Type to search

بلاگ تجزیہ حکومت سیاست

کراچی کو اون کریں کیونکہ کراچی سب کو اون کرتا ہے

کراچی میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ کئی سالوں کی طرح اس سال بھی کراچی میں تباہی اور بربادی ہوئی ہے۔ کوئی علاقہ اور کوئی شہری ایسا نہیں جو اس طوفانی بارش سے متاثر نہ ہوا ہو، لوگوں کا لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہوا ہے، کسی کے گھر میں پانی آیا تو کوئی سڑکوں پر موجود پانی میں پھنس گیا۔ کراچی کے شہریوں نے اس بارش میں حد سے زیادہ اذیت اٹھائی ہے۔

ذرا ان لوگوں کی بے بسی اور اذیت کا اندازہ کیجیے جن کے گھروں میں پانی بھر گیا، جو اپنے گھر کے سامان کو برباد ہوتا دیکھتے رہے، جن کی لاکھوں کی گاڑیاں بہہ گئیں۔ جن کے پیارے کرنٹ لگنے اور ڈوبنے سے جاں بحق ہو گئے۔ صرف وہی ان کی بے بسی کا اندازہ کرسکتا ہے جس کے پاس احساس ہو۔ کراچی والوں کو جو اذیت اٹھانی پڑتی ہے اس اذیت میں سیاسی جماعتوں اور اداروں کی نااہلی دیکھ کر مزید اضافہ ہوتا ہے، کراچی والوں کو صرف ریکارڈ توڑ بارش ہی نہیں بلکہ “ریکارڈ توڑ” نااہلی بھی بھگتنی پڑ رہی ہے۔ انہیں حکمرانوں کی ریکارڈ توڑ بے حسی کا سامنا بھی ہے۔

اس سال یقینناً ریکارڈ توڑ بارشیں ہوئیں مگر یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے کراچی کی کم و بیش یہی صورتحال ہوجاتی ہے جو اس سال ہوئی، یقین نہیں آتا تو پچھلے سالوں کے ان ہی دنوں کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں یونہی لوگ پریشان ہوئے، بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔ نہ حالات بدلتے ہیں نہ حکمرانوں کے رویے۔

وزیراعلی سندھ جناب مراد علی شاہ کی ہی سن لیں، ان کا کہنا ہے کہ اتنی شدید بارش میں کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ یقینناً ایسی طوفانی بارش میں کوئی کچھ نہیں کرسکتا لیکن کیا صوبائی اور بلدیاتی حکومتیں بارشوں کے علاوہ بھی کسی مسئلہ کے حل کے لئے کچھ کر رہی ہیں۔ کیا پچھلے بارہ سال سے پی پی نے کراچی سمیت پورے سندھ کے لئے کوئی قابل ذکر کام کیا ہے۔ ایم کیو ایم جو تیس سال تک کراچی پہ حکومت کرتی رہی آج اس کا عالم یہ ہے اس کے مئیر وسیم اختر پریس کانفرنس میں بیٹھے رو رہے ہیں، جنہیں کام کرنا ہے اگر وہ بیٹھ کر روئیں گے تو کام کون کرے گا؟ جس شہر کا کچرا تک بلدیاتی اور صوبائی حکومتیں مل کر صاف نہیں کرسکتی وہ اور کیا کریں گی۔ یہی کچرا نالوں میں جاتا ہے تو وہ چوک ہوجاتے ہیں نتیجتاً پانی واپس آنے لگتا ہے کیونکہ اسے نکاس کی جگہ نہیں ملتی۔

یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ نالوں پہ تجاوزات ہیں۔ باقاعدہ پوری پوری بستیاں آباد ہیں لیکن کیا اس سوال کا جواب کسی کے پاس ہے کہ جب یہ تجاوزات اور بستیاں آباد ہورہی تھیں تو حکومت اور اس کے ادارے کہاں تھے؟ اب تو پورا شہر برباد ہوچکا ہے اب ڈھنڈورا پیٹنے کا کیا فائدہ؟ اب اس شہر کے معاملات کو بہتر کرنے کے لئے بڑے اور مشکل فیصلے کرنے پڑیں۔ طویل المدت پلان بنانا پڑے گا۔ نہ صرف پلان بنانا ہوگا بلکہ اس پہ عملدرآمد بھی کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ شہر مزید سے مزید برباد ہوتا جائے گا۔

ابھی بارشوں کے دوران لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، کل جب بارشوں کا موسم ختم ہوگا تو بھی لوگوں کی مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔ ان بارشوں کی وجہ سے جو سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں ان کی طرف بھی توجہ دینی پڑے گی اور بارش کی وجہ سے ہی جو کچرا، گندگی اور غلاظت سارے شہر میں پھیلی ہے اسے بھی ٹھیک کرنا ہوگا۔ اس گندگی غلاظت سے وبائی امراض پھوٹنے کا خطرہ بھی ہے کیا ان سارے مسائل کو حل کرنے کے بارے میں کوئی سوچ رہا ہے؟ یہ صرف بارش سے جڑے مسائل ہیں جن کا میں نے ذکر کیا اس کے علاوہ کراچی والوں کو جن گھمبیر پریشانیوں اور مسائل کا سامنا ہے وہ الگ ہیں۔

ہم تو یہ بتا بتا کر بھی تھک گئے کہ مسائل کیا ہیں اور کون ذمہ دار ہے اب تو مسئلے بلکہ مسائل کے حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اب معاملات Do Or Die والی نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ کراچی کوئی ایسا شہر نہیں ہے کہ جس کو طویل عرصے تک نظر انداز کر دیں۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے لاکھوں کروڑوں خاندانوں کا روزگار اس شہر سے وابستہ ہے۔ کروڑوں لوگوں کا جینا مرنا اسی شہر میں ہے۔ کیا ریاست ان کروڑوں لوگوں کو چند سو نااہلوں کے سپرد کر کے بری الذمہ ہوسکتی ہے؟ اب ایکشن نہیں ہوگا تو پھر کب ہوگا؟ اب بھی اگر سب آنکھیں بند کئے بیٹھے رہیں گے تو اس شہر کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟ کراچی کم از کم اس سب کا حقدار تو نہیں ہے۔ کراچی کو اون کریں کیونکہ سب کو اون کرتا ہے۔ یہ شہر ہمیشہ بدقسمت نہیں رہنا چاہیے اب اس کی قسمت بدل جانی چاہیے ورنہ نقصان سب کا ہوگا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *