Type to search

خبریں مذہب

درجنوں توہین کے مقدمات اور نفرت انگیز مہم: ملک میں شیعہ سنی فساد کا خطرہ منڈلا رہا ہے

ملک بھر میں گذشتہ چند ہفتوں میں کم از کم ایک درجن شیعہ ذاکروں کو صحابہ کرامؓ کی شان میں مبینہ گستاخی کے الزامات میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ایک سیاسی و سماجی کارکن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رپورٹ کرتے ہوئے لکھا کہ حالیہ دنوں میں ایک درجن سے زائد شیعہ ذاکروں کو ایسی چیزیں کہنے پر گستاخی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے جو عاشورہ میں صدیوں سے پڑھی جا رہی ہیں‘‘۔

ایک غیر مصدقہ فہرست جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے کے مطابق ان ذاکروں میں علامہ غضنفر تونسوی، اقبال شاہ اور حافظ تصدق جیسے بڑے بڑے نام بھی شامل ہیں۔ اس ٹوئیٹ میں ان گرفتاریوں کو ریاستی سرپرستی میں کیا گیا فرقہ وارانہ حملہ قرار دیا گیا اور حکومت کو مشورہ دیا گیا کہ حالات کے بے قابو ہونے سے پہلے پہلے حکومت کو اس سلسلے میں اقدامات کرنا ہوں گے۔ فہرست میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ چھ ذاکر ایسے بھی ہیں جن کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا اور یہ سب محکمہ انسداد دہشتگردی کی حراست میں ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں اس سال محرم شروع ہونے کے وقت سے ہی اہل تشیع کے خلاف نفرت انگیز مہم کا آغاز ہو گیا تھا اور اس میں زیارتِ عاشور پڑھنے پر بھی بہت سے افراد پر گستاخی کے الزامات لگائے گئے تھے۔ اس سلسلے میں بہت سے لوگوں کو گرفتار بھی اسی بنیاد پر کیا گیا تھا کہ انہوں نے زیارتِ عاشور پڑھی تھی۔

یہ زیارت چونکہ چینل 24 پر براہِ راست نشر ہو رہی تھی تو نہ صرف چینل 24 کا لائسنس فوری طور پر معطل کر دیا گیا بلکہ اس کے مالک محسن نقوی اور چینل انتظامیہ پر بھی گستاخی کے پرچے درج کروائے گئے ہیں۔ محسن نقوی کے خلاف درج کروائی گئی ایف آئی آر میں نہ صرف سیکشن 298A کے تحت شکایات درج کروائی گئی ہیں بلکہ 1997 کا انسداد دہشتگردی ایکٹ کی شقیں بھی اس ایف آئی آر میں شامل کی گئی ہیں۔

جس شیعہ ذاکر کو کراچی میں زیارت پڑھنے پر گرفتار کیا گیا تھا، اس پر بھی زیارت پڑھے جانے کے دوران وہی الفاظ دہرانے کا الزام ہے جو کہ بنو امیہ کے سرکردہ رہنماؤں حضرت ابوسفیانؓ اور حضرت معاویہؓ سے متعلقہ ہیں۔ خود وزیر اعظم عمران خان نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ عاشورہ کے دوران فرقہ واریت پر مبنی باتیں کرنے والوں کے خلاف اقدامات کریں گے۔ انہوں نے صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا،

یاد رہے کہ گذشتہ قریب ایک ماہ میں پاکستان بھر میں 42 سے زیادہ توہینِ مذہب کے مقدمات درج کروائے گئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر مقدمات شیعہ ذاکرین، اور شیعہ افراد کے خلاف درج کروائے گئے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس کی تھیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں اہل تشیع کے خلاف دیواروں پر نعرے لکھنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، خصوصاً کراچی میں جہاں گذشتہ ہفتے کی بارشوں کے بعد آرمی چیف نے بھی دورہ کیا اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے بھی۔ یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ کراچی میں ہونے والی وال چاکنگ وزیر اعظم عمران خان کے کراچی کے دورے سے بھی چند روز قبل ہی کی گئی ہے اور اس کی سیاسی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شہر بھر میں جگہ جگہ ’شیعہ کافر‘ کے نعرے لکھے گئے تھے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ متحدہ سنی کونسل نامی ایک نئی تنظیم نے جمعرات کو جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں اعلان کیا ہے کہ یہ 14 ستمبر سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں شیعہ حضرات کی جانب سے مبینہ گستاخیوں کے خلاف دھرنا دیں گے۔ متحدہ سنی کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں مختلف سنی تنظیمات نے محرم الحرام کے دوران شیعہ مجالس و جلوسوں میں گستاخی کے مرتکب افراد کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت پرمٹ ہولڈر جلوس منتظمین اور شیعہ ذاکرین کے خلاف مقدمات درج کر کے عبرت ناک سزا دی جائے۔ اس سلسلے میں متحدہ سنی کونسل 14 ستمبر کو ڈی چوک پر دھرنا دے گی۔

اس تنظیم میں مرکزی جمعیت اہلحدیث، جمعیت علمائے اسلام، اہلسنت والجماعت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار، جماعت اہلسنت، سنی علما کونسل اور دیگر شامل ہیں۔

جمعرات ہی کی شام تھانہ آبپارہ مارکیٹ کی حدود میں فرقہ وارانہ فساد برپا کرنے کی اس وقت کوشش کی گئی جب شیعہ جلوس میں گھوڑے کو لایا گیا تو اس پر اس علاقے میں موجود سنی تنظیموں کی طرف سے مقامی لوگوں کو بھڑکانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق دونوں گروہوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی گئی اور کچھ افراد کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ آبپارہ پولیس نے کافی گھنٹوں تک آبپارہ مارکیٹ اور اسکے گردون نواح کے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیل کیے رکھا۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق اس واقع میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا خطرہ اس وقت ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہے اور یہ بھی یاد رکھا جانا چاہیے کہ یہ گرفتاریاں سب سے زیادہ پنجاب میں دیکھنے میں آئی ہیں جو کہ مزید خطرناک بات ہے۔ ریاست کو اس حوالے سے فوری طور پر کچھ اقدامات کرنا ہوں گے وگرنہ ایران اور سعودی تنازع شدید تر ہونے کے اس دور میں کہ جب متحدہ عرب امارات بھی اسرائیل کو تسلیم کر کے ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش میں شامل ہے، یہ سلسلہ کسی بڑے حادثے یا حادثوں کی سیریز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *