثابت ہو جائے کہ پراسکیوشن بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اور بد نیتی سے شروع کی گئی ، جس کی وجہ سے مدعی / مدعيان كو جیل کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں ۔ جب اسٹیٹ کے ادارے خود منصوبہ بندی سے انسانی حقوق چھین لیں اور کسی کو 15 ، 15 ماہ تک بلا جواز محصور رکھ سکيں اور مقصد ان کی آواز کو دبانا اور کچلنا ہو تو ، قانون کو بھی اپنے پیمانے بدلنے ہوگے ۔
     اگر ایک بار چیئرمین نیب کو  اربوں روپے دینے کا فیصلہ صادر ہو گیا تو پھر دیکھتے ہیں کہ کتنے مائی کے لعل اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں ۔
      تلقین کا وقت گزر چکا ، اب حساب عمل کا وقت ہے ۔ بچا سکتے ہیں تو ڈوبتے جہاز کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے، اپنی پوری قوت و استعداد استعمال کر ڈالیے ، آنے والی نسلیں آپ کی احسان مند و سپاس گزار ہونگی ۔
      آئین کا آرٹیکل 14 ، احترام آدمیت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے ۔ آدم سجود ملائکہ ہے ، وه الله تعالی کا شاہکار ہے۔ عام آدمی جس طرح طرح در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے اور جس طرح اس کے ساتھ پولیس ، پٹواری ، تحصیلدار ، واپڈا ، سوئی گیس اور حکومت کے ان گنت محکموں کے حکام پیش آتے ہیں اور جس طرح اس کی توہین وتزليل کی جاتی ہے ، اسے ذہن میں رکھیں تو آئین میں اسے بنیادی حق قرار دینا ایک سنگین مذاق لگتا ہے ۔ہسپتالوں میں کوئی اسے پوچھتا نہیں ۔ اس کے لیے تو بڑے شہروں کو چھوڑ کر کوئی Public Graveyard بھی نہیں ماتحت عدالتوں میں اُس کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں نہیں ، وه سارا دن برآمدوں میں کھڑا رہتا اور اپنی قسمت کو کوستا ہے ۔
    ویسے ہائی کورٹس میں بھی تو چند ایک کورٹس کو چھوڑ کر اس کے بیٹھنے کے لیے کوئی انتظام نہیں ۔ بڑے بڑے کمروں پر مشتمل عدالتی کمروں کو تو تالہ لگا ہوتا ہے ۔ اور اُسی رو میں موجود کوئی جج صاحب ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے عدالت لگائے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ سائلین تو رہے
 ایک طرف ، Officers of Court ، وکلاء کے بیٹھنے کے لیے بھی جگہ نہیں ہوتی۔ ابھی تو انصاف دینے والوں کو انصاف کی ضرورت ہے۔ جسٹس قاضی عیسی کی شکایت تو سطح آب ہے ۔
      کسی بھی شہر میں چلے جائیں ۔ وہاں کے تاجروں اور شہریوں کے لیے کوئی ٹائلٹ نہیں اور کہیں کسی صاحب ثروت نے یہ انتظام کر ہی رکھا ہے تو اندر صفائی کا کوئی انتظام نہیں ۔ پبلک کے لیے پینے کے پانی کا انتظام نہیں ہوتا۔
   یہی حال بسوں ، ویگنوں کے اڈوں پر ہے ۔ ریلوے اسٹیشن تو شیخ رشید کی جاگیر ہیں اور جاگیردار تو ویسے بھی حقوق عطا کرنے پر يقين نہیں رکھتے ۔
    گورنمنٹ سکولوں میں جہاں ٹیچر پڑھانے سے زیاده اپنی قسمت كوس رہا ہوتا ہے ۔ وہاں بھی خال خال ہی کوئی ٹائلٹ ہوگی ۔ کس کس طرف اشاره کیا جائے ۔ آوے کا آوه ہی بگڑا ہوا ہے ۔
    دھتکارے ہوئے عوام کو احترام آدمیت کی لوری سنانا آخر کہاں کا انصاف ہے ؟ یہ تو زخموں پر نمک چھڑکنے والی بات ہوئی نا ؟ اگر عدالت عالیہ و عظمی کے جج صاحبان صرف اسی ایک آرٹیکل کی حدود و قیود کا تعین کر سکیں اور اس پر سختی سے عملدر آمد کروا سکیں تو راوی اگر چین نہ لکھ سکا ، تو وہ قدرے سکھ کے ساتھ جان جان آفرین کو دے سکے گا۔
    بحث ثميٹنے سے قبل سپریم کورٹ کے فیصلے کے چند چيده چیده قانونی نکات کی نشاند دہی کرنا بے محل نہ ہوگا ۔
سپریم کورٹ نے نیب کے بنائے گئے ریفرنس کی دھجیاں اڑانے کے بعد بار بار یہ سوال پوچھا ہے کہ یہ بات سامنے نہیں آسکی کہ پٹیشنرز کے خلاف کیس کیا تھا ۔
    اگر کوئی شخص 15 ماہ تک حراست میں رہے اور وه اپنے حلقے میں وزیراعظم کے خلاف امیدوار بھی رہ چکا ہو اور وہ vocal بھی ہو اور articulate بھی ہو تو كم از كم 15 ماه تک تو اسمبلی اور اسمبلی سے باہر بھی اس سے جان تو چھوٹ گئی۔ معزز جج صاحبان ، احتیاط اپنی جگہ ، مگر قانون کے طالبعلم ایسے فعل کو بدنیتی کہتے ہیں ۔ اور بدنیتی سے کیا گیا ہر قدم خلاف قانون بھی ہوتا ہے اور اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں بھی آتا ہے۔
       سپریم کورٹ کے حکم میں امین بٹ نامی ایک شخص کا ذکر ہے ، جو اپنے آپ کو partner in crime کہتا ہے ۔ نیب کا چیئرمین ، براه راست شہادت کی عدم موجودگی میں ، جس سے خواجہ برادران کو سزا دلوائی جاسکے ، امین صاحب کو معافی دیتے ہیں اور اسے approver بناتے ہیں اور ایسا دو دفعہ کرتے ہیں۔ دوبار مجسٹریٹ صاحب ، امین بٹ کا بیان ریکارڈ کرتے ہیں اور بقول سپریم کورٹ ، بات اس اقبالی بیان سے بھی نہیں بنتی۔ بدنیتی کا عنصر اس حد تک ہے کہ عام قانون یہ ہے کہ اقبالی بیان زیر دفعہ 164 ضابطہ فوجداری ریکارڈ کرنے سے پہلے ملزم کو یہ بتانا ضروری ہے کہ اگر اس پر کوئی دباؤ ، لالچ یا تحریص ہے تو بیان نہ دے ۔ اور وہ جیسا بھی بیان دے گا ، اس کے بعد اسے پولیس یا نیب کے حوالے نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے جیل بھیج دیا جائے گا ۔ مقصد یہ ہے کہ اقبالی بیان آزادانہ ہو ۔ قانون کا مفروضہ ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ اس بات کو بھی پیش نظر رکھے گا ۔ اس کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے سرے سے بنیادی چیز کو ہی نظر انداز كرديا اور اقبالی بیان کے بعد امین بٹ کو واپس نیب نے حوالے کردیا اور ویسے بھی نیب نے احتساب کو جُل دے کر امین بٹ کا مزید 14/15 دن کا ریمانڈ لے رکھا تھا ۔
      امین بٹ صرف اپنے خلاف اقبالی بیان دیتا تو وه بيان اس کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے ۔ لیکن اگر وہ اپنے بيان کے ذریعے دیگر لوگوں کو ملوث کرنا چاہتا ہے تو یہاں قانون ایک اور تقاضا کرتا ہے کہ co-accused کو بھی طلب کیا جائے ۔ بیان ان کی موجودگی میں ریکارڈ ہو اور co-accused کو اقبالی بیان دینے والے مبینہ ساتھی ملزم پر جرح کا موقع دیا جائے ۔ ایسا اس کیس میں نہیں ہوا اور سپریم کورٹ کو یہ کہنا پڑا کہ نیب کا انحصار اگر امین بٹ کے اقبالی / اعترافی بیان پر تھا تو وه تو سرے سے نہ صرف غیر متعلقہ ہے ، بلکہ قابل ادخال شہادت نہ ہے۔
        یاد دہانی کے لیے، سپریم کورٹ نے ، دیگر کیسز کے علاوه ، حدیبیہ پیپر ملز کیس کا حوالہ بھی دیا ، جس میں اسحاق ڈار کے دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت اقبالی بیان کو سپریم کورٹ نے اسی بنیاد پر مسترد کردیا کہ co-accused کو تو جرح کا موقع ہی نہیں ملا۔ یاد رہے کہ وه فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا تھا ، اُس بینچ کے دوسرے ركن جسٹس مشیر عالم تھے۔
    ” شاملات” اور سٹیٹ لینڈ کے حوالے سے اس فیصلے میں جو کچھ لکھا گیا ، میرے اس پر شدید تحفظات ہیں اور میرا یہ احساس ہے کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے میں صَحِيح‎ طور پر Assist نہیں کیا گیا ۔ اگر اس حصے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو ہاؤسنگ سکیموں کے اندر آجانے والی شاملات زمینوں اور سٹیٹ لینڈ کا تحفظ مشکل ہو جائے گا ۔
    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے آخر میں حبيب جالب کی ایک نظم کا ایک شعر دیا ہے اور اہل پاکستان اور اس کے کار پردازان سے پوچھا ہے کہ
ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا مكن ہے تم ہی کہو
Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *