Type to search

جمہوریت سیاست عوام کی آواز معاشرہ

بلی کو کہاں چھپائیں ہم

جب ہر کوئی مبلغ بن جائے۔ سیاست کرنے لگے۔ صحافت کرنے لگے۔ لکھنے لگے۔ ہر شخص عالم بھی ہو، ڈاکٹر بھی ہو۔ ہر مسئلہ پر رائے زنی کرنا اپنا حق سمجھنے لگے تو سمجھیں کہ سماج ٹوٹ کر بکھر چکا ہے۔ ریاست محض اقتدار کی باندھی بن چکی ہے اور آئین و قانون چند ہاتھوں میں یرغمال ہے۔

ایسی صورتحال کیوں کر پیدا ہوتی ہے؟ جب قیادت کا فقدان ہوتا ہے۔ ریاست کا بیانیہ دم توڑ جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں محض گروہ کی شکل اختیار کر جاتی ہیں اور مقصد صرف اقتدار رہ جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جگہ چھوٹے چھوٹے گروپ، این جی اوز اور انفرادی سطح پر لوگ اپنا اپنا بیانیہ دینے پر مامور کر دیے جاتے ہیں۔

میڈیا کی کوئی واضح سمت نہیں رہتی ہے۔ اخبار، ٹی وی، ریڈیو اور ڈیجیٹل ویب سائٹس وغیرہ پر رائے کے اظہار کی آزادی کے نام ہر قسم کا مواد شائع اور نشر ہوتا ہے۔ بنیادی مقصد اپنے میڈیا کو چلانا اور پیسہ کمانا ہی رہ جاتا ہے۔ سیاسی اقدار، سماج کی تعمیر اور فکری ترقی کے مقاصد مفقود ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورتحال کے بھیانک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ریاست کمزور ہوتی جاتی ہے اور افراد طاقت پکڑتے جاتے ہیں۔ آئین و قانون کی عمل داری برائے نام رہ جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں بے شمار بنتی ہیں۔ جن کا واحد مقصد آئین و قانون سے بالاتر بننے کی خواہش ہوتی ہے۔ سیاسی نظریات مذاق بن جاتے ہیں۔ ملک کا ہر شہری میڈیا مالک بن جاتا ہے اور ہرگھر کا فرد عوامی خدمت کے نام پر این جی اوز بنا کر شوشل ورکر کی شکل میں نوسربازی کرنے پر جت جاتا ہے۔ جگہ جگہ مساجد بنتی ہیں۔ مذہبی تنظیموں کی بھر مار ہوتی ہے۔ مذہب کو ہر معاملے پر بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ مذہب اور مقدسات کا تقدس محض دوسروں کے خلاف استعمال کرنے تک ہی رہ جاتا ہے۔ جس سے جرائم کے نئے نئے طریقے جنم لیتے ہیں۔ اخلاقیات ختم ہوکر رہ جاتی ہیں۔ پیدا شدہ صورتحال اور حالات کی سنگینی کی تشریح ہر روز لاکھوں لکھنے اور بولنے والے مندرجہ بالا سطور کے عین مطابق کر رہے ہیں اور حل بھی تجویز کرتے ہیں۔

زیادہ تر لکھنے اور بولنے والے بتاتے ہیں کہ سب کچھ مذہب سے دوری کے باعث وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ ہر کوئی اپنا خیال ظاہر کرتا ہے کیوں کہ ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ کچھ بھی کہے اور جو دل کرتا ہے بول سکتا ہے۔ یہی رائے کے اظہار کی آزادی ہے۔ تمام تر صورتحال اور معاشی، اقتصادی اور سماجی تنزلی کا سبب فکری زوال پذیری ہے۔ سائنسی طرز اور منظم فکر کا انحطاط ہے۔ ملک، ریاست، سماج اور طبقات کی ترقی اور اخلاقی اقدار کا انحصار فکر پر ہوتا ہے۔ فکری ترقی سے سماج بنتے ہیں اور قومیں ترقی کرتی ہیں اور فکری ترقی کا فریضہ سیاسی جماعتیں اور قیادت انجام دیتی ہے۔

بدقسمتی سے سیاست دانوں، سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے مجرمانہ کردار ادا کیا ہے اور کر رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے سیاسی نظریات اور سیاسی فکر کی بجائے اقتدار کو ترجیح دی اور غیر منتخب اور غیرسیاسی قوتوں کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں۔ یہ رسم ایسی چلی ہے کہ سیاست کا دارومدار ہی غیر سیاسی قوتوں کے مرہون منت بن گیا ہے۔ رہتی سہتی کسر عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے پوری کردی ہے۔ باقی کچھ بچا ہی نہیں ہے۔

زوال پذیری کا عہد تکلیف دہ ضرور ہوتا ہے۔ مگر اصلاح و احوال کیلئے مہمز بھی بنتا ہے۔ زوال پذیری کیخلاف آوازیں تو اٹھتی ہیں۔ فکرمندی تو ہوتی ہے۔مگر ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ ایک منظم فورم، منظم سیاسی تنظیم، منظم سیاسی جماعت ہی عوام میں پائی جانے والی فکرمندی اور اٹھنے والی آوازوں کو درست سمت دے سکتی ہے۔ ضرورت پھر سیاسی جماعت کی ہے۔ جوسیاسی بیانیہ لے کر اٹھے اور عوام کو اس زوال سے نجات دلائے۔

پارلیمانی اور موجودہ سیاسی جماعتوں میں یہ سکت باقی نہیں ہے کہ وہ کوئی بیانیہ لیکر عوام کے سامنے آنے کی جرات کریں۔ موجودہ سیاسی جماعتیں اور سیاست دانوں کی حوس اقتدار اور کرپشن سے عمران خان اور تحریک انصاف کا عفریت انسانوں کی زندگیوں میں زہر گھول رہا ہے۔ نئی قیادت، نیا بیانیہ اور نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے۔ یہ کام اہل فکر نوجوانوں کا ہے۔ جو سیاسی فکر، سیاسی نظریات اور سائنسی طرز فکر کے حامل ہو ںہ وہ ایک مضبوط اور جامع بیانیہ کے ساتھ منظم سیاسی جماعت کی بنیاد رکھیں اور کام کا آغاز کریں۔ حالات کا تقاضا اور وقت کی ضرورت بھی ہے۔ بصورت دیگر بتایا جائے کہ بلی کو کہاں چھپائیں ہم۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *