Type to search

ادب تاریخ ثقافت فیچر

نور ظہیر، بڑے باپ کی بڑی بیٹی

میرے بچے انسان ہیں۔ وہ کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے کیونکہ ہم گھر میں کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے۔ لیکن ہم نے کوشش کی ہے کہ ہم ان کا تمام مذاہب سے تعارف کروائیں، صرف اسلام اور ہندو مت سے ہی نہیں۔

پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے بانی سیکریٹری جنرل، برصغیر میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے روح رواں اور پنڈی سازش کیس میں سزا یافتہ سجاد ظہیر کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ اسی طرح ان کی سب سے چھوٹی بیٹی نور سجاد ظہیر برصغیر کے ادبی اور سیاسی حلقوں میں جانی پہچانی شخصیت ہیں۔

نور ظہیر کے والد سجاد ظہیر اور والدہ رضیہ سجاد ظہیر نے بھی افسانے لکھے۔ سجاد ظہیر نے ’روشنائی‘ لکھ کر نام کمایا تو ان کی سب سے چھوٹی بیٹی نورظہیر نے ’میرے حصے کی روشنائی‘ لکھ کر باپ کے کام اور نام کو آگے بڑھایا۔

اچھے حالات میں وہ اکثر پاکستان آتی رہتی تھیں بلکہ ان کے افسانوں کی کتابیں پاکستان میں بھی چھپی ہیں۔ ’میرے حصے کی روشنائی‘ کا اردو ترجمہ بھی لاہور، پاکستان سے چھپا۔ پاکستان میں ان کے بہت دوست ہیں۔

اس جانی پہچانی شخصیت نے کرونا وبا سی پہلے لندن میں ایک سو سالہ ہندوستانی یاور عباس [بی بی سی والے] سے شادی کر کے رومانس کی دنیا میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا۔

میرا ان سے تعارف پہلی دفعہ اس وقت ہوا جب ہم پاکستان کے ترقی پسند مصنفین کے  ایک وفد کے ہمراہ راحت سعید صاحب کی قیادت میں الہٰ آباد، ہندوستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی 75 سالہ تقریب میں شرکت کے لئے گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ ایک ہندو سے بیاہی ہوئی تھیں۔ اس شادی سے ان کے تین بچے [بیٹیاں] ہیں۔

ہم نے اس موقع کو غنیمت جان کر ان سے بات چیت کی، جس کا خلا صہ پیش خدمت ہے۔

نور ظہیر 22 جنوری 1958 کو پیدا ہوئیں اور انہوں نے دہلی اور لکھنؤ میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے گھر کا ماحول ادبی اور سیاسی تھا۔ اپنے باپ سجاد ظہیر کی طرح وہ بھی مارکسسٹ ہیں۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی ممبر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین اور انڈین پیپلز تھیٹر میں بھی سرگرم ہیں۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ سیاسی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ ان کی بیٹی ’پنکھری ظہیر‘ اپنے نانا اور والدہ کی روایت کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ اس نے جے این یو میں ایجیٹیشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ کشمیر میں جانے والے خواتین فیکٹ فانڈنگ مشن میں بھی شریک تھی۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنی والدہ کی ولایت میں دوسری شادی میں بھی شریک تھیں۔

سوال: آپ نے اپنے باپ پر کتاب لکھی ’میرے حصے کی روشنائی‘۔ آپ کو یہ خیال کب اور کیسے آیا؟

جواب: اس کتاب میں ہمارے دہلی کے گھر کی یادیں ہیں جہاں ہم 1964 سے 1973 میں اپنے والد کی وفات تک رہے۔ اس میں، میں نے اپنی ذاتی یادداشتیں اور اپنے والد سجاد ظہیر کو منتظم، اچھے کمیونسٹ، لیڈر، لکھاری، انسان اور سب سے اہم کہ ایسے ایماندار انسان کے طور پر دیکھا کہ اگر انہوں نے کسی کی ایک لاِئن بھی لی [قوٹ کی] ہے تو وہ بر ملا اس کا اعتراف کریں گے۔ بلکہ بعض دفعہ اعتراف، مواد سے لمبا ہوتا تھا۔

پاکستان اور ہندوستان کی شناخت کی بجائے جہاں کہیں بھی لوگ آزادی اور جمہوریت کے لئے جدوجہد کرتے، وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ جب الجزائر کو آزادی ملی تو وہ دیر تک پارٹی کے دفتر میں رہے اور گھر جھومتے ہوئے آئے۔

ایک دفعہ ہم نے ریفریجریٹر خریدا۔ کچھ دن بعد ان کے دوست انہیں ملنے آئے جن میں جوش ملیح آبادی بھی تھے۔ وہ جنوبی ایشیا میں کمیونزم کے مستقبل پر باتیں کر رہے تھے۔ یک دم ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ کمیونزم کا مستقبل کیا ہوگا، جہاں سجاد ظہیر جیسا آدمی ہے جو ریشم کا کوٹ پہنتا ہے اور جس کے گھر میں فریج ہے۔ ہر شخص کو دھچکا لگا۔ اس طرح کا ماحول ہمارے گھر میں تھا۔

سوال: تقسیم کے بعد آپ کے والد پاکستان چلے گئے۔ وہاں وہ پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے۔ پھر وہ پکڑے گئے اور انہیں سزا ہو گئی۔ کیا آپ کی والدہ نے اس سب کی مخالفت نہیں کی؟ آپ کی والدہ کا کیا رد عمل تھا جب سجاد ظہیر واپس ہندوستان آئے؟ کیا آپ کے والدین نے اس مسئلہ پر گفتگو کی؟

جواب: میری پیدائش ان کی پاکستان سے واپسی پر ہوئی۔ وہ چار سال زیر زمین اور چار سال جیل میں رہے۔ وہ بہت دور اندیش آدمی تھے۔ وہ کہتے تھے کہ وہ پاکستان ایک مشن پر گئے تھے جو کامیاب نہ ہوا۔ ہم نے کبھی اس پر بات نہیں کی کیونکہ اور بہت ساری باتیں کرنے کو تھیں۔ جہاں تک میری والدہ کا تعلق ہے، انہوں نے کبھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ میرے والد کے ہر فیصلے کی حمایت کی۔ حتیٰ کہ جب یہ خبر آئی کہ انہیں پاکستان میں پھانسی دے دی جائے گی تو میری ماں کا رویہ ’صابرانہ‘ تھا۔

سوال: آپ کے والد کا پاکستان مشن کے بارے میں کیا خیال تھا؟ کیا وہ مطمہن تھے؟

جواب: ان کا ہمیشہ یہ خیال تھا کہ پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی بنانے سے پہلے کافی تیاری ہونی چاہیے تھی۔ جانے سے پہلے کافی تیاری ہونی چاہیے تھی۔

ایک دفعہ اے کے ہنگل [کمیونسٹ، فلم ایکٹر] نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ ان کی میرے والد سجاد ظہیر سے کیسے ملاقات ہوئی۔ ہنگل کو جیل لے جایا جا رہا تھا اور سجاد ظہیر کو جیل سے باہر عدالت میں پیشی کے لئے لے جایا جا رہا تھا۔ سجاد ظہیر نے ہنگل کو مشورہ دیا کہ پاکستان میں نہ رہو، ہندوستان چلے جاؤ، وہاں کام کرنے کے کافی مواقع ہیں۔

میری ماں نے سجاد ظہیر کی ہندوستان واپسی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ نہرو کے آفس میں بیٹھ گئی۔ سردار پٹیل کی موت کے بعد پنتھ وزیر داخلہ بن گیا تھا۔ پنتھ بہت سیکولر آدمی تھا۔ وہ مسلمانوں سے پیار کرتا تھا مگر کمیونسٹوں سے نفرت کرتا تھا۔ اس کے خیال میں اگر آپ مسلمان اور کمیونسٹ بھی ہیں تو آپ بہت خطرناک ہیں۔ سو وہ میرے باپ کو واپس ہندوستان نہیں لانا چاہتا تھا۔ اس کے برعکس اس نے مشورہ دیا کہ اس کو ماسکو یا لندن بھیج دیا جائے۔ میری ماں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ میرے والد ہندوستان آئیں۔ میرے خیال میں اگر وہ اور کہیں جاتے تو جلد مر جاتے۔

سوال: یہ کیسے ہوا کہ سجاد ظہیر کی تین بیٹیاں ہندوؤں سے بیاہی گئیں؟

جواب: میری بہن نسیم کی شادی میرے والد کی زندگی میں ہوئی۔ لیکن میری بہن نادرہ کی شادی ان کی وفات کے بعد ہوئی۔ میرے والدین اس مسئلے کو مختلف انداز میں دیکھتے تھے۔ میرے والد، جو کوئی بھی ہم سے شادی کرنا چاہتا تھا، اس سے تین سوال پوچھتے تھے۔ کیا تم تعلیم یافتہ ہو، کام کرتے ہو اور اپنی بیوی کا خرچہ اٹھا سکتے ہو؟ دوسرا سوال اس سے بھی اہم ہوتا۔ کیا تم چاہو گے کہ لڑکی مذہب تبدیل کر لے یا تم خود مذہب تبدیل کرو گے۔ یہ سوال یہ دیکھنے کے لئے ہوتا تھا کہ لڑکا اس مسئلے کو کیسے دیکھتا ہے۔ اگر لڑکا کہتا کہ مذہب تبدیل کرنا کوئی بات نہیں تو اسے اسی فیصد نمبر مل جاتے اور آخری سوال ہوتا کہ تم کب شادی کر رہے ہو۔ اگر تم ابھی شادی کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے۔ اگر تم ابھی شادی نہیں کرنا چاہتے تو منگنی لمبے عرصے کے لئے نہیں ہونی چاہیے۔ لڑکی سے دوستی کرو اور پھر بعد میں شادی کا طے کرو۔

سوال: آپ کا اپنا ایک دوسرے مذہب [ہندو] کے آدمی کے ساتھ شادی کا تجربہ کیسا رہا؟۔

جواب: میرا تجربہ اس لحاظ سے کامیاب رہا کہ ہم لمبے عرصے تک اکھٹے کام کرتے رہے تھے۔ لیکن ایمانداری کی بات یہ ہے کہ روزانہ کی جدوجہد ہوتی ہے۔ اگر میاں اور بیوی دو مختلف [ پس منظر] ثقافتوں سے ہوں، بقائے باہمی مشکل ہوتی ہے، لیکن پھر کون آسان زندگی چاہتا ہے؟

میرے بچے انسان ہیں وہ کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے کیونکہ ہم گھر میں کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے۔ لیکن ہم نے کوشش کی ہے کہ ہم ان کا تمام مذاہب سے تعارف کروائیں، صرف اسلام اور ہندو مت سے ہی نہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *