Type to search

انسانی حقوق حکومت خبریں خواتین سیاست قومی میڈیا

خواتین صحافیوں کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، وزیر انسانی حقوق

چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس منگل کے روز منعقد ہوا، جس میں خواتین صحافیوں نے سوشل میڈیا پر ہراسانی پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔

بلاول بھٹو زرداری نے خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے کے حوالے سے لکھا گیا خط کمیٹی میں پڑھ کر سنایا، کمیٹی میں سینئیر صحافی اور اینکر پرسن امبر شمسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خواتین صحافی سوشل میڈیا پر ہراسانی کے خلاف اس لئے آواز اٹھا رہی ہیں تاکہ آئندہ نسلیں اس سے محفوظ رہیں اور اسی وجہ سے میں اپنی بچی ساتھ لائی ہوں تاکہ اس میں ہراسانی کے خلاف لڑنے کی ہمت پیدا ہو۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے خاندان سوشل میڈیا پر ہمارے خلاف ہراسانی کی وجہ سے اذیتوں سے دوچار ہیں کیونکہ ایک ٹویٹ کرنے کے بعد مغلظات کا طوفان شروع ہوجاتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ میں بھی اس قسم کے ایشوز کا شکار ہوچکی ہو کیونکہ گذشتہ دور حکومت میں پی ایم ایل این کی جانب سے جو میرے ساتھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے کیونکہ ناصرف خواتین بلکہ سیاست دان خواتین کو بھی گالی گلوچ نہیں دینا چاہیے اور ایسی زبان کسی کے خلاف بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ گالیاں دینے والے اکاؤنٹس کیخلاف کارروائی کریں گے اور حکومت کی جانب سے میڈیا پروٹیکشن بل جلد متعارف کروایا جائے گا اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ گالی کیخلاف طاقتور بیان جاری کریں کیونکہ بہت جلد میں وزیر اعظم عمران خان سے بھی اس مسئلے پر بات کروں گی۔

شیریں مزاری نے مزید کہا کہ خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں مجھے جس طرح ٹرک کہا تھا اور اس کے بعد جو گالیاں پڑیں۔ جب گالیاں پڑتی ہیں تو گھر والے کہتے ہیں کس نے کہا تھا کہ سیاست کرو، جب سے سوشل میڈیا زیادہ ہوا اس دن سے گند بھی بڑھتا جارہا ہے۔

سینئیر صحافی و اینکر عاصمہ شیرازی کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جب ورکنگ خواتین گھر سے نکلتی ہیں تو ان کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کا لندن میں انٹرویو کیا، انٹرویو نہیں چلا لیکن میرے خلاف کمپئین چلائی گئی، اسی طرح میں نے مریم نواز کا انٹرویو کیا، انٹرویو نہیں چلا لیکن میرے خلاف کمپئین شروع ہوگئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے خلاف جتنی بھی گالیوں کی کمپئین چلتی، اس کا قصور وار تحریک انصاف کو نہیں ٹھہراوں گی کیونکہ خواتین کو جان بوجھ کر طبقے میں علیحدہ کیا جارہا ہے۔

کمیٹی کو بریفینگ دیتے ہوئے معروف قانون دان اور تجزیہ کار ریما عمر نے کہا خواتین کی آن لائن ہراسانی ایک ناقابل تردید حساس حقیقت ہے کیونکہ خاتون کی ترقی کی وجہ اہلیت کے بجائے ان کی جنسی خصوصیت کو قرار دیا جاتا ہے اور میرے شوہر کے ساتھ تصاویر کی جگہ کلبھوشن یادیو کی تصاویر استعمال کی گئیں اور اگر کسی کو لگتا ہے کہ خواتین صحافیوں نے کوئی غلط خبر دی تو یہ ان کی ہراسانی کا جواز نہیں ہوسکتا۔

کمیٹی کو صحافی بینظیر شاہ نے بتایا کہ پنجاب حکومت سے تعلق رکھنے والے اظہر مشوانی مجھے مسلسل آن لائن ہراساں کر رہے ہیں اور وزیراعظم کے فوکل پرسن ارسلان خالد بھی مجھے آن لائن ہراساں کر رہے ہیں۔

کمیٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم کو درخواستوں کے حوالے سے 6 ماہ بعد رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہوتی ہے مگر ایف آئی اے کی جانب سے وہ رپورٹ آج تک پیش نہیں کی۔

صحافی اور اینکر پرسن منیزے جہانگیر نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم اپنے حقوق تو چاہتے ہیں لیکن جمہوریت بھی چاہتے ہیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ اپنے ایشوز کو ٹول بنا کر اظہار رائے کا گلہ دبایا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اج اظہار رائے کا گلہ دبایا جارہا ہے کیونکہ گمشدہ افراد کا مسئلہ اب سندھ تک پہنچ چکا ہے اور میرے پروگرام میں سارنگ جویو کے انٹرویو کی آواز بند کر دی گئی اور کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ ہم سندھ میں گمشدہ افراد پر پروگرام نہیں کرسکتے۔

اس موقعے پر تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عطا اللہ غصے میں آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پاکستان تحریک انصاف کیخلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے، مجھے ان صحافیوں اور اینکرز کو جواب دینے دیں۔ جس پر بلاؤل بھٹو نے کہا کہ پہلے مہمان صحافیوں کو سن لیں اس کے بعد آپ جواب دے دینا۔ جس پر عطا اللہ نے کہا کہ میں ممبر ہوں، میرا حق بنتا ہے بات کرنا۔

اس موقع پر محسن داوڑ نے کہا پہلے صحافی خواتین بات کرلیں اس کے بعد ہم بات کرلیں گے۔ جس پر عطا اللہ محسن نے دوبارہ مائیک آن کر لیا اور کہا کہ چئیرمین صاحب آپ مجھے بات کرنے دیں یہ میرا ٹائم ہے۔ جس پر بلاول نے کہا کہ آپ کی باری نہیں ہے رولز کو فالو کریں۔ اگر آپ رولز کو فالو نہیں کرتے تو پھر آپ باہر چلے جائیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *