Type to search

ثقافت سیر و سیاحت فیچر کلچر

دیس دیس کی سیر: ہر جا، ہر سو ،ایک نیا فسانہ، ایک نئی کہانی

میری زندگی کا آغاز پاکستان کے ایک چھوٹے سے  گاؤں راؤخانوالہ ضلع قصور سے ہوا۔ میرا تعلق ایک متوسط طبقے کے خاندان سے تھا۔جب میں پچیس سال کا تھا میں نے کچھ نیا کرنے کا سوچا۔ میں نے  دبئی جانے کا فیصلہ کیا اور  1981 میں  دبئی آگیا۔ اس وقت  دبئی بہت زیادہ مشہور اور ترقی یافتہ نہیں تھا۔یہاں کا موسم بھی خوشگوار نہیں تھا۔ بہر حال یہاں آ کر  میں نے کام شروع کیا اورایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ ایک اور مسئلہ زبان کا بھی تھا۔لیکن میں نے کوشش جاری رکھی اور مختلف چھوٹی چھوٹی ملازمتیں کرتا رہا۔پھر مجھے دبئی آرمی میں اچھی ملازمت مل گئی۔میں نے تیرہ سال تک آرمی میں کام کیا۔

آرمی میں ملازمت کے دوران میرا واسطہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگوں سے پڑا۔ میں نے ان لوگوں کو بہت قریب سے جانا ۔ یہی وہ وقت تھا جب مجھے مختلف ممالک کے لوگوں اور ان کی ثقافتوں کو اور بھی قریب سے دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ لہذا میں نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔

1988میں میرا پہلا تفریحی دورہ تھائی لینڈ کا تھا ۔جیسا میں نے کبھی سوچا یا سنا تھا، ہر چیز اس سے بالکل مختلف اور انوکھی تھی۔ وہاں سے مجھے دنیا دیکھنے کا اور بھی شوق پیدا ہوا۔اور پھر 1988 سے لیکر اب تک میں دنیا کے 83 سے زیادہ ممالک اور 250 سے زیادہ بڑے شہر دیکھ چکا ہوں جن کی تفصیل ذیل میں درج ہے۔ ابوظہبی، الاسکا، الجیریا، عجمان، آسٹریلیا، البانیہ، انڈورا، آزربائیجان، بیلجیم، برونائی، بلغاریہ، کینڈا، سائپرس، چائنہ، چیک ری پبلک، ڈنمارک، دبئی، انگلینڈ، مصر، اسٹونیہ، فن لینڈ، فرانس، فجیرہ، جرمنی، جارجیا، جبرالٹر، جاپان، یونان، ہنگری، انڈونیشیا، آئنان جزیرے، ایران، آئرلینڈ، آئرلینڈ شمالی السٹر، اٹلی، اردن، کینیا، شمالی کوریہ، لیتویہ، لبنان، لیچسٹین، لیتھونیا، لکسمبورگ، ملائشیا، مالٹا، میکسیکو، موناکو، مراکش، نیپال، نیدرلینڈ، ناروے، اومان، پاکستان، فلپائن، پولینڈ، پرتگال، پرنس ایڈورڈ جزیرہ، قطر، راس الخیمہ، رومانیہ، روس، سائبیریہ، سعودی عرب، سکاٹ لینڈ، شارجہ، سنگاپور، سری لنکا، سوڈان، سپین، سویڈن، سوٹزرلینڈ، تائیوان، تنزانیہ، تھائی لینڈ، ترکی (یورپ)، ترکی (ایشیا)، یوکرین، ام القوین، یونائیٹڈ سٹیٹس، ویٹکن سٹی، ویتنام، ویلز، ہانگ کانگ۔

                             مجھ میں اور دوسرے  سیاحوں میں صرف یہ فرق ہے کہ میرے پاس  پاکستانی پاسپورٹ ہے۔اور اس پر مختلف ممالک کے ویزے حاصل کرنا خاصہ مشکل کام ہے۔ لیکن میرے اچھے اور شفاف ریکارڈ کے باعث میرا پاسپورٹ  کئی سارے رنگین ویزوں سے بھرا ہوا ہے۔میرا خیال ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں کا سفر   سب سے بڑا علم ہےجو ایک انسان حاصل کر سکتا ہے۔کیونکہ یہ  دنیا کہ مختلف تہذیبوں کو دیکھنے کے لیےانسان کی آنکھیں کھولتا ہے اور اس کے دل میں دنیاکی عزت اور احترام پیدا کرتا ہے۔  مجھے جب بھی موقع ملا میں نے اپنی بیوی، بیٹے اور بیٹی کو بھی  تفریحی دورں پراٹھائیس مختلف ممالک میں بھیجا۔اس کے ساتھ ساتھ اپنے سٹاف کو بھی کمپنی کے اخراجات پر  چار ممالک کی سیرکروائی۔

ان سب ممالک کی سیاحت کے با وجود بھی مجھے کسی چیز کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ میں دنیا کا سفر درست انداز میں یعنی زمینی راستے سےکرنا چاہتا تھا ۔ اس دوران میں آرمی کی ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنا کاروباربھی شروع کر چکا تھالیکن آرمی کی ملازمت سے لیکر اپنا کاروبار   شروع کرنے تک میرے پا س   اتنی رقم نہیں تھی کہ دنیا کا سفر کر سکتا۔ لہٰذا میں نے انتظار کیا۔ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ ھنیام سٹیل،  جو کہ دبئی میں  میری ایک  سٹیل فیکٹری ہے ، بڑھتی گئی اور  مجھے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا موقع ملتا گیا۔ آج میں جس مقام پہ ہوں، میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا۔میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ آپ دل لگا کر  محنت کریں۔زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں لیکن اگر ہم محنت کرتے  رہیں ہم ضرور اپنی منزل کو پا لیں گے۔

13کتوبر 2017 کو میں نے ایک دن پر مشتمل پاکستان کا اسپیشل ٹور کیا۔ میں دبئی سے کراچی گیا۔ گورا قبرستان کراچی میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کے احترام کے لیے انکی کی قبر پر گیا۔ اور اسی دن واپس دبئی آ گیا۔یہ میری زندگی کا بہترین ٹور تھا۔

                    2012 میں میں اپنے خاندان سمیت کینڈا منتقل ہو گیاتھا۔کینڈا میں قیام کے دوران میں نے زمینی راستے سےمختلف سفر کرتا رہا۔ 2012 سے 2018 تک میں نے اور میری بیوی نےکینڈا ، الاسکا، امریکہ اور میکسیکو کےمختلف علاقوں کے ٹورز کیے۔ تقریباً 95,000کلو میٹر پر مشتمل یہ ٹورز ہم نے اپنی کار   Toyota Rav4 پر کیےجو میں نے 12.12.12 کو کینڈا سے خریدی۔   یہ اتنا شاندار تجربہ تھاکہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ۔

 

 

                  جب میں نے اپنے دوسرے ٹور کا پروگرام بنایا اس وقت میں دبئی میں تھا۔ میرا ارادہ اپنی کارمیں دبئی سے یورپ اور پھر واپس دبئی کا سفر کرنے کاتھا۔ میں کافی سوچا کہ یہ سفر مجھے کس گاڑی پر کرنا چاہیئے۔اور پھر  آخر کارمیں نے سوزوکی جمنی کا انتخاب کیا جو کہ مارکیٹ میں دستیاب سب سے چھوٹی 4×4گاڑی ہے۔  میں نے سوزوکی کو مکمل فنکشنل آروی میں تبدیل کر لیا۔ جس میں  شفٹ بیڈ ، باورچی خانہ ،پورٹیبل ٹوائلٹ ،سولر پینل کا بنانا اور بہت ساری چیزیں شامل تھیں۔

میرا یہ ٹور تقریباً 30,000کلو میٹر پر مشتمل تھا۔  32 ممالک پر مشتمل یہ ٹور میں نے 64 دنوں میں مکمل کیا۔ ان ممالک کی تفصیل ذیل میں درج ہے۔

2018 میں میں نے  ایک پک اپ خریدی اور اس کو میری سٹیل فیکٹری میں ایک مکمل کاروان میں تبدیل کر لیا۔ میرا خیال تھا کہ حالیہ دبئی سے ماسکو اور ماسکو سے واپس دبئی کا ٹور اسی کاروان پر کروں گا۔اور ایک سال  کے لیے  پاکستان بھی لے کر جاؤں گا۔لیکن میں اس کاروان پر روس جا سکا نہ پاکستان۔ کیونکہ مجھےروس کا صرف دس دن کا  سنگل اینٹری ٹرانزٹ ویزا  مل سکا جسکی وجہ یہ سفر بھی سوزکی جمنی پر ہی کرنا پڑا۔ اسی طرح پاکستانی قانون کے مطابق ایک پاکستانی نیشنل سیاحت کے لیے  اپنی گاڑی پر پاکستان نہیں جا سکتا ۔میری  حکومت پاکستان سے گزارش   ہے  کے اس قانون میں تبدیلی کی جائے اور پاکستانی شہریوں کو  بھی اسکی اجازت دی جائے ۔

دبئی سے ماسکو اور واپس دبئی کا 12,000کلو میٹر اور8 ممالک پر مشتمل یہ سفرمیں نے صرف 43 دنوں میں مکمل کیا۔  اسی طرح دو ممالک کا سفر میں  نے کرائے کی کار لیکر کیا جن میں  انڈورا    ،اور  نیوزلینڈ شامل  ہیں   ۔

 

 

اب تک زمینی راستے کے ذریعے کل ملا کر  میں 53 ممالک سے ہوتے ہوئے 153,364 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر چکا ہوں۔ جن میں ابوظہبی، الاسکا، عجمان، انڈورا، بیلجیم، بلغاریہ، کینڈا، چیک ری پبلک، ڈنمارک، دبئی، انگلینڈ، اسٹونیہ، فن لینڈ، فرانس، فجیرہ، جرمنی، جارجیا، جبرالٹر، یونان، ہنگری، انڈونیشیا، ایران، آئرلینڈ، آئرلینڈ شمالی السٹر، لیتویہ، لیچسٹین، لیتھونیا، لکسمبورگ، میکسیکو، موناکو، مراکش، نیدرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، پرنس ایڈورڈ جزیرہ، قطر، راس الخیمہ، رومانیہ، روس، سائبیریہ، سکاٹ لینڈ، شارجہ، سپین، سویڈن، سوٹزرلینڈ، ترکی (یورپ)، ترکی (ایشیا)، یوکرین، ام القوین، یونائیٹڈ سٹیٹس، ویتنام اور  نیوزی لینڈ شامل ہیں۔

ہر سال دبئی میں “دبئی ٹریولرز فیسٹول” کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس فیسٹول میں دنیا کے بہترین سیاحوں کو بلایا جاتا ہے۔ 2016 سے 2019 تک چاروں مرتبہ مجھے بھی اس فیسٹول میں مدعو کیا گیا اور غیر معمولی کامیابی کے سرٹیفیکیٹ سے بھی نوازا گیا۔

 

میں تہہ دل سے اللہ تعالیٰ ، ھنیام سٹیل، سٹاف اور اپنے خاندان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے یہ موقع فراہم کیا  اور میرے خوابوں کے تعبیر ہوئی۔ اور اپنے فیس بک فرینڈز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری تصاویر کو لائک کیا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *