Type to search

بلاگ تجزیہ حکومت سیاست

وزیر اعظم عمران خان سے ایک خیالی ملاقات

دو ہزار سات کے اوائل میں گھوٹکی کے سفر کے دوران عمران خان نے گفتگو کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ پرویز مشرف نے انہیں وزیراعظم بننے کی پیشکش کی تھی لیکن چوہدریوں نے طارق عزیز کے ذریعے ڈیل کر کے انہیں گیم سے باہر کر دیا۔ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے خادم نے سوال پوچھا کہ کیا آپ یہ پیشکش قبول کر لیتے جبکہ آپ کے پاس نشست بھی ایک ہے تو عمران نے ترنت جواب دیا کہ وہ ایسا کیوں نہ کرتے۔ “یہ لوگ” مجھے وزیر اعظم بھی بناتے، پارٹی پر پیسہ خرچ کر کے منظم کرتے اور طاقتور سیاسی گھرانوں کو بھی پارٹی میں شامل کرواتے۔ یہ جواب ذرا حیران کن تھا اس لئے گاڑی چلاتے ہوئے بھی پچھلی سیٹوں پر بیٹھے شدید جمہوری جرنیل ایڈمرل ریٹائرڈ جاوید اقبال اور احسن رشید مرحوم کی طرف مڑ کر دیکھا تو ایڈمرل صاحب نے ایک “خاص” اشارہ کیا اور گفتگو آگے بڑھ گئی۔

اگلی گفتگو سے یہ اندازہ ہوا کہ عمران خان کے ذہن میں کسی سویلین کی کامیاب حکومت کے دو ماڈل ہیں۔ پہلا ماڈل تو یہ کہ سیاستدان بھٹو کی طرح مقبول ہو لیکن اس کی پارٹی جماعت اسلامی یا ایم کیو ایم کی طرح منظم ہو تو حکومت بنانے اور گرانے والوں کو اپنے اصل کام کرنے کے لالے پڑے رہیں گے۔ ان کے نزدیک بھٹو کو پھانسی اور نوازشریف کی جلاوطنی اسی وجہ سے ممکن ہوئی کہ ان کی جماعتیں منظم نہ تھیں، اس لئے جنرل ضیا یا پرویز مشرف کا ہاتھ نہ روکا جا سکا لیکن دوسری طرف جماعت اسلامی کے منظم ہونے کی وجہ سے ایوب خان باوجود خواہش مولانا مودودی کو پھانسی نہ دے سکا، لیکن عمران خان کے مطابق اس طرح سیاسی پارٹی منظم کر کے اقتدار میں آنا ان کیلئے ناممکن ہے۔

دوسرا ماڈل ان کے دل کے زیادہ قریب پایا۔ عمران خان کے بقول اسی ماڈل کے ذریعے نواز شریف برسراقتدار آئے اور پھر مقبول رہنما بھی بن گئے، لیکن مقتدر حلقوں کو قابو میں رکھنے پر ان کا نظریہ کسی حد تک مختلف پایا۔ ان کی رائے کے مطابق اس طرح اقتدار ملے تو کبھی مکمل اختیارات نہیں مانگنا چاہیے، جو لوگ آپ کو اقتدار میں لائے ہیں وہ اگر ہر معاملے میں اپنا اختیار چاہتے ہیں تو انہیں روکا نہ جائے بلکہ سارا بوجھ ان پر ڈال دیا جائے۔ اگر اس طرح ملکی معاملات صحیح طور پر آگے بڑھنے لگیں تو اس کامیابی کا سہرا آخرکار سیاستدان ہی لے اڑتا ہے اور اگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے تو اس کا ملبہ صرف وزیراعظم پر نہیں گرتا بلکہ مقتدر قوتوں کو بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ بس ایسا ماحول قائم کریں جس سے یہ پیغام جائے کہ اگر یہ تجربہ ناکام ہوا تو ایک نہیں سب گھر جائیں گے اور یہ حالات وزیراعظم کی کم از کم ایک مدت تک برقرار رہنے چاہئیں، اس کے بعد جب آپ دوبارہ اقتدار میں آئیں تو ایک بااختیار وزیر اعظم بن کے دکھا سکتے ہیں۔

دو ہزار سات میں بھی عمران خان کو یقین تھا کہ میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ میں ان کے بہت پرستار موجود ہیں اور سخت سیاسی مؤقف کی وجہ سے ان کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کا براہ راست اقتدار روبہ زوال تھا۔ عمران خان کا زعم تھا کہ اس فارمولے پر عمل کرنے سے طاقتور حلقے مستقبل میں اقتدار میں حصہ لینے کا خیال آتے ہی کانوں کو ہاتھ لگایا کریں گے اور جو کام بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف نہ کر سکے وہ عمران کر کے دکھا سکتا ہے۔ توقع کے عین مطابق عمران خان نے آج سے دو سال پہلے اپنے بیان کردہ فارمولے کے تحت اقتدار حاصل کر لیا۔

آج اسی گفتگو کے تناظر میں حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لے رہا تھا تو عمران خان سے ایک خیالی گفتگو ذہن میں چلنے لگی۔ خادم نے سوال کیا کہ حکومت تو آپ نے حاصل کر لی لیکن کیا معاملات بھی آپ کے ذہن کے مطابق چل رہے ہیں۔ جواب ملا کہ شاید میری توقع سے بھی زیادہ بہتر۔ ملکی معیشت کچھ ماہ اسد عمر نے دیکھی لیکن اب یہ میری ذمہ داری نہیں ہے، وزارت دفاع پہلے بھی دفاع والے دیکھتے تھے۔ وزارت خارجہ میں بھی کم ہی دخل دیتا ہوں کیونکہ خاص ملکی حالات کی وجہ سے یہ تینوں وزارتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ پلاننگ کمیشن سے سی پیک لے کر اتھارٹی بنا دی ہے، اب اسے کامیاب کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ میں نے کشمیر کا سفیر بننا ضرور منظور کیا ہے لیکن کشمیر ہو یا افغان مصالحتی عمل، امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات کا توازن ہو یا سعودی اور ایرانی تنازعہ ہو میں نے یہ سب “تجربہ کار” ہاتھوں میں دیا ہوا ہے لیکن ترکی کے ساتھ تعلقات میں خود دیکھتا ہوں۔ عرض کیا شاید اسی لئے آپ صبح گیارہ بجے وزیر اعظم ہاؤس آتے ہیں اور چار بجے شام واپس چلے جاتے ہیں، حتی کہ این سی او سی کے ذریعے کرونا اور ٹڈی دل جیسے معاملات بھی عملا حوالے کر دیے ہیں۔

تھوڑی دیر توقف کے بعد جواب ملا یہ سب میرے ماڈل کے عین مطابق ہے ہم ناتجربہ کار ہیں اور پھر ہمارے “دوستوں” کو سب کچھ خود کر دکھانے کا شوق ہے۔ دیکھو اگر کامیابی ملے گی تو اس کا کریڈٹ مجھے ہی ملے گا اور ناکامی کا بہت تھوڑا ملبہ مجھے اٹھانا پڑے گا۔ ابھی کچھ دنوں میں اگر بجلی بنانے والی کمپنیاں چاہے کسی کے دباؤ پر اپنے نرخ کم کریں گی تو کریڈٹ مجھے جائے گا لیکن اگر کراچی کے نالے صاف نہ ہوئے تو ذمہ داری کسی اور کی ہوگی۔ ہاں سیاست میں خود دیکھتا ہوں، جہاں ضرورت پڑتی ہے وہاں مدد خود پہنچ جاتی ہے اور وہ صرف میرے لئے نہیں ہوتی، تمہیں تو پتہ ہے ہم سب ایک صفحہ پر ہیں۔ سینیٹ کا الیکشن ہو، عدم اعتماد کی تحریک تھی یا فضل الرحمان کا دھرنا یہ سب میرا سر درد نہیں تھا۔

بڑا مشہور تھا کہ ایک زرداری سب پہ بھاری، سینیٹ میں ہمارے ساتھ مل کے چیئرمین بنوایا پھر خواب دیکھ رہا تھا کہ سندھ حکومت کے ساتھ وفاق میں ہمارا اتحادی بنے گا۔ یہ میری سیاست کا کمال ہے کہ وہ نیب بھی بھگت رہا ہے، جیل بھی گیا اور پھر بھی سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک عدم اعتماد میں ہمیں ووٹ دینے پر مجبور تھا۔ ہلکی پھلکی اپوزیشن سے زیادہ اس کو ہمت نہیں اور اب پیپلزپارٹی کی کوشش یہ ہے کہ کسی طرح سندھ حکومت بچ جائے جو اس طرح تو نہیں بچ پائے گی کیونکہ اس معاملے پر ہم سب ایک صفحہ پر ہیں۔ میں دیکھوں گا کہ اٹھارویں ترمیم انہیں کیسے بچاتی ہے۔ عرض کیا لیکن آپ پر بھی تو عثمان بزدار کو فارغ کرنے کا دباؤ ہے۔ اس سوال پر قدرے جھنجھلا کر جواب آیا کہ اگر عثمان فارغ بھی ہو جائے تو حکومت پی ٹی آئی کی ہی رہے گی۔ عثمان کو اگر جانا بھی پڑا تو اس کے بدلے کم از کم سندھ کا راج بھی ہمیں حاصل ہوگا کیونکہ اگر میں ہر بات مانتا ہوں تو سیاست میں کچھ ناز میرے بھی اٹھانے پڑیں گے۔

اسی طرح نیب اور ایف آئی اے پر میرا حکم چلے گا کیونکہ ہمارے مقاصد مشترکہ ہیں۔ میں شہباز شریف کی عملیت پسندی کو نیب کے ذریعے ٹھیک کروں گا۔ شریف خاندان یہ سمجھتا ہے کہ حکومت خود بخود ناکام ہو جائے گی تو سب کچھ ان کی جھولی میں آن گرے گا، اپنی کرکٹ سے لے کر اب تک میں سیکھنے میں وقت ضرور لیتا ہوں لیکن کامیابی حاصل کر کے دم لیتا ہوں۔ ان کو میری پانچ سال کی مدت تو پوری کروانے دو یہ ہاتھ نہ ملیں تو پھر کہنا اور یہ ناکام حکومت کس بلا کا نام ہے، تمام ادارے ایک صفحے پر ہوں، میڈیا آپ کے ہاتھ میں ہو تو حکومت کامیاب ہی نظر آتی ہے۔ کیا کامران خان کے انٹرویو نے کمال نہیں کر دیا؟ جیو کو اپنے بارے میں غلط فہمی تھی لیکن اب میر شکیل جیل میں ہے۔ اس کے جیل جانے میں “ہم سب” ایک صفحے پر ہیں اور جیو میرے لئے ٹیلی تھون پر مجبور ہے۔ یہاں کچھ بھی کسی کی شہہ کے بغیر نہیں ہوتا۔ ورنہ چینی اور آٹے کی قیمتوں پر لوگ ہماری بوٹیاں نوچ لیتے۔ ہاں یہ فضل الرحمان ان سب سے خطرناک ہے لیکن اس کے طریقہ سیاست میں “سب” کے جانے کا خطرہ ہے، اس لئے وہ میرا سردرد نہیں ہے۔ نیب کے ذریعے اس کے بھائی کو نوٹس بھیجا ہے دیکھو کیسا ردعمل آتا ہے۔

پھر سوال کیا کہ مقتدر حلقے کبھی ایک آپشن نہیں رکھتے آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ ہی واحد آپشن ہیں۔ عمران خان نے قدرے جوش میں کہا یہی تو میرے ماڈل کی کامیابی ہے۔ شہباز شریف کو نواز شریف لے بیٹھا اور فضل الرحمان کو کرونا۔ نوازشریف تو نئے انتخابات سے کم پر راضی نہیں اور یہ مطالبہ مقتدر حلقوں کو منظور نہیں۔ اس کے پاس سٹریٹ پاور نہیں کہ اپنے مطالبات منوا سکے اور جو منوا سکتا ہے اسے کرونا اور شہباز شریف نے روک لیا۔ ویسے بھی بطور وزیر اعظم جو اختیارات اور نوازشات میں کئے جا رہا ہوں وہ کوئی اور وزیراعظم سوچ بھی نہیں سکتا۔ این سی او سی سے لے کر نالوں کی صفائی تک دوستوں کے حوالے کر دی گئی ہے اب ضروری ہے وہ اپنی کارکردگی دکھائیں۔ میں ایک لمحے کیلئے بھی تنہا ہر ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، اور ہاں میں کرپشن پر اپنے بیانیہ سے ایک فیصد بھی پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔ یہ بیانیہ میرا سیاسی سرمایہ ہے اگر مجھے کوئی نکالنے کی کوشش کرے گا تو میں لوگوں کو بتا تو سکوں گا کہ اتنے تعاون کے باوجود بھی وزیراعظم کو چلنے نہیں دیا جاتا۔ میرے اوپر اتفاق رائے سے حکومت چلانے کا بہت دباؤ پڑا لیکن مجھے پتہ ہے یہ اتفاق رائے اور مہرے آگے لے آئے گا۔ اسی موقف کی وجہ سے اب مجھے لانے والے بھی تنہا ہیں اور مجھے چلانا اب ان کی عزت کا مسئلہ ہے۔ بس فارن فنڈنگ کا کیس ہے جو میرے لئے ہر وقت بہت بڑا خطرہ ہے، میری کوشش ہے کہ یہ معاملہ بھی صلح جوئی کے دور میں حل ہو جائے۔ امید ہے الیکشن کمیشن تعاون کرے گا۔

پھر عرض کیا کہ یہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان تو بہت زبردست ثابت ہوا جبکہ آپ پر فارن فنڈنگ کیس میں وہاں کے لوگوں سے بھی پیسے لینے کا الزام ہے لیکن یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات یہاں تک کیسے پہنچ گئے۔ خان صاحب کو ظاہر ہے سوال کا پہلا حصہ اچھا نہ لگا، لہذا پہلے حصے کو نظر انداز کرتے ہوئے بولے کہ ہمارے حالات جیسے بھی ہوں لیکن میں واحد اسلامی ایٹمی طاقت والے ملک کا وزیراعظم ہوں، لیکن مجھے شاہی جہاز دے کر اچانک واپس لے لینا، ملائشیا میں ہونے والی کانفرنس میں مجھے دباؤ ڈال کر شرکت سے روک دینا بڑی توہین کا معاملہ ہے۔ میں نے یہ سارا معاملہ ترک صدر کو بتا کر اور ایک ماہ بعد ملائشیا جا کر کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کی غلطی کو تسلیم کر کے اپنی بےعزتی کا بدلہ بھی لے لیا۔ شاہ محمود نے جو کہا وہ ایک صحیح شکایت ہے، مجھے دوبارہ مخاطب کرتے ہوئے کہا ذرا سوچو اگر اسلامی ممالک کی تنظیم میں ملائشیا، ترکی، پاکستان اور ایران موجود نہ ہوں یا کوئی اور بلاک بن جائے تو تمام تر دولت کے باوجود ان عرب ممالک کی کیا حیثیت ہے۔ جلدی سے عرض کیا ہم امریکہ تک تنہا ہو جائیں گے۔ آپ کو اندازہ تو ہوگا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے سعودیہ سے کس طرح کے تعلقات ہیں۔ آپ تو انہیں بھی تنہا کر دیں گے۔ ابھی جواباً انہوں نے لفظ “ماڈل” ہی بولا تھا تو یہ کہتے ہوئے ملاقات ختم کرنے میں عافیت جانی کہ اس بات کا جواب دو ہزار تئیس میں دیجئے گا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *