Type to search

بلاگ تجزیہ

یکساں تعلیمی نصاب یا سکولوں کو تکفیری مدرسے بنانے کا عمل؟

ترقی یافتہ ممالک رواداری ، پلورلزم اور برداشت کی مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں۔ انہی اقدار نے مذہبی بنیاد پرستی پر قائم یورپ کو dark age سے باہر نکالا، پاپائیت اور بادشاہت کو رد کیا اور یورپ کو ایک ایسے جدید دور میں داخل کیا جو علم، انصاف اور اخلاقیات کو قبول کرتا اور فرسودہ عوام دشمن ڈھانچوں کو رد کرتا ہے۔

پاکستان کی ستر سالہ کہانی معاشی، سماجی، علمی، فکری، سیاسی، اور ثقافتی فرسودگی کی داستان ہے۔ جہاں ایک ہی قسم کا مذہب مسلک ریاست کیطرف سے سپونسرڈ ہے اور ایک مخصوص فرقے کی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے مذہبی دکانداری عروج پر ہے۔ ستر سالوں سے نوجوانوں کو دیوبندی مدارس میں تیار کردہ یک نوعی مذہبیت پڑھائی جا رہی ہے اور ان کے ذہنوں کو تعصب، تنگ نظری اور نفرت سے بھرا جا رہا ہے۔ پاکستان بھر کے سکولوں کے نصاب سے وہ تنوع غائب ہے جس سے حقیقی دنیا میں طلبہ کا واسطہ پڑتا ہے۔ پچھلے ستر سالوں میں نوجوانوں کے شعور کو جامد کیا گیا اور انکے شعوری ارتقاء میں اس مصنوعی یک رنگی مذہبیت کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اسی نصاب کے بطن سے جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایسے گروہوں کو وہ افرادی قوت مل گئی جس نے اسلام کے نام پر دوسرے فرقوں کے قتل عام کو ایک منظم منصوبے کے طور پر عملی جامہ پہنایا۔ ضیاء دور میں سرکاری نوکریوں کے دروازے مدارس پر کھلے اور ساتھ ہی ساتھ بلین ڈالرز کے حجم والی افغان جہاد انڈسٹری لگی تو اسی فرقے کے مدرسوں کی مشروم گروتھ نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا۔ یہاں تک کہ اس فرقے کی عدم برداشت اور تکفیر پر مبنی آئیڈیالوجی نے معاشرے کے معتدل اور نسبتا کھلے ذہن کے لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہر سرکاری و غیر سرکاری ادارے میں متشدد تکفیری رحجان کے حامل افراد موجود ہیں۔

اس صورتحال سے صرف اور صرف گراس روٹ لیول پر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر کے نکلا جا سکتا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پاکستانی نظام تعلیم پر ہونے والی جدید تحقیق کو بنیاد بنایا جاتا اور سماجی حقائق اور ضروریات پر مبنی نصاب ترتیب دیا جاتا جو پاکستان کی ترجمانی کرتا۔ لیکن اس کے بالکل برعکس موجودہ حکومت نے ایک ایسے یکساں قومی نصاب کو تشکیل دیا ہے جو یک رخی مذہبی پروپیگنڈہ کی ایک نئی قسم اور سکولوں کو تکفیری مدارس میں تبدیل کرنے کا ایک آہستہ لیکن خطرناک عمل ہے۔

اسلامیات کے نئے یکساں قومی نصاب سے جنرل ضیاء الحق کے تاریک دور کی یاد تازہ ہو گئی ہے، لیکن یہ نصاب ضیاء الحق کے سپونسرڈ مدارس سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایک طرف یہ نصاب دوسرے مسالک و مذاہب کیلئے عدم برداشت پر مبنی ہے کیونکہ اس سے ان کا ذکر یوں غائب ہے کہ گویا وہ کفر ہوں۔ اس وجہ سے یہ نصاب ایک کٹرپن کو فروغ دیتا ہے۔ دوسری طرف تضادات پر مبنی تحریف شدہ اسلامی تاریخ نوجوانوں کے ذہن میں بھر کر انہیں روشن خیال اور ترقی پسند بننے سے روکتا ہے۔

آخر اس نصاب میں کیا خرابی ہے؟

اس نصاب کے سلوگن (ایک قوم ، ایک نصاب)، مندرجات اور طریقہ کار سے لیکر املاء تک میں خرابیاں ہی خرابیاں ہیں ۔ ایک قوم، ایک نصاب پاکستان جیسے ہمہ رنگی قوموں، ثقافتوں، تہذیبوں اور فرقوں کے مجموعہ ملک کو نفاق و بد اعتمادی کیطرف دھکیلتا ہے۔ آج تک جس ملک نے بھی فرقوں، اقلیتوں، قوموں کی منفرد پہچان ختم کر کے انہیں زبردستی ایک قوم کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی ہے اس کا انجام ایک کمزور ریاست کی صورت میں نکلا۔ دور کہاں جائیں، سقوطِ ڈھاکہ خود ایک اندرونی مثال ہے۔

اس نصاب کا سب سے بڑا مسئلہ اسکا inclusive اور جامع نہ ہونا ہے۔ اسلامیات کا یکساں قومی نصاب تمام اسلامی مسالک کی نمائندگی کرنے کے بجائے “لبیکی اور تکفیری دیوبندی فاشسٹ نصاب” ہے۔ جس میں تاریخ، شخصیات، تہواروں نیز ہر سیکشن میں بدعنوانی کی گئی ہے اور بالخصوص شیعہ فرقے، جو پاکستان کی آبادی کا 20 سے 25 فیصد حصہ ہے، کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

1۔ شخصیات کے باب میں جان بوجھ کر اہل تشیع کو غیر اور پرایا بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مثلا اس باب میں چار خُلفاء کا ذکر ہے لیکن امام حسین ع و امام حسن ع، رسول اکرم کے نواسوں کہ جن کا تمام فرقوں میں احترام پایا جاتا ہے اور جن کے ذکر کے بغیر مسلمانوں کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی، کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام علیھا، جنہیں سب فرقے سیدہ النساء العالمین مانتے ہیں، کا اس نصاب میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ گویا وہ رسول اکرم ص اور حضرت علی کے علاوہ وہ تمام اہم شخصیات جو اہل تشیع اور اہلسنت کو جوڑتی ہیں، ان کا ذکر نصاب سے غائب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

2۔ تاریخی واقعات دیکھے جائیں تو اسلام کی تاریخ کے ایک اہم ترین واقعے، کہ جس کی یاد ہر سال پاکستان کے تمام مسلمان اپنے اپنے انداز میں مناتے ہیں، یعنی واقعہ کربلا کے بارے میں اس نصاب میں کوئی مضمون شامل نہیں ہے۔ کیا اسلام کی تاریخ کربلا کے ذکر کے بغیر مکمل ہو سکتی ہے؟ واقعہء کربلا ، فدک یا ثقیفہ کیطرح متنازعہ مسئلہ بھی نہیں ہے اور اسلام کا ہر فرقہ امام حسین کو حق پر تسلیم کرتا اور ان کی شہادت کو سانحہ قرار دیتا ہے، تو یہ نصاب کا حصہ کیوں نہیں؟

3۔ احادیث کیلئے صرف صحاح ستہ کو بطور حوالہ استعمال کیا گیا ہے۔ شیعہ ذخیرہء احادیث کا نہ تو ذکر ہے نہ ان سے کوئی حدیث شامل کی جا رہی ہے۔ حالانکہ اصولِ کافی کا پہلا باب ہی عقل کے استعمال اور غور و فکر کی اہمیت کے بارے میں احادیث پر مشتمل ہے جن سے رہنمائی لینا جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بہت ضروری ہے۔

4۔ صوفیاء کے باب میں برِصغیر کے مقامی صوفیاء کے بجائے مڈل ایسٹ کے صوفیاء ( عبدالقادر جیلانی، مولانا روم وغیرہ) پڑھائے جا رہے ہیں۔ برصغیر بالخصوص پاکستان کی سرزمین صوفیاء سے مالا مال ہے جن کا کلام مقامی ثقافت میں گندھا ہوا ہے۔ امام حسن ع کے پڑپوتے حضرت عبداللہ شاہ غازی کا ذکر نصاب سے غائب ہے۔ لال شہباز قلندر، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، بری امام کا ذکر غائب ہے۔ کیا ہمارے نصاب میں بلھے شاہ، وارث شاہ، شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام شامل کرنے کا وقت نہیں آیا؟ ملتان، سرزمینِ اولیاء، میں مدفون اولیاء سے کون واقف نہیں؟ لیکن یہ تمام صوفیاء “قومی” نصاب کے مطابق اسلامی شخصیات نہیں ہیں۔ اگر یہ نصاب پاکستانی قوم کیلئے ہے تو اس میں مقامی سنی و شیعہ صوفیاء کا ذکر ہونا چاہیئے۔

5۔ تہواروں کے باب میں جشن میلاد النبی ص تو شامل ہے جو ایک خوش آئند اقدام ہے، لیکن محرم شامل نہیں ہے، گویا شہید کربلا کی یاد منانا اسلامی مناسبت نہیں رکھتا۔ اگرچہ اس نصاب میں دعوتِ تبلیغ کے نام پر سو سال قبل شروع ہونے والے تبلیغی اجتماع پر ایک سبق شامل کیا گیا ہے۔ اس خطے میں محرم کی تاریخ کم سے کم ایک ہزار سال پرانی ہے اور اس کا تاریخی تسلسل ملتان میں فاطمی حکومت کے دور سے جا ملتا ہے۔ محرم شیعہ و سنی دونوں اپنے اپنے انداز سے مناتے ہیں۔ تاریخی اور ثقافتی حیثیت کے علاوہ محرم کی شرعی حیثیت تبلیغ سے کم نہیں ہے۔ امام حسین ع کی شہادت پر رونا سنی کتب کے مطابق بھی سنتِ رسول ہے۔ کربلا کو یاد کرنے کی سنت کو چھپا کر اسے اسلام سے لاتعلق ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ نصاب مذہبی ہم آہنگی پروموٹ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن دوسرے مذاہب کے تہواروں مثلا کرسمس، ہولی وغیرہ کا کہیں ذکر نہیں کرتا۔ اسطرح یہ نصاب ان تہواروں کے خلاف بچے کی برین واشنگ کر کے اسے تشدد اور شدت پسندی کی طرف مائل کرتا ہے۔

6۔ کہا جا رہا ہے جب یہ نصاب پڑھایا جائے تو غیر مسلم کمرے سے باہر چلے جائیں، اول یہ کہ باہر جا کر کیا کریں؟ دوئم یہ کہ کیا دینیات کی کلاس میں غیر حاضری سے ان غیر مسلم بچوں کو پرایا اور غیر نہیں سمجھا جائے گا؟ مسئلہ صرف غیر مسلم یا دیگر مسالک سے تعلق رکھنے والے بچوں کا نہیں بلکہ اکثریت سے تعلق رکھنے والے بچے کا بھی ہے جسے شدت پسندی کی آگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔ آج تک ہونے والے خودکش دھماکوں میں اکثر ٹین ایجر اور سکول کی عمر کے بچے استعمال کئے گئے ہیں۔ وہ بچے روبوٹ نہیں، انسان ہیں اور ہماری ہمدردی کے مستحق ہیں۔ جن بچوں کو دینیات کے نصاب میں پاکستان کے گوناگوں ادیان و مسالک کے بارے میں بالکل لاعلم رکھا جاتا ہے وہ آگے چل کر سعد عزیز، اکرم لاہوری، ڈاکٹر عثمان، احسان اللہ احسان اور ملک اسحاق بنتے ہیں۔ مسئلہ بنیادی تعلیم و تربیت میں ہے۔

7 ۔ ایک اہم سوال یہ ہے جو ٹیچر یہ سب کچھ پڑھا رہا ہے، اسکا پس منظر اور ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں؟ زیادہ تر سکولوں میں اسلامیات پڑھانے والے دیوبندی مدرسوں سے فارغ التحصیل ہیں جنکی مارکیٹ اپنے مسلک کی مساجد ہونی چاہیئیں،پبلک سکول نہیں۔ ایک فرقے کے مدرسے کا فارغ التحصیل مولوی، اپنے فرقے کی تعلیمات پر ہی فوکس کریگا۔ اساتذہ کو لازمی طور پر ایسی یونیورسٹیوں کا فارغ التحصیل ہونا چاہیئے جہاں ان کو اسلام کے مختلف مسالک کی تعلیم دینے والے پروفیسرز موجود ہوں اور انہوں نے پاکستان کے غیر مسلم مذاہب اور پاکستانی معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی (پلورلزم) پر بھی کم از کم ایک سمسٹر کا کورس کیا ہو۔

مجوزہ نصاب میں مدارس پر مزید سرکاری ملازمتوں کے راستے کھولنے کیلئے اسلامیات کے استاد کے علاوہ سکول میں ایک قاری اور ایک حافظ کو بھی بھرتی کیا جا رہا ہے۔ واضح ہے کہ اس اقدام سے مدارس کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو گا اور مستقبل میں دیوبندی پریشر گروپس کی طاقت مزید بڑھے گی جو کسی وقت ریاستی اداروں پر غلبہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں بھی آ سکتی ہے۔

حکومت نے یکساں تعلیمی نصاب بنانا ہی ہے تو اسے خرابیوں سے پاک کرے۔ اسے سنی/دیوبندی فاشسٹ اسلامیات بنانے کے بجائے “دینیات” بنائے جس میں تمام مذاہب و مسالک کیلئے جگہ ہو، نمائندگی ہو اور مذہبی اختلاف کو برداشت کرنے کی تعلیم دی جائے۔ ہم ہر فرقے کیلئے الگ اسلامیات بالکل نہیں چاہتے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم ہر فرقے کیلئے الگ پاکستان نہیں چاہتے۔ اسی نصاب میں ہر فرقے و مسلک کی نمائندگی ہونی چاہیئے۔ اسی نصاب کو زیادہ all inclusive اور diverse ہونا چاہئے۔ ورنہ اگر موجودہ نصاب رائج ہو گیا تو اگلے دس سے پندرہ سالوں میں سکول بھی terror breeding ground بن جائینگے اور اسکی قیمت کوئی اور نہیں، ہم خود ادا کرینگے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *