Type to search

بلاگ تجزیہ

توہین کا الزام لگا کر جس مرضی کا قتل: ہم بطور معاشرہ کہاں جا رہے ہیں؟

ہمارے ہاں شدت پسندی کو ہوا دینا اور جذباتی جملوں کے ذریعے مذہبی حساسیت کو استعمال کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔  پچھلے ہفتے پشاور میں پیش آنے والے واقعے کے بعد قلم ساتھ نہیں دے رہا، ایک ہی سوچ میں گھوم ہوں کہ لکھوں بھی تو آخر کیا لکھوں؟ اس سے بھی زیادہ اہم سوال جو مسلسل دماغ پر بوجھ بن کر بیٹھ گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان موضوعات پر لکھنا مناسب رہے گا یا نہیں؟ اگر لکھنا مناسب ہے تو کس حد تک لکھا جا سکتا ہے؟

خیر اب قلم اٹھا لیا ہے اور لکھنے کی تھوڑی سے جسارت کر ڈالی ہے، اس لئے اب لکھنا فرض ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگا، اُس کے بارے میں اس وقت نہیں بتایا جا سکتا۔ ایک لکھاری کا کام اپنے ارد گرد موجود برائیوں اور خرابیوں کی نشاندہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے، میرا کام بھی فقط وہی ہے۔

سوچتا ہوں کہ ہم دنیا کے اُس خطہ زمین پر زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں پر سامنے سے گزرنے والا تقریباً ہر دوسرا شخص ایک ہی وقت میں مدعی، گواہ، اور منصف ہے جو کسی بھی وقت آپ پر ’توہین رسالت‘ یا کسی بھی قسم کا سنگین الزامات لگا کر آپ کا قصہ تمام کر سکتا ہے۔

پشاور کی ایک مقامی عدالت میں خالد نامی شخص نے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے کمرہِ عدالت میں ’توہین رسالت‘ کیس کی سماعت کے دوران توہین رسالت کے ملزم (طاہر احمد نسیم) کو جج کے سامنے چھ گولیاں مار کر قتل کر کے ایک طرف آئین و قانون کے حلقوں سے انصاف کا جنازہ نکالا جب کہ دوسری طرف اس واقعے نے ایک بار پھر معاشرے کو انتہا پسندی اور لاقانونیت کی ایک ایسی دلدل میں پھنسا دیا کہ جہاں سے واپسی کے لئے نصابی کتب میں فوری اور بہت سی اہم تبدیلوں کے ساتھ ساتھ طویل مدت بھی درکار ہوگی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، ہم اس سے پہلے بھی لاقانونیت اور جنونیت سے بھرے واقعات دیکھ چکے ہیں۔ پاکستان میں مذہب کے نام پر قتل کیے جانے والے لوگوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔

جنوری 2011 میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان ہی کے محافظ ممتاز قادری نے ’توہین رسالت‘ کے الزام میں گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ ممتاز قادری کے خلاف مقدمہ چلا اور عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی جو قانون کے عین مطابق فیصلہ تھا لیکن بعد میں اس بیمار معاشرے نے ممتاز قادری کو اپنا ہیرو تسلیم کر لیا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مذہبی جنونیت اور لاقانونیت اس معاشرے میں کس قدر پھیل چکی ہے۔

اسی طرح مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو ساتھی طلبہ اور یونیورسٹی ملازمین نے ’توہینِ مذہب‘ کا الزام لگا کر سرِعام قتل کر دیا تھا جو انسانی تاریخ پر درندگی کا ایک بدنما داغ ثابت ہوا۔ پشاور کی مقامی عدالت میں پیش آنے والا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اِس قسم کا کوئی واقعہ پیش آنے کے بعد میں ہمیشہ خود سے سوالات کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔ پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ اس عمل سے اسلام کا نام روشن ہوا یا مزید بدنام ہوا؟ اسلام نے توہینِ رسالت کے لئے کیا سزا تجویز کی ہے؟ آئین و قانون کی موجودگی میں کسی بھی سنگین قسم کے جرم میں کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص کمرہِ عدالت میں قانون ہاتھ میں لے گا تو اس پر توہین عدالت کا مقدمہ چلنا چاہیے یا نہیں؟  اگر دینِ اسلام امن کا دین ہے جس میں صرف عقائد کو بنیاد بنا کر کسی انسان کا گلا نہیں گھونٹا جا سکتا تو مذہب اور دین کے نام پر یہ قتل و غارت گری کیوں اور آخر کب تک؟ کیا خداوند تعالیٰ نے سرکارِ دو جہاں حضرت محمد (ص) کو اس جہاںِ فانی میں رحمت بنا کر نہیں بھیجا تھا؟

یہ وہ اہم اور بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات میں معاشرے میں موجود شرپسند سوچ، لاقانونیت اور جنونیت سمیت ہر قسم کی انتہا پسندی ختم کرنے کا علاج موجود ہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *