Type to search

حکومت خبریں سیاست قومی کرپشن

شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کیلئے ایف آئی اے نے 11 رکنی ٹیم بنا دی

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے شوگرانکوائری کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کے لیے 11 رکنی تحقیقاتی ٹیم بنا دی۔ انکوائری ٹیم کے سربراہ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون ڈاکٹر معین مسعود ہوں گے۔

ایف آئی اے ٹیم جعلی طور پر چینی افغانستان برآمد کرنے اور منی لانڈرنگ کے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ تحقیقاتی ٹیم میں کسٹمز، ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت سٹیٹ بینک کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے 23 جون کو شوگرکمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کی منظوری دی تھی۔

گذشتہ دنوں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ چینی افغانستان ایکسپورٹ کے معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کرے گی جب کہ مسابقتی کمیشن 90 روز میں چینی کے کاروبار میں گٹھ جوڑکی تحقیقات کرے گا اور سٹیٹ بینک کو بھی ایسے معاملات میں 90 روز میں کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں حکومت چینی بحران پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کا فارنزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الہی، شہباز شریف اور ان کے اہلخانہ، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی بحران کے ذمے دار قرار دیے گئے ہیں۔

فارنزک آڈٹ رپورٹ میں چینی سیکنڈل میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنے کے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔

انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں حکومت نے چینی پر 29 ار ب روپے کی سبسڈی کا معاملہ نیب اور ٹیکس سے متعلق معاملات ایف بی آر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے حکومت کو کارروائی سے روکنے کی درخواست کی گئی تھی جس پر عدالت نے حکم امتناع جاری کیا تھا۔ بعدازاں 20 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری رپورٹ پر حکم امتناع ختم کرتے ہوئے شوگر ملز ایسوسی ایشن کی چینی رپورٹ پر کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *