Type to search

بلاگ تاریخ تجزیہ جمہوریت سیاست

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

بانی پاکستان اور لیاقت علی خان کی وفات کے فوری بعد ہی مسلم لیگ کے بطن سے کنونشن مسلم لیگ، کونسل مسلم لیگ اور دیگر کئی جماعتوں نے جنم لیا اور یوں ہمارے یہاں وقتی ضرورت کے تحت اپنی اپنی جماعت بنانے کا رواج فروغ پا گیا۔ کئی جماعتیں تو ایسی بھی تھیں جس کے صدر کے علاوہ باقی عہدیداران سے عوام نا واقف ہوتی تھی۔

دولتانہ لیگ، قیوم لیگ، چٹھہ لیگ اس کے علاوہ ماضی قریب میں مشرف لیگ اور موجودہ عوامی مسلم لیگ جس کے صدر شیخ رشید کے علاوہ عوام کسی عہدیدار سے نا واقف ہیں۔ یہ جماعتیں کون بناتا یا بنواتا ہے۔ اگر ذرا غور کریں تو اس قسم کی تمام جماعتوں کے پیچھے ہمارے ‘مہربان’ ہی ہوتے ہیں اور یہ انہی کے مقاصد پورے کرنے کیلئے مصروف عمل رہتی ہیں۔

یہ بات تو اب سب پر ہی واضح ہو چکی ہے کہ قائد کی حیات میں ہی ہمارے ‘مہربانوں’ نے سیاسی عمل میں دلچسپی لینا شروع کردی تھی لیکن ان کی شخصیت کے سامنے زیادہ کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ ہمارے ‘مہربان’ نہ صرف شخصی جماعتوں کی سرپرستی کرتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر دوسری جماعتوں میں نقب بھی لگاتے ہیں اور اس کی مثال ق لیگ اور تحریکِ انصاف ہیں۔

لوٹوں کی سرپرستی اور جماعتوں میں نقب لگانے کا مقصد ملک و قوم کا مفاد نہیں صرف اور صرف اپنی خواہشات کی تکمیل ہوتا ہے۔ ۱۹۶۷ میں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی بنائی تو اسے عوامی پزیرائی نصیب ہوئی لیکن ایسی جماعتیں نہ ہمارے ‘مہربانوں’ کو وارا کھاتی ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی مہربانوں کو کیونکہ وہ عوامی مفاد کو مقدم رکھتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا جو انجام ہوا پاکستان آج تک اس کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا۔

دوسری بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) وجود میں آئی تو وہ بھی عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ بھی ‘مہربانوں’ کو پسند نہیں آئی اور پھر مشرف کے دور میں اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب پر ظاہر ہے۔ اس جماعت کے قائد کی پاکستان واپسی پر جو فقید المثال استقبال ہوا اس نے ‘مہربانوں’ کی پریشانی میں اضافہ کیا اور ایک بار پھر اس کے خلاف سازشیں شروع ہوئیں اور آج ملک کی جو حالت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ کوئی اس سے سبق نہیں سیکھتا۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے بعد اگر ذرا سا بھی ملک و قوم کا درد ہوتا تو آج ہماری یہ حالت نہ ہوتی۔ اس کو بے حسی کہیں یا کچھ اور کہ ہم آج بھی وہی سانپ سیڑھی کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔

وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *