Type to search

تجزیہ مذہب میڈیا

24 نیوز کا لائسنس معطل کرنے والا پیمرا بول نیوز کی فرقہ واریت پر خاموش کیوں؟

پیمرا نے ایک مرتبہ پھر 24 نیوز HD کا لائسنس معطل کر دیا ہے اور اس بار وجہ فرقہ واریت پر مبنی مواد کا پھیلایا جانا ہے۔ پیمرا کے مطابق 24 نیوز کی جانب سے محرم الحرام ٹرانمیشن کے دوران نفرت پر مبنی مواد نشر کیا گیا جس کے بعد اس کا لائسنس معطّل کر دیا گیا ہے اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔

اتوار کے روز جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں پیمرا کی جانب سے کہا گیا کہ انہوں نے 20 اگست کو تمام ٹی وی چینلز کو ایک advisory جاری کی تھی جس میں خاص طور پر کہا گیا تھا کہ ان کے پلیٹ فارمز سے ایسا کوئی مواد نشر نہ ہو جس کے باعث بین المذاہب ہم آہنگی کو ٹھیس پہنچے یا یہ نفرت انگیزی اور فرقہ واریت پر مبنی ہو۔

تاہم، 24 نیوز کی جانب سے 10 محرم الحرام کو خصوصی ٹرانسمیشن کے دوران نفرت انگیز مواد بغیر کسی ایڈیٹوریل کنٹرول کے نشر کیا گیا اور پیمرا قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کی۔ پیمرا کو سوشل میڈیا پر اس مواد کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں جس پر اتھارٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 30(3) کے تحت 24 نیوز کا لائسنس معطل کر دیا ہے کیوں کہ نشر کیے گئے نفرت انگیز مواد سے ملک بھر میں نقص امن کا اندیشہ ہے۔

مزید براں، 24 نیوز کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 روز میں جواب دہی کا حکم دیا ہے اور قانون کے مطابق چینل کو ذاتی شنوائی کا موقع فراہم کیاگیا ہے۔ چینل کا لائسنس انکوائری مکمل ہونے تک معطل رہے گا۔

یاد رہے کہ 24 نیوز پر چلنے والی ٹرانسمیشن کے دوران کراچی میں جلوس میں پڑھنی جانے والی ظہرین کی نماز براہِ راست نشر کی جا رہی تھی جس کے دوران امام کی جانب سے کچھ ایسے کلمات لاؤڈ سپیکر پر ادا کیے گئے جن پر لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے غم و غصے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ خاص کر سپاہ صحابہ کے بطن سے نکلنے والی اہلسنت والجماعت کی جانب سے اس مواد کے نشر کیے جانے پر ریاستی اداروں سے فوری طور پر اس کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ اس جماعت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لینے کا دھمکی آمیز اعلان کیا گیا ہے کہ اگر اس بار سخت ایکشن نہ لیا گیا اور جہاں جہاں یہ مسئلہ سمامنے آیا ہے، ان مجالس کے لائسنس منسوخ کر کے لائسنس ہولڈرز اور ذاکروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ہم اس کا انتقام خود لیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حوالے سے اہل سنت والجماعت کی تمام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث تنظیمیں عنقریب اجتماعی موقف کے ساتھ سامنے آئیں گی۔ یہاں تک کہ 24 نیوز کی نشریات معطل کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھی انہوں نے کہا کہ یہ ناکافی ہے اور چینل انتظامیہ اور اس کے مالک کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

دوسری جانب 24 نیوز کی جانب سے اس مواد کے نشر کیے جانے پر معافی مانگی گئی اور کہا گیا کہ یہ مواد عربی میں نشر ہو رہا تھا جس کے باعث ایڈیٹوریل بورڈ اسے سمجھنے میں ناکام رہا اور نتیجتاً کنٹرول نہ کر سکا۔ چینل کا کہنا تھا کہ رسولؐ اللہ کے صحابہؓ کرام کے بارے میں یہ ایسی گستاخی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ تاہم، یہ ویڈیو اب چینل کے یوٹیوب چینل سے ہٹائی جا چکی ہے، اور چینل انتظامیہ 14 روز بعد پیمرا کے سامنے پیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کرے گی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ 24 نیوز کا لائسنس معطل کیا گیا ہو۔ اس سے قبل کئی مرتبہ ایسا کیا جا چکا ہے اور قریب دو ماہ قبل اس کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ دو سال کے دوران متعدد مرتبہ نجم سیٹھی کے پروگرام کو بھی بند کیا گیا تھا اور وزیر اعظم عمران خان کی نجی زندگی کے حوالے سے دی گئی ایک خبر کی بنیاد پر اس چینل کا لائسنس ماضی میں بھی معطل ہوا تھا۔ پچھلی مرتبہ چینل انتظامیہ نے چینل بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن بعد ازاں عدالت سے یہ لائسنس بحال ہونے کے بعد چینل دوبارہ آن ایئر ہو گیا تھا۔ مگر اب ایک بار پھر چینل کی نشریات معطل کر دی گئی ہیں اور اس بار اس کی وجہ مذہبی منافرت پر مبنی مواد کا نشر ہونا ہے جس کے بعد اس کا دوبارہ بحال ہونا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق کراچی کے مرکزی جلوس میں متنازع دعا کرنے والے مولوی تقی جعفر کو سکیورٹی اداروں نے گرفتار کر لیا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اب سے ماہ ہفتے قبل جب بول نیوز پر ایک اہلِ تشیع عالمِ دین ضمیر اختر نقوی کو بٹھا کر سنی مولوی حضرات نے ان سے ان کے عقائد پر فرقہ واریت پر مبنی سوالات کیے تھے، اور ان کو مجبور کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ متنازع معاملات پر کوئی واضح مؤقف ٹی وی پر بیٹھ کر اختیار کریں تو گو کہ ضمیر اختر نقوی یہاں سے اٹھ کر چلے گئے تھے، پیمرا کی جانب سے اس موقع پر کوئی سخت ایکشن دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ بول نیوز کا لائسنس نہ معطل کیا گیا نہ ہی منسوخ۔ لہٰذا یہاں پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اپنی پسند کی فرقہ واریت پھیلانے اور اپنے پسندیدہ چینلز پر ایسا مواد پھیلانے کی صورت میں پیمرا کا رویہ خاصہ مختلف ہوتا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *