Type to search

بین الاقوامی سیاست تجزیہ جمہوریت سیاست

طالبان ’دہشتگرد‘ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے والے ہیں، یا خدا کے برگزیدہ بندے؟ خواجہ آصف ہی بتلائیں

 

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ کو ایک ٹویٹ پوسٹ کرنے کی وجہ سے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس ٹویٹ میں انہوں نے امریکہ، افغان حکومت اور عسکریت پسند تنظیموں کے مابین امن مذاکرات کے تناظر میں افغان طالبان کی تعریف کی تھی۔

اپنی ایک ٹویٹ میں، خواجہ آصف نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور طالبان رہنما ملا برادر کی ایک تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے ۔۔۔ اللہ اکبر‘

طالبان پر تعریفوں کے پھول نچھاور کرنے کے خواجہ آصف کے اس فیصلے کا سوشل میڈیا پر اچھا نتیجہ نہیں نکلا، سوشل میڈیا صارفین نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کو عسکریت پسندوں کی تنظیموں کی جانب ان کے دوغلے خیالات کی نشاندہی کی۔

خواجہ آصف کے ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے صحافی گل بخاری نے کہا کہ ن لیگ کے رہنماؤں نے خواجہ آصف کے بیان سے خود کو دور نہیں کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ خواجہ آصف اس طرح کا بیان دے کر پارٹی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

اب ذرا ملاحظہ کریں کہ اب سے چند ہفتے قبل جب وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر بحیثیت قائدِ ایوان تقریر کرتے ہوئے القاعدہ کے بانی اور عالمی دہشتگرد اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا تھا تو اس موقع پر خواجہ آصف نے ان کو کیا جواب دیا تھا۔

تو سامعین آپ نے سنا کہ خواجہ آصف کے مطابق اسامہ بن لادن ایک دہشتگرد تھا جس نے پاکستان کو دہشتگردی کی آگ میں جھونکا۔ لیکن جب آج خواجہ آصف صاحب اپنی ٹوئیٹ میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ امریکہ کے پاس طاقت ہے لیکن طالبان کے ساتھ خدا ہے تو یہی طالبان ہی تو تھے جنہوں نے اسامہ بن لادن کو پناہ دی تھی اور وہاں سے بیٹھ کر ہی اسامہ پاکستان میں دہشتگردی لے کر آیا، وہیں سے بیٹھ کر اس نے امریکہ میں 911 کروایا اور وہیں سے بیٹھ کر اس نے نیروبی میں، یمن میں اور اس کی تنظیم کے کئی کارکنان نے دنیا بھر میں آگ و خون کا بازار گرم کیے رکھا۔ اس تمام عرصے میں اسامہ بن لادن افغانستان کی طالبان حکومت کا مہمان بنا بیٹھا تھا۔ یہاں تک کہ ایک موقع پر سعودی عرب کے شہزادہ فیصل الترکی نے طالبان کے امیر ملا عمر سے ملاقات کی اور اس سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو ملا عمر نے اسامہ بن لادن کی جگہ سعودی شہزادے کو خوب سخت سست سنائیں جس کے بعد شہزادہ فیصل سرخ چہرے کے ساتھ اس ملاقات کو ادھورا چھوڑ کر نکل گئے اور سعودی عرب نے طالبان حکومت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ اگر اسامہ بن لادن دہشتگرد ہے تو پھر ملا عمر اور اس کی طالبان حکومت نے اس کو پناہ دیے رکھی اور آپ کے نزدیک خدا طالبان کے ساتھ ہے۔ اگر خواجہ صاحب کو اس سارے معاملے میں کوئی دوئی نظر نہیں آ رہی تو یہ حیرت انگیز ہے۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، گل بخاری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز نے چونکہ خود کو خواجہ آصف کے بیان سے علیحدہ نہیں کیا ہے، لہٰذا یہ پارٹی پالیسی دکھائی دیتی ہے تو اب ذرا مسلم لیگ نواز کا ماضی میں طلبان حکومت کے ساتھ تعلق کیا رہا ہے، اس کی بابت بھی سن لیجئے۔

1997 میں جب نواز شریف صاحب دوسری مرتبہ وزیر اعظم پاکستان بنے تو انہوں نے اپنے بھائی شہباز شریف کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا۔ اس دور میں ملک بھر میں اور خصوصاً پنجاب میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات جاری تھے۔ شیعہ سنی لڑائی اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ ان گروہوں کے خلاف آپریشن ناگزیر ہو گیا۔ نواز شریف حکومت نے پنجاب میں لشکرِ جھنگوی کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا اور اس تنظیم کے کارکنان اور دہشتگردوں کے خلاف ایک بھرپور کارروائی شروع کی گئی۔ یہ کارروائی اس حد تک بڑھی کہ 3 جنوری 1999 کو نواز شریف پر لشکرِ جھنگوی کی جانب سے قاتلانہ حملہ کیا گیا جس سے نواز شریف محض اس لئے بچ گئے کہ یہ ایک ٹائم بم تھا اور وزیر اعظم اپنے شیڈول سے قریب 10 منٹ تاخیر سے رائیونڈ سے نکلے تھے۔ دھماکے سے وہ پل بری طرح متاثر ہوا تھا جسے نواز شریف کچھ ہی منٹ بعد استعمال کرنے والے تھے۔

ایک مرتبہ لشکرِ جھنگوی کا سرکردہ رہنما ریاض بسرہ نواز شریف کی کھلی کچہری میں بھی جا پہنچا تھا اور پوری سکیورٹی انتظامیہ اسے پہچاننے میں ناکام رہی تھی۔ لشکرِ جھنگوی کی جانب سے تمام اخبارات کو ایک تصویر بھیجی گئی جس میں ریاض بسرہ نواز شریف کے بالکل سر پر کھڑا مسکرا رہا تھا اور اس تصویر کا کیپشن تھا: اتنا آسان ہے۔

پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کی تاریخ پر خالد احمد کی کتاب Sectarian War کے مطابق اس واقعے کے بعد نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے لشکرِ جھنگوی اور نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کی۔ لیکن یہ صلح کس حد تک کامیاب ہوئی، اس کا اندازہ انصار عباسی کی ڈان وائر سروس میں دی گئی 6 اکتوبر 1999 کی خبر سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق شہباز شریف کی جانب سے اس سے دو روز قبل ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کو افغانستان میں واقع ٹریننگ کیمپس میں تربیت دی جا رہی تھی اور یہ افراد افغانستان میں طالبان کے مخالفین کے خلاف طالبان کے ساتھ لڑے تھے۔ ان کا اشارہ ظاہر ہے کہ لشکرِ جھنگوی کی جانب ہی تھا۔ 6 اکتوبر کو پاکستان کے دفترِ خارجہ نے شہباز شریف کے بیان کی تردید کر دی اور کہا کہ میڈیا میں یہ پیغام غلط رپورٹ کیا گیا ہے کیونکہ شہباز شریف نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔ انصار عباسی کی خبر میں یہ تک کہا گیا کہ انٹیلیجنس ایجنسیز کے پاس ایسے کوئی شواہد موجود نہیں تھے کہ ان دنوں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں افغانستان کسی بھی طرح سے ملوث تھا۔

لیکن اگلے ہی روز خود وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کیا اور انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ملک میں فرقہ وارانہ دہشتگردی میں ملوث افراد افغانستان میں موجود تربیتی کیمپوں میں تربیت لے کر آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی کو امن و امان کا مسئلہ کھڑا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اب ایک طرف تو نواز شریف صاحب افغانستان کی طالبان حکومت پر پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث افراد کی پشت پناہی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ خود خواجہ آصف صاحب اسامہ بن لادن کو دہشتگرد قرار دے چکے ہیں اور اس دہشتگرد کو پناہ دینے کے لئے تو طالبان نے پورے افغانستان کو امریکہ کے آگے جنگ میں جھونک دیا تھا۔ مگر اب خواجہ آصف صاحب کے نزدیک خدا ان طالبان کے ساتھ ہے۔

تو سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلم لیگ نواز اپنے سابقہ مؤقف سے رجوع کر چکی ہے یا پھر صرف کچھ لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں یہ منافقت دکھائی جا رہی ہے؟ خواجہ آصف اور مسلم لیگ ن کو اپنا مؤقف جلد واضح کرنا چاہیے تاکہ عوام کو بھی پتہ ہو کہ طالبان ان کے نزدیک دہشتگرد اسامہ بن لادن کو پناہ دینے والے اور پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشتگردی میں ملوث کالعدم تنظیموں کے پشت پناہ ہیں یا خدا کے برگزیدہ بندے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *