Type to search

تجزیہ

ایک اور غازی کا ظہور: توہین مذہب پر ماورائے عدالت قتل، اس کے اسباب اور چند سوالات

پشاور کی عدالت میں توہین رسالت کا مقدمہ زیرسماعت تھا کہ یکایک ایک نوجوان اٹھا اور توہین رسالت  کے ملزم پر گولی چلادی۔ ملزم موقع پر ہی ہلاک ہوگیا اوراس کے نتیجے میں پاکستان کے نقشے پرنہ صرف ایک اور غازی نے جنم لے لیا بلکہ توہین رسالت یا مذہب کے نام پر ماورائے عدالت قتل ہونے والوں کی فہرست میں بھی ایک اور شخص کا اضافہ ہوگیا۔  دنیا میں شائد ہی کوئی ایسا مسلمان ملک ہوگا جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے اظہارکیلئے اس قدرخون خرابے سے گزرا ہو۔ امن کا دعویدار مذہب کسطرح اپنے پیروکاروں کو کسی ایسے عمل کے لئے متحرک کرسکتا ہے جسے ریاست غیرقانونی عمل قرار دیتی ہو لیکن اس عمل کے مرتکب افراد اور اس کے پیروکاروں اسے ایک انتہائی قابل احترام عمل  سےتشبیہ دیتے ہوں؟ یہ ایک ایسا سوال جس کا جواب ہمیں اس تاریخی واقعہ سے ملتا ہے جب اس اصطلاح کا پہلے پہل استعمال ہوا تھا۔

بیسویں صدی کے ابتدا میں جب ہندوستانی معاشرہ نہائت سنگین سیاسی کشمکش سے دوچار تھا، ہندومسلم فسادات بھی آئے دن زور پکڑتے جارہے تھے اسی دوران لاہور میں  توہین رسالت کے نام پر ماورائے عدالت قتل کا پہلا واقعہ پیش آیا جس میں ایک ہندو پبلشرکو ایک مسلمان نوجوان نے توہین رسالت کے الزام پر قتل کیا تھا۔ یہ واقع 1929 میں پیش آیا تھا۔ چونکہ مسلم نوجوان نے ببانگ دہل اپنے جرم کا اقرار کیا تھا اس لئے وہ  جلد ہی مسلمانوں کا ہیرو بن گیا۔ یہ وہ دور تھا جب غیر منقسم ہندوستان میں بسنے والے مسلمان اس خوفناک حقیقت سے پریشان تھے کہ آنے والے دنوں میں ہندو اکثریت کی حکمرانی ایک ناگزیر حقیقت بن جائیگی اوران کیلئے اپنی ایک الگ آزاد ریاست کا قیام مشکل اور ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔ ان حالات میں اس واقعے نے ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنی علیحدہ شناخت ثابت کرنے کے لئے ایک اور اہم وجہ فراہم کردی کہ وہ یہ ثابت کرسکیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں اورہندوؤں میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی زیادہ تر قیادت بھی فوراً ہی اس مسلم نوجوان کی حمائت میں کھڑی ہوگئی۔  یہ نوجوان بعدازاں غازی علم الدین شہید کے نام سے یاد کیا گیا۔

یہ وہ دور تھا جب مذہب اور سیاست ایک ہی چیز بنکررہ گئے تھے اور اس کی ایک خاص وجہ بھی تھی۔ مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کیلئے ان دنوں سیاسی جدوجہد زوروں پر تھی اوریہ جدوجہد ایک غالب مذہبی نظریہ کےساتھ جڑی ہوئی تھی اوراس نظریہ کی حمایت میں آنے والے ہر عمل کو مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اس ماورائے عدالت قتل کی حمائت کیلئے تمام جوش و ولولہ اس وقت اپنی اہمیت کھوبیٹھا جب عدالت نے اس غازی علم دین شہید کی رحم کیلئےتمام درخواستوں کو مسترد کردیا۔ 31 اکتوبر 1929 کوغازی علم الدین شہید کو پھانسی دے دی گئی اور بعد میں اسے نہائت عقیدت و احترام کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ، اس کی آخری رسومات میں شریک لوگوں کی تعداد 600،000 کے قریب تھی۔ بعدازاں اس کے اعزاز میں ایک مقبرہ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ ہندوستان میں مبینہ طورپر توہین رسالت کےسلسلے میں ماورائے عدالت قتل کے ارتکاب پر وہ پہلا شخص تھا جسے غازی کے لقب سے یاد کیا گیاتھا ۔ غازی علم الدین شہید کی پھانسی کے چھ سال بعد ، ایک اور ہندو شخص ناتھھو رام کو توہین رسالت کے الزام پر ستمبر 1934 میں کراچی کی ایک عدالت کے کمرے میں قتل کردیا گیا تھا۔ اس ماورائے عدالت قتل کا ارتکاب ایک مسلمان شخص عبدالقیوم نے کیا تھا۔

 

اس واقعے نے ایک بار پھر مسلم معاشرے کو اس شخص کی حمایت کیلئے مجبور کردیا جس نے توہین رسالت کے ملزم سے بدلہ لیا تھا۔ ایک مسلم وفد عبد القیوم کے لیے ڈاکٹر علامہ اقبال کی حمایت حاصل کرنے کی خاطر انکے پاس پہنچا۔ وفد کی زبانی واقع کی تفصیل سننے کے بعد علامہ اقبال نے کہا، “کیا عبدالقیوم کمزورپڑچکا ہےیا خوفزدہ ہورہا ہے؟” وفد کے ممبروں نے جواب دیا ، “نہیں ، نہ تواس نے اپنا بیان بدلاہے نہ ہی وہ خوفزدہ ہے۔ غازی عبدالقیوم ببانگ دہل کہتے ہیں کہ انہوں نےاپنے لئے شہادت کا سودا کیا ہے”۔ یہ سن کر علامہ اقبال بولے ، “جب وہ خود کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے شہادت خریدی ہے تو پھر میں اس کے اجر کی راہ میں کیسے آسکتا ہوں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں کسی مسلمان کے لئے وائسرائے کی چاپلوسی کروں جبکہ اگروہ زندہ رہا تو غازی (فاتح) ہے ، اور مرجائےتو شہید ہے؟

 

اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہےکہ غازی کا لقب علامہ اقبال نے اس شخص کے لئے استعمال کیا تھا جس نے توہین رسالت کے ملزم کوماورائے عدالت قتل کردیا تھا۔ اس کے باوجود، غازی عبدالقیوم کو وہ شہرت نہ مل سکی جو غازی علم الدین شہید کے حصے میں آئی تھی ۔ حقیقت یہ ہیکہ غازی عبدالقیوم کو کوئی آج جانتا بھی نہیں ہے۔   بہرحال اس واقعہ سے یہ رواج بن گیا کہ کوئی بھی شخص جواس الزام کی بنیاد پر کسی کوماورائےعدالت قتل کردے تو اسے غازی کا لقب عطا کردیا جائے جیسا کہ بعد میں ہونے والے واقعات سے پتہ چلتا ہے۔  اس حقیقت کے باوجود کہ ملک میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں جو اس روایت کی حمایت کرتا ہو اور قتل کے اس فعل کو قانونی سمجھے۔ لیکن اسکے باوجود نہ صرف مزہبی حلقے بلکہ عدلیہ کے کچھ لوگ اور قانون نافز کرنے والے تک توہین رسالت کے الزام میں کسی کو ماورائے عدالت قتل کرنے والے کو ’’ غازی ‘‘ کے اعزازی لقب سے نوازنے کو جائزاور قابل ستائش سمجھتے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ لفظ “غازی” کے درحقیقت معنی کیا ہیں اور کن اعمال اور افراد کیلئےاس کا استعمال کیا جاتا ہے؟ انٹرنیٹ پراس لفظ کے معنی کی تلاش کے نتیجے میں جو  معلومات حاصل ہوئیں وہ درج ذیل ہیں:

غازی ایک عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ‘فوجی مہم یا چھاپہ مار کارروائی’۔ اس لفظ کا استعمال ‘جدوجہد کرنے’ کیلئے بھی کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح یہ لفظ مجاہد یا “جدوجہد کرنے والے” کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اس کا اکثر استعمال غیر مسلموں کے خلاف لڑنے والے مسلمان سپاہی کے لئے بھی ایک اعزازی کے لقب کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ترکی میں ایک فاتح سلطان ، جنرل ، وغیرہ کو ایک لقب دیا گیا۔

ان تعریفوں کے مطابق آج تک توہین رسالت کے الزام میں کسی کو قتل کرنے والوں کیلئے غازی کے لقب کا استعمال سوالیہ نشان بن جاتا ہے کیونکہ وہ تمام افراد جنہوں نے مذہب کے نام ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کئے تھے وہ کبھی بھی اپنے مخالف سے حالت جنگ میں نہیں تھے اور توہین رسالت کے الزامات کے تحت مارے جانے والے ہمیشہ اس وقت غیر مسلح تھے جب انہیں قتل کیا گیا تھا اور یہ کہ انھوں نے کبھی بھی اپنے قاتل کو لڑائی کے لئے للکارا نہیں تھا۔

اپنے آغاز سے لے کر آج تک ، پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات میں کم از کم 84 افراد کو توہین رسالت کے الزام پر ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہےاور ان میں سے کچھ افراد کا قتل کئی ایک لوگوں کے ہجوم نے کیا تھا (ٹیبل 01)

Table 01: PERSONS EXTRAJUDICALLY MURDERED ON BLASPHEMY CHARGES (1929 – Jun 2020)
Year Christians Muslims Ahmadi Hindu Budhist Ismaili Total
1929       1     1
1935       1     1
1948     1       1
1950     2       2
1992 4           4
1993 1           1
1994   1         1
1995 1 2 2       5
1996 0 0 0 0 0 0 0
1997   1         1
1998 1           1
1999   2         2
2000   1         1
2001   1         1
2002   3         3
2003 2 2         4
2004 0 0 0 0 0 0 0
2005   2         2
2006   2         2
2007   1         1
2008 1 1   1     3
2009 8 2         10
2010 2           2
2011 3 5 2   1   11
2012 1 2 1       4
2013 0 0 0 0 0 0 0
2014 2 3 5       10
2015   1       1 2
2016   1         1
2017   3         3
2018 0 2 1       3
2019   1         1
Jul-20   1         1
               
Total 26 40 14 3 1 1 85
Percentage 30.59 47.06 16.47 3.53 1.18 1.18  

 

اگر غازی علم الدین شہید کی روایت کو ہرتوہین رسالت کے الزام پر قتل کرنے والے کیلئے اسی سنجیدگی سے استعمال کیا جاتا جیسا کہ پہلے غازی کیلئے استعمال کیا گیا تھا تواب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو غازی کے لقب سے نوازا جاچکا ہوتا اور ان کے لئے اتنی ہی تعداد میں مقبرے بھی تعمیرکیے جاچکے ہوتے۔ لیکن لگتا ایسا ہیکہ روایت نے پہلے واقعے کے فورا بعد ہی اپنی اہمیت کھو دی اور ایک لمبے عرصے سے اس طرح کے تمام ماورائے عدالت کے قتل انتہائی خفیہ طریقے سے انجام دئیے گئے کہ ان کا ارتکاب کرنے والوں کا آج تک پتہ ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کچھ واقعات ایسے بھی ہیں کہ جہاں خود اس اقدام کے حامیوں نے بھی ایسے افراد کو غازی کالقب نوازنے سے اتفاق نہیں کیا۔ اگلی قسط میں ان واقعات کا زکر کیا جائے گا جو اس موقف کی حمائت میں ثبوت فراہم کریں گے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *