Type to search

سماج فیچر نوجوان

جیئے ہی کہاں تھے جب وقت انتقال آیا

ابھی کرونا کی وجہ سے کافی سارے کام یا تو رکے ہوئے ہیں یا بہت بری طرح متاثر ہو چکے ہیں ۔ انہی کاموں میں سے ایک کام آسٹریلیا میں ڈگری مکمل کر چکے ہوئے امیدوار بھی ہیں ، جو کہ آسٹریلیا میں مستقل

سکونت کا بنیادی معیار تو پورا کر چکے ہیں ، لیکن چونکہ امیدوار کافی ہیں اس لیے ان میں پوائنٹس کا مقابلہ سخت ہو چکا ہے ۔ جو مستقل سکونت 65 پوائیٹز پر آتی تھی وہ اکثر پیشوں میں 110 پوائیٹز پر آتی ہے ۔ اسی لیے حکومت نے کافی ساری سکیمیں بھی متعارف کروائی ہیں کہ ایسے گریجویٹس دیہی اور کم آباد علاقوں میں جا کر رہیں اور پڑھیں یا کوئی ہنر سکھ کر اس میں کام کریں۔ تو ان کو مستقل سکونت کے لیے نامزد کیا جا سکتا ہے ۔ پہلے تو لوگ گنجان آباد علاقوں میں مقابلے کرتے تھے لیکن اب مایوس ہوچکے ہیں ، لیکن اب دیہی علاقے بھی مقابلے پر آ گئے ہیں ۔ میں بھی ایک ریجنل ایریا میں آچکا ہوں اور امید ہے کہ ایک سال بعد مستقل سکونت کے لیے نامزدگی مل جائے گی۔

ایک دن شام کو چہل قدمی کر رہا تھا کہ دوست کی کال آگئی جو کہ ابھی میلبورن شہر میں رہتا ہے اور اکاؤنٹنگ میں ڈگری مکمل کر چکنے کے باوجود وہاں پر مستقل سکونت کے آثار اُسے نظر نہیں آرہے ۔ کیسے ہو عباس ؟ اس نے حال احوال پوچھا ۔ اللہ کا شکر ہے بالکل ٹھیک ہوں تم سناؤ ؟ میں نے گرم جوشی سے کہا۔ یار بس کیا سناؤں میں تو عجیب ہی ذہنی الجھنوں کا شکار ہو چکا ہوں۔ اس نے ہمدردی بٹورنے کے انداز میں کہا۔ خیر ہو کیسی الجھنیں؟ میں نے پوچھا۔ سمجھ نہیں آتی یار کیا کیا جائے اس نے سرد آہ بھرتے ہوئے جواب دیا۔ ارے بھائی کیا پہیلیاں ڈال رہے ہو ، سیدھی بات بتاؤ ۔ میں نے تنگ آتے ہوئے اسے کہا ،ہاں یار الجھنیں ہیں کہ اب کیا کیا جائے یہاں پر ڈگری کی پھر مختلف ٹیسٹ دے کر  ۹۰ پوائیٹس کر لیے لیکن مستقل سکونت کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ہیں ۔ اس نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ ارے یار تم کسی بھی ریجنل علاقے میں آجاؤ۔ یہاں فرصت کے لمحے جیو، سکونت کے لیے نامزدگی بھی مل جائے گی ۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ یار نہیں ، ریجنل علاقے میں آؤ ، ایک سال رہو اور پھر پڑھو تو نامزدگی اپلائی کرو، اور نامزدگی مسترد ہوگئی تو پھر مزید ایک سال رہنا پڑے گا کہ شاید اگلے سال نامزدگی مل جائے اور چلو مان لیا کہ اگلے سال مل بھی جاتی ہے تو اس عمل میں دو سے تین سال لگ جائیں گے، اور پھر تین سال خاص آمدنی کمانی پڑے گی ۔ اس میں بھی دو سے تین سال لگے گے، پھر جاکے مستقل سکونت ملے گی ۔ تو اس پورے کام میں سات سال لگ سکتے ہیں۔ اور بتایا کہ میں کوئی آسان راستہ ڈھونڈ رہا ہوں اگر مل گیا تو اسے اپناؤں ہوگا ۔ اس نے اپنا مقدمہ تفصیل سے پیش کیا ۔

دیکھو یار 6 سے 8سال کا تم سوچ کر بیٹھ گئے ہو لیکن یہ بتاؤ کبھی تم نے 2020 کے جنوری میں بیٹھ کر یہ سوچا تھا کہ ایک وائرس آئے گا اور دنیا کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا دے گا. اس نے نفی میں جواب دیا ۔ تو یار خدا پر بھروسہ رکھو کوئی نہ کوئی راہ نکل آئے گی ۔ ہوسکتا ہے ابھی ہمیں یہ چیزیں مبہم لگ رہی ہو اور کوئی ایک واقعہ چیزوں کو ایسا پلٹئے کہ میری اور تمہاری ساری کیلکولیشن الٹی سیدھی ہو جائے۔ آج تک کسی نے مستقبل کے بارے میں بالکل صحیح پیشن گوئی نہیں کی تو تم بھی خود کو اس مشکل میں نہ ڈالو۔ میں نے اس کی تشفی کرنے کی کوشش کی۔ لیکن یار اگر میں کینیڈا جاؤں اور وہاں اپنے لئے کسی نوکری کا بندوبست کروں تو وہاں آرام سے مستقل سکونت مل سکتی ہے ۔ اس نے پرامید لہجے میں کہا۔ اتنی دور کیوں جا رہے ہو اگر تم ہوبارٹ شہر میں جا کر اپنے لئے نوکری کا بندوبست کر لیتے ہو تو یہاں پر بھی یہ کام ہوسکتا ہے ۔ میں نے اس سے ٹوکتے ہوئےکہا۔ لیکن یار 6 سال لگ جائیں گے ۔ اس نے بیزاری سے کہا ۔ یار دیکھو ایک لمحے کے لئے مان لو تمہارے پاس مستقل سکونت آ گئی ہے تو سوچ کر بتاؤ کیا مختلف کرو گے اور وہ واقعی سوچ میں پڑ گیا۔ تو میں نے کہا دیکھو تم پھر بھی یہی کام کرتے رہو گے جو کام کر رہے ہو اور اتنے ہی پیسے کماؤ گے جو کما رہے ہو تم ستقل سکونت کی ذہنی ٹینشن کو ایک طرف رکھ کر اپنی زندگی جینے کی کوشش کرو۔ تمہیں پتا ہے زیادہ تر لوگ آدھے سے زیادہ زندگی جینے کی تیاری میں لگا دیتے ہیں اور ہمیشہ خود کو کہتے رہتے ہیں کہ بس یہ ایک کام ہو جائے تو میں خوشی سے ذندگی جیوؤں گا اور تمہیں پتا ہے یہ کام کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اپنے آپ کو اس بات کا یقین دلاؤ کہ زندگی صرف اور صرف لمحہ موجود میں ہے ۔ انہی لمحوں کا مجموعہ ہماری زندگی کو بناتا ہے۔ ماضی پر ہمارا کوئی قابو ہے اور نہ مستقبل پر ہمارا کنٹرول، کیوں خواہ مخواہ سوچ سوچ کے زندگی کے رنگین اور خوبصورت لمحوں کو ضائع کر دیا جائے ؟ جو کہ ایک نعمت سے کم نہیں اور کفران نعمت کی سزا کا شاید تمہیں اندازہ ہو ۔ میں تین مہینوں سے یہاں آیا ہوا ہوں اور میں نے تین مہینوں کو اچھے سے جیا ہے۔ مجھے مستقل سکونت ملے یا نہ ملے، یہ حسین لمحے میں نے جو جئے ہیں ان کی خوبصورت یادیں میرے پاس ہونگی ۔ اس لئے میرے بھائی خدا کا کام خدا پر چھوڑو اور اپنی زندگی کو اچھے سے جیو وہ کہتے ہیں نا
when it’s time to die let’s not discover that you had never really lived۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *