Type to search

احتجاج انسانی حقوق حکومت خبریں

ڈی ایچ اے کراچی انتظامیہ کی نا اہلی کے خلاف احتجاج: کنٹینرز نصب،پولیس کی بھاری نفری تعینات

گزشتہ روز ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کے رہائشیوں کی جانب سے بارش سے پیدا ہونے والی ابترصورتحال کا تدارک نہ کرنے اور ڈی ایچ اے انتظامیہ کی مبینہ نا اہلی اور بے حسی کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی کال دی تھی۔

اس احتجاج میں انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے بھی شرکت کا اعلان کیا تھا۔ یہ احتجاج اس چھوٹے احتجاج کے بعد کیا جا رہا ہے جو چند روز قبل کیا گیا تھا اور جس کے رد عمل میں ڈی ایچ اے انتظامیہ نے مظاہرین اور احتجاج کے منتظمین پر پرچہ درج کرایا تھا۔ اس ایف آئی آر میں ڈی ایچ اے کے خلف نعرے بازی اور املاک کو نقصان پہنچانے کی شقیں شامل تھیں۔

اب تازہ ترین صورتحال کے مطابق اس احتجاج سے قبل آج ڈی ایچ اے انتظامیہ نے اپنے مرکزی دفتر کی جانب آنے والے راستوں پر کنٹینرز رکھ دیئے ہیں اور اینٹی رائٹ پولیس کے دستے موقع پر پہنچ چکے ہیں۔  جبکہ احتجاج کے منتظمین کی سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ڈی ایچ اے انتظامیہ کی جانب سے اسلحے سے لیس سیکیورٹی تعینات کرنے پر حیران ہیں اور انہوں نے انتظامیہ کو کہا کہ کیا وہ ہم پر امن مظاہرین سے خوف کھا چکے ہیں؟

چوںکہ گزشتہ احتجاج میں ڈی ایچ اے کی رہائشی خواتین اپنی فیملیز کے ساتھ موجود تھیں تو اس احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لئے بھاری تعداد میں لیڈی پولیس بھی طلب کر لی گئی ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں ریکارڈ بارشوں کے 5 روز بعد بھی سیکڑوں رہائشیوں کی پریشانی کا اب تک کوئی خاتمہ نہیں ہوا ڈی ایچ اے انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی طرف سے اقدامات نہ کرنے پر مایوس، ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے رہائشی کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ (سی بی سی) کے دفتر کے باہر اکٹھے ہوئے اور دونوں علاقوں میں بارش کے بعد کی صورتحال کے خلاف احتجاج کیا تھا اور یہ اس احتجاج کا دوسرا سلسلہ ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور سڑکیں دوبارہ تعمیر کی جائیں۔ انہوں نے سیلاب سے نجات کے نام پر جمع شدہ فنڈز کے آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا اور بورڈ سے صفائی کے کام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

اس حوالے سے اہم یہ ہے کہ گزشتہ روز نیا دور پر شائع ہونے والی خبر کے مطابق کراچی ڈی ایچ اے کینٹونمنٹ بورڈ کے رہائشی جنہوں نے دو روز قبل ڈی ایچ اے انتظامیہ کے خلاف بارشی پانی کے ناقص نکاس اور بد ترین انتظامی معاملات پر احتجاج کیا تھا انہیں اب نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکی آمیز کالز موصول ہو رہی ہیں۔

یہ کالز ان افراد کو موصول ہو رہی ہیں جنہوں نے اس احتجاج کو منعقد کروایا تھا۔ ان منتظمین میں سے ایک نے نیا دور کو بتایا کہ انہیں ان کالز میں کہا گیا ہے کہ اب کوئی نیا احتجاج نہ ہو۔ حتیٰ کہ ان کالز کے بعد مظاہرین کی تعداد بھی احتجاج میں سے کم ہو ئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سب کے بعد مظاہرین میں ایک خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *