Type to search

Coronavirus فیچر

قرنطینہ کاٹتے ایک شخص کی آپ بیتی: دیکھو! مجھے جو دیدہء عبرت نگاہ ہو

عہد نامہ قدیم میں  کم از کم سات ایسے  کوڑھیوں کا ذکر تو اُن کے ناموں سمیت بنامِ عبرت  ملتا ہے  جنہیں اُن کے مرضِ لاعلاج ہی کی طرح موذی جان کر شہر سے باہر ویرانوں میں پھینک دیا گیا تھا۔

 

عیسوی کیلنڈر کی ایجاد کے ایّام ِ اوائل کے اِس واقعے کو اب دوہزار  سال سے زائد کا عرصہ بیت چُکا ہے۔ لیکن آج  جب چار دانگِ عالم حضرتِ انسان بلا تخصیص رنگ، نسل، مذہب، علاقہ اور مقام و مرتبہ “کرونہ” نامی بین الاقوامی وبا کے ہاتھوں عاجز آ گیا ہے تو نہ جانے کیوں مجھے اپنا آپ حضرتِ عیسیؑ کے اُنہی کوڑھیوں جیسا لگ رہا ہے کہ میں بھی اِس چومُکھی ہئیت موذی کا ڈسا ہوں۔

دیکھو! مجھے جو دیدہء عبرت نگاہ ہو

بھلے وقتوں کا تذکرہ ہے کہ زندگی اپنی تمام دلفریبی و رعنائی کے ساتھ مجھ پر مہربان تھی کہ معززینِ شہر میں میرا بھی شمار تھا۔ صاحبِ خانہ ہونے کی حیثیت سے کھانے کی میز سے لے کر خوابگاہ تک ممتاز و مُنفرد مقام کا حقدار تھا ۔ گھر میں  میری آمد کی  دیر تھی کہ ٹی وی کے سامنے دھری مرکزی مسند سے لے کر اُس کے ریموٹ کنٹرول تک ہر شے پے میرا حق مقّدم تھا۔

میرا بٹوہ صرف میرا تھا اور  اُس میں موجود بنک کا ڈیبٹ کارڈ میرا انتہائی نجی معاملہ۔۔۔۔ اور پھر:

وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا

سب کچھ  جیسے یکایک بدل گیا۔ چھپاک سے شیشہٗ حال چکنا چور ہوا اور ٹوٹی ہوئی کرچیوں میں جو شکل ابھری ، اُس پر عنوان چسپاں تھا:

حیف اُن غنچوں پے ہے جو بن کھلے مُرجھا گئے

صاحبو! مجھے کرونا ہو گیا۔

 

بس اِس خبر کا نشر ہونا تھا کہ احباب کی نظر، اعزاء کی فکر،  بیوی کے تیور اور بچوں کے اطوار یکسر بدل گئے۔ پسِ منظر میں جیسے مُکیش جی کی درد میں ڈوبی صدا بُلند ہو:

دوست دوست نہ رہا ، پیار پیار نہ رہا۔

سرکاری نوکری کی جانب سے موصولہ ہدایات اور ملّی جذبہء خدمت سے سرشار ہو کر یہ اطلاع بذریہء ٹوییٹر و فیس بک نشر کرنے کی دیر تھی کہ  طعن و تشنع و غیظ و غضب و تحقیر و تبرے سے بھرپور خانوادے کا سامنا تھا:

“بھائی! خود تو مرتے ہو ، ہمیں کیوں مارتے رہے ہو؟

میاں! کارنامہ نہیں کیا جو  دنیا بھر میں ڈھنڈورہ پیٹ کر خاندان بھر کی وجہ شہرت بنتے ہو۔

حضرت خود تو خوار ہو ں گے ہی۔ ہمیں  بھی کہیں کا نہ چھوڑیں گے۔

ارے لوگ باگ ہم سے کترا رہے ہیں۔

رُستمِ زماں بننے کی عادت چھوڑو اور  تردید کرو اِس بکواس کی۔”

یہ سمجھانا گویا جوئے شیر لانا ہے کہ یہ خود آپ کی صحت و سلامتی کے لیئے بہتر ہے کہ خبر پوشیدہ نہ رہے اور احتیاط سب کا خاصہ ہو جائے۔  لیکن اہلِ نظر کی نگاہ میں  یہ توجیہہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔  کرونہ مخفی ہے اور اِس کی تشت از بامی کا  ٹیسٹ مہنگا  بھی۔ سو خاموش رہنا بہتر ہے اور ویسے بھی   خاندان کے نقار خانے میں آپ کی سُنتا کون ہے۔ منہ لپیٹ کر اور یہ تسلی کر کے پڑے رہیئے۔

میرے چہرے سے کبھی ہٹتی نہ تھی جنکی نظر

میری صورت سے وہ بیزار نظر آتے ہیں

 

سودس دن ہو چلے ہیں۔ کمرے کا دروازہ باہر سے مقفل ہے جبکہ اِس کی نچلی درز کو جراثیم کُش ادویات کے محلول میں نچڑے تولیے رکھ کر سیل کر دیا گیا ہے۔  صبح شام اِس دروازے پر ہرمل، کافور اور دیگر دافع بلّیات جڑی بوٹیوں کی دھونی دی جاتی ہے تا کہ کمرے میں مجھ سمیت تمام موذیوں کے شر سے اہلِ خانہ محفوظ رہ سکیں۔

 

 میرے کمرے کی پچھلی طرف موجود کھڑکی جو عقبی آنگن میں کُھلتی ہے ، کے سامنے ایک لوہے کی بد ہئیت ٹرالی دھری ہے۔ وقتِ مقررہ پے  ٹرالی کھڑکی سے دوسری جانب کھینچ لی جاتی ہے اور اِس پر قابلِ تلف کاغذ کے برتنوں میں محصور بیمار کا کھانا رکھ کر ٹرالی کو واپس کھڑکی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔  ساتھ میں کھانا پورا کھا کر برتنوں کو تلف کرنے کی ہدایات ایسے موصول ہوتی ہیں گویا یہ کمرا اسلام آباد  میں نہیں بلکہ گونٹنامو بے میں ہے۔ ویسے  میرا گمان ہے کہ ٹرالی والی ترکیب میرے گھر والوں نے فلم “بن ہر” سے متاثر ہو کر اختراع کی ہو گی کہ صاحبانِ نظر کو یاد ہو گا کہ رُومی فوجی کچھ اِسی قسم کی ریڑھیوں کو کوڑھیوں کی گھاٹیوں میں اسی درجہ کی حقارت اور چابکدستی سے دھکیل دیا کرتے تھے۔

 

ڈاکٹر کے اصرار پر کہ مریض کو تازہ ہوا اور دھوپ لگواتے رہیئے، مجھے کمرے سے ایسے نکالا جاتا ہے جیسے نیب والے پیرول پر سیاسی راہنماوں کو نکالاکرتے ہیں۔  گھر بھرمیں ہُو کا عالم ہے اور دور دور تک کوئی بندہ بشر نظر میں نہیں۔ سائیں سائیں کرتے درو دیوار سے قیاس یوں ہوتا ہے گویا کوئی آسیب پھر گیا اور وللہ اگر آپ اِس سارے منظرنامے میں حرفِ غلط کی طرح سے اُبھر کر یک دم غائب ہو جانے والے  میری بیگم صاحبہ کے سراپے پر توجہ دیں تو اُن کے تاثرات سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ یہ آسیب میَں ہی ہوں۔ ناک پر دوپٹہ کس کر جڑا ہے کہ مبادا میں سانس کے ذریئے اُن میں منتقل نہ ہو جاوں ۔ ہونٹوں کے قریب سے پھڑپھڑاتا  دوپٹہ پتہ دیتا ہےکہ  “جل تو جلال تو” نما تمام وظائف کا ورد انتہائی  اخلاص سے جاری ہے جبکہ آنکھوں میں کھٹکتا درد، ڈر ، رحم اور کئی سالوں کی رفاقتوں کا نمک سب ایسے باھم گُتھم گُتھا ہو گئے گویا میؔر کے  شعر کا شکوہ  ہو گئے ہوں؎

میؔر عمداًبھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

اور میں  عالمِ بے کسی میں خون کے گھونٹ پیے غاؔلب کے مصرے “اے کاش جانتا تو لُٹاتا نہ گھر کو میں” کی کئی ممکنہ تشریحات سُوجھتا لان میں عین سورج کے سوا نیزے تلے دھری کرسی پر  لا بٹھایا جاتا ہوں۔ اب ذرا مظلوم کی کیفیت کا احاطہ کیجئے: بیماری سے پژمردہ، گرمی سے نڈھال اور بدذائقی کے اثر میں بے کیف کہ  ایسے میں صورِ اصرافیل کی طرح کان میں آواز پڑتی ہے:

“وہ  آپکا بینک کا کارڈ نہیں چل رہا۔ شاید اس میں پیسے ختم ہو گئے ہیں۔ دوسرا کارڈ دے دیجئے یا پھر کچھ کیش کا انتطام کیجئے۔”

مرزاؔ نے پھر صدا دی:

رہئے اب ایسئ جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

نوشؔہ کی اِس غزل کو پڑھیئے تو گمان ہوتا ہے کہ قطرے میں دریا دیکھنے والے نے جن ممکنہ   عذابوں کو کوسنوں اور بددعاوں کی صورت مصروں میں گرہ کیا تھا وہی عہدِ حاضر میں کرونا بن کر نمودار ہوئی ہیں۔ مثلاً کلامِ مذکورہ  کا یہ شعر ملاحظہ ہو؎

پڑیئے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار

اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

تیمار داروں کا حال  بھی سنتے جائیے۔   اہلِ خانہ کا حکم ہے کہ موبائل فون کو چوبیس گھنٹے کُھلا رکھا جائے تا کہ کسی بھی ناگہانی کی اطلاع اُنہیں بروقت ہو جائے۔ سو بس فون کالوں کا تانتا بندھا ہے۔  نصف شب، الصبح ، سرِ شام ۔۔۔ وقت کی کوئی قید نہیں ۔۔۔ سراہنے دھرا موبائل فون  بمثلِ نالہء نابکارکسی بھی وقت بج سکتا ہے۔ آپ پنڈلیوں کے درد ، سینے میں گُھٹن یا پھر  اُترتے چڑھتے بخار سے بے حال ابھی ٹُک بھر کو سوئےتھے کہ فون کی گھنٹی پر ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھے۔

“ہیلو!” آپ کی نیم موئی آواز بمشکل خُشک حلق سے برامد ہوتی ہے اور  دوسری جانب سے چہکتی ، کھلکھلاتی  بلکہ ہنہناتی آواز میں جواب آتا ہے: “سو تو نہیں رہے تھے؟”

اِس سادگی پے کون نہ مر جائے اے خدا!

 

خون کا گھونٹ پیتے ابھی آپ انتہائی نا مناسب جواب کے لیئے موزوں الفاظ کو چناو کیا ہی چاہتے ہیں کہ سادگی بے نیازی میں بدل جاتی ہے ۔گویا تیمار دار کی جانے بلا اور فوراً  پے در پےسوالات کا ایک بھر پورحملہ کر دیا جاتا ہے ۔ اِن سوالات میں آپ کے اب تک زندہ بچے رہنے پر ہونے والی باز پُرس سے لے کر چوبیس گھنٹے کی مصروفیات کا باقائدہ روزنامچہ ، صبح ، دوپہر ،شام لی جانے والی  خوراک کی علیحدہ علیحدہ تفصیل،  حوائجِ ضروریہ کے اوقات اور ڈھکے چھپے یا پھر برملا آپ کے تولیدی صحت کے مسائل تک ہر معاملے کی مکمل اور قابل تشفی وضاحت فوری درکار ہوتی ہے۔

 

بات یہی تک آن کر رُک جاتی تو بھی غنیمت تھا۔ لیکن لہجوں کا تجسس بتلاتا ہے کہ :

کچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے

سو اک گُونا “جیمز بانڈی” پُر اسراریت سے دریافت کیا جاتا ہے:

“گھر میں  اورکس کس کو ہو چُکاہے۔ ”

آپ ،جو اب تک خود پر انتہائی قابو رکھتے ہوئے، عالمِ کرب میں ہر ممکنہ تہذیب و شائستگی کے حصار  کے اندر رہتے “نیب مارکه”  تفتیش  میں ہر ممکن تعاون کر رہے تھے، بے اختیار کہہ دینا چاہتے ہیں :

” جن کی خبر کی آپ کو حسرت ہے وہ ابھی تک محفوظ  و سلامت ہیں”۔

پُرسش احوال کی یہ پوچھ گچھ سید آل سرور کے سلامِ آخر  “جو چل بسے تو یہ اپنا سلامِ آخر ہے”سے متاثر چند دُعاوں اور سونا مکّی کے لازمی استعمال کی تاکید پر  تب ختم ہوتی ہے  جب تنِ زار زار  سے کچھ بھی اور اُگلوانے کے اُمید دم توڑ دیتی ہے۔

 

مریض کی فکر میں دبلا ہوتا ایک طبقہ وڈیو چیٹ یعنی “فعلِ جبر باتصویر” کرنے والوں کا بھی ہے جن کا معاملہ کچھ” جی  بھرتا نہیں تری تحریر سے، گفتگو ہو ذرا تصویر سے ” کے مصداق ہے۔ سو آپ بھلے حال سے بے حال ہوں، اِن کو “پالی سی بلی” بن کر ضرور  دکھا دیجئے۔ اور دیکھئے وڈیو کال کرتے ہوئے اِس کا خیال رکھیئے کہ پس منظر میں کوئی قابلِ اعتراض تصویر، اشیائے غیر ضروری استعمال اور دیگر حاجاتِ شرعیہ کی تشہیر کا سامان نہ ہو ورنہ کرونہ تو شائد پیچھا چھوڑ دے، وضاحتیں  دیتے دیتے آپ کی عمر گُزر جائے گی۔

 

یادش بخیر ، ایبٹ آباد پبلک سکول کے زمانہ طالب علمی میں محترم پروفیسر بشارت احمد سے اردو غزلیات کی تشریح کے اسباق لیتے یہ شعر بارھا سنا تھا کہ:

کچھ محبت کی آگ ہوتی ہے، کچھ رقابت کے خار ہوتے ہیں

دوستوں کی مزاج پُرسی کے ذاویئے ہزار ہوتے ہیں

 

نئے ہزاریئے کی دوسری دھائی کے آغاز نے رشتوں کے نئے ترتیب پانے والے قرینوں،  مزاج پُرسی و تیمار داری کے  بدلتے سماجی انداز اور باہمی میل جول کے ہزار ذاویوں سے ہمیں روشناس کروا دیا ہے۔

 

یہ تبدیلی کا زمانہ ہے سو بدلے بدلے سے میرے سبھی سرکار نظر آتے ہیں۔

 

اب اِس عہدِ نامہرباں میں، جہاں انتخاب بھوک یا وبا کا آپڑا ہے،  اظہارِ عشقِ والہانہ کی شرط وصال پر نہیں بلکہ فراق میں رکھی گئی ہے کہ ہر پاس آتا شخص لفظی معنی میں دشمنِ جاں ٹھہرا  ہے۔  قُربتیں وجہِ بدگمانی ہو سکتی ہیں سو احساسِ تحفظ کی فصیلیں لازمی دوریاں کشید کر رہی ہیں اور بالاخربشیر بدر کا یہ کہنا سچ ہو گیا کہ :

یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو۔

 

تبدیل ہوتی اِس فضا میں ایک سمت ہے جہاں سے بدستور مہر و محبت کی مانوس راحت آشنا آشنا سی گرمیء آغوشکا پتہ دیتی ہے۔ ڈاکٹر کی اِس ہدائیت و اصرار پر کہ مریض کو تازہ ہوا اور دھوپ لگواتے رہیئے،  جب مجھے کمرے سے نکال کر لان کے انتہائی مغربی کونے میں دھری کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے تو مشرقی سمت کی طرف موجود   گھر کی مرکزی  گُزر گاہ سے اماں کی ویل چیئر بھی کسی نہ کسی بہانے سے باہر آجاتی ہے۔ ماں بیمار ہیں اور کچھ دنوں سے خاموش بھی۔ اُن کی ویل چیئر بڑے سے لان کے دوسرے کونے کی دھلیز پر آکر ایسے رُک جاتی ہے جیسے لان کی وہ کیاری کشمیر کی لائن آف کنٹرول ہو۔ ماں کچھ بولتی نہیں۔ بس نم ہوتی آنکھوں سے مجھے دیکھتی ہیں۔ آنکھیں بہت سی باتیں کرتی ہیں۔ باپ زندہ ہوتا تو پوچھتا کون سی دوائیں لے رہے ہو؟  کب سے دفتر نہیں گئے؟ کام کا کتنا حرج ہو گیا؟ ملازمت پر تو اثر نہیں آئے گا وغیرہ وغیرہ۔ ماں کو اِن سوالوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ ناف کا رشتہ ہے۔ سو آنکھوں میں جیسے صرف ایک سوال اٹکا ہے: تو نے کچھ کھایا؟ میں کچھ پکا دوں؟ بھوکا تو نہیں؟

میں جواباً مسکرا دیتا ہوں۔  اولاد کی درد کو دبا کر مسکرانے کی ادا سے ماں پیٹ سے واقف ہے سو ہونٹوں کے کونے ہلکے سے سکیڑ کر وہ ایک بوسہ میری جانب جیسے دوا اور دعا بنا کر اُچھال دیتی ہیں۔  میں بے اخیتار ہوتا ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے ہونٹ ابھی بھی بُڑبُڑا رہے ہیں۔ میرا گمان ہے کہ بچپن کی طرح جب میرا بدن بخار میں تپتا تھا اور ماں “اللہ ھو شافی، اللہ ھو کافی” کا وظیفہ کیا کرتی تھیں، کوئی وردِ اسمِ اعظم اب بھی  اُن کےلبوں پر ہے۔ 

یہ ورد کیا ہے، میں تب  جان نہیں سکا۔ یہ ورد کیا تھا، مجھے اب کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے۔

دس جون دوہزار بیس کو میرا ٹیسٹ نیگٹو آیا اور میں صحت یاب ٹھہرا۔ گیارہ جون دو ہزار بیس کو ماں نے مٹی کی چادر اُڑھ لی ۔

تو کیا ” تجھے میری عمر لگ جائے “کی دعا باریاب ہو گئی؟

پر مجھے زندگی دینے والی  کو یہ کون بتائے کہ مجھے اب بھی کبھی کبھی بہت بھوک لگتی ہے لیکن ناف کا رشتہ سمجھنے والا اب کوئی رہا نہیں سو مجھے  بھوکا سو جانے کی عادت ہوتی جا رہی ہے۔

 

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *