Type to search

تجزیہ جرم خواتین

ریپسٹ کو نہیں اس نظام کو لٹکانا ہو گا۔۔

دنیا بھر میں موٹر ویز اور ایکسپریس ویز سفر کا محفوظ اور تیز ترین ذریعہ سمجھی جاتی ہیں ، موٹر ویز اور ایکسپریس ویز تکنیکی اعتبار سے اس ماڈل پر بنائی جاتی ہیں کہ  ریاست ان پر  چوبیس گھنٹے نظر رکھ سکے اور اس میں  سفر کرنے والوں کے علاوہ  ارد گرد بسنے والے انسان تو کجا کوئی جانور بھی داخل نہ ہوسکے تاکہ ٹریفک کی روانی کسی تعطل کا شکار نہ ہو اور بیرونی مداخلت کی وجہ سے سفر کرنے والوں کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑیں۔ چند روز پہلے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ہونیوالے اندوہناک سانحے نے جہاں  پاکستانی ریاست اور عوام کے محافظوں کی کارکردگی اور لا پروائی پر ایک سوالیہ نشان لگایا ہے  وہاں موٹر ویز یا ایکسپریس کو محفوظ آمدورفت کا ذریعہ سمجھنے والے شہریوں کو عدم تحفط کا احساس ہوا ہے۔

سانحے پر ریاستی اہلکاروں  اور ایک مخصوص طبقے کی غیر ذمہ دارانہ آراء نے ایک متنوع سوچ کے حامل انسان کو یہ سوچنے پر مجبو ر کیا کہ  کیا  جنسی درندگی اور ریپ کے  سانحے کے بعد بھی مظلوم کو قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے ؟ کیا ریپ کے اس عمل کی تاویل اگر ، مگر ، چونکہ ، چنانچہ سے دی جا سکتی ہے؟  حیرانگی اس بات پر ہوئی کے ملک پاکستان کے دائیں بازو کے بعض بڑے دانشوروں اور صحافیوں نے بھی خاتون کے رات کے وقت سفر کرنے ، محرم کے ساتھ نہ ہونے، مذہبی شعائر سے بغاوت کرنے  اور پتہ نہیں کیا کیا تاویلیں دیتے ہوئے بالواسطہ یا بلا واسطہ ہوس پرستوں کے عمل کو درست قرار دیا ہے۔

یہ بھی ایک حیران کن حقیقت ہے کہ  مولانا طاہر اشرفی کے علاوہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مذہبی عالم نے اس مسئلے پر کھل کر اپنا مؤقف نہیں دیا ۔ معاملے میں سب سے مضحکہ خیز موڑ اس وقت آیا جب پنجاب کے سی سی پی او کا بیان  مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ ، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موضوع بحث بنا۔  انکے مطابق خاتو ن کو رات کے وقت پہلے تو اکیلے میں سفر اختیار نہیں کرنا چاہئے تھا  اور اگر سفر اتنا ہی ضروری تھا تو انہیں موٹر وے کی بجائے جی ٹی روڈ کا انتخاب کرنا چاہئے تھا اور گاڑی میں موجود پٹرول کی مقدار کامعائنہ کرنا چاہئے تھا۔

سی سی پی او کا یہ بیان صرف ایک مرد کا بیان نہیں ہے  بلکہ سماج کے ایک مخصوس طبقے کی نمائندہ آواز ہے ، جن کا ماننا ہے کہ عورت کو  محرم کے بغیر اکیلے گھر سے نہیں نکلنا چاہئے،  اگراس دلیل کو وقتی طور پر مان بھی لیا جائے تو  سماج کی سبھی پرتوں پر اس دلیل کا اطلاق یا اس کا عملی ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے، اس کے لئے ہمیں  گذشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والے جنسی درندگی کے سانحات کے ساتھ ساتھ، سماج میں روز مرہ کے گھریلو کام کرتی ، تعلیم کی غرض سے سکول کالج یا  جامعات میں جاتی اور ملازمت کرتی ہوئی لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی زندگی کے معمولات کو  بھی دیکھنا ہوگا۔

پاکستان میں ماضی قریب میں ہونیوالے ریپ کے  واقعات میں خواتین کی عمر کی کوئی قید نظر نہیں آتی ، پانچ سالہ بچی سے لیکر ادھیڑ عمر خاتون تک ہوس پرستوں کی ہوس کا نشانہ بنی ہے۔ چند احباب کے مطابق لباس اور پردہ کا نہ ہونا ریپ کا بنیادی محرک ہے ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ پانچ سالہ بچی کے نہ تو جسمانی ساخت شہوت انگیز ہوتی ہے اور نہ دینی اعتبار سے اس پر پردہ کی حد لگتی ہے۔  نوجوان لڑکیوں سے لیکر ادھیڑ عمر عورتوں تک مردوں کی ہوس کا شکار ہونیوالی خواتین کے ریپ کا محرک  لباس ، عریانی یا  ان کی جدیدیت پسندی کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایک خاوند اگر بسلسلہ روزگار کسی دوسرے شہر یا بیرون  ملک  مقیم ہے تو اس کی بیوی اشیائے ضروریہ کہ خریداری کے لئے اسکا انتظار کرے اور اس کو ساتھ لے کر ہی بازار سے سودا سلف خرید کر لائے ۔ پاکستان کی آبادی کی اکثریت دیہی علاقوں میں مقیم ہے ، دیہی علاقوں کی عورتیں پانی بھر کر لانے ، فصلوں کی دیکھ بھال اور کٹائی کے ساتھ ساتھ مویشیوں کا چارہ کاٹنے تک کاکام کرتی ہیں اور روزمرہ کے کام کرنے کے لئے انہیں ہر وقت محرم کا دستیاب ہونا ممکن نہیں۔ سکولوں ، کالجوں اورجامعات میں زیر تعلیم لڑکیاں جن میں سے اکثر ہاسٹلز میں مقیم ہوتی ہیں کا بھی ہر وقت محرم کو ساتھ لیکر سفر کرنا ممکن نہیں۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ جامعات میں زیر تعلیم  خواتین  اکیلی پبلک سروس میں سفر کرتی ہوئی اپنے  آبائی شہروں ، قصبوں یا گاوں میں آتی جاتی ہیں  (گوہ کہ موجودہ حالات میں انکا ایسے سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں)۔

مردوں کے ساتھ مخلوط تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم لڑکیوں سے لیکر  انکے ساتھ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین  سب مختلف وجوہات کی بناء پر زیر بحث ہوتی ہیں ، کبھی کسی استاد کی منظور نظر کوئی خاتون زیر بحث ہوتی ہےتو کبھی کسی ادارے  میں ساتھ کام کرنے والی ساتھی کے  اعلٰی افسر کے ساتھ  اچھےمراسم کو زیر بحث لا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ لڑکی یا خاتون گریڈز یا کارکردگی میں اپنے مرد ہم جماعتوں یا مرد ملازمین سے آگے نہ نکل پاتی اگر اس کے تعلقات نہ ہوتے ، لیکن مرد اس مفروضے کا قائم کرتے وقت  دو پہلووں کو بسا اوقات یکسر نظر انداز کرتے ہیں ، اولاً اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ ہم جماعت واقعی ذہین ا ور محنتی ہو سکتی ہے اور ملازمت کرنے والی خاتون اپنے تمام کام وقت پرمحنت سے کرنے کی پابند ہوسکتی ہے، اسی لئے وہ  استاد یا اعلٰی افسر کے سامنے اپنا اچھا تاثر قائم کر رہی ہے ، دوم اس بات کا مطلق خیال نہیں کیا جاتا کہ کوئی استاد یا اعلٰی افسر کسی خاتون کو اس  کے خاتون ہونے کی وجہ سے شاید اسکی مرضی کے بغیر اس کا جنسی استحصال کر رہا ہو۔

مشرقی معاشرے میں بالخصوص مرد و خواتین  کی معاشرتی، سماجی اور مذہبی ذہن  سازی اسطرح کی جاتی ہے کہ مرد اپنے آپ کو عورت کے مقابلے میں افضل سمجھنے کو حق بجانب سمجھتے ہوئے ، عورت کا معاشی ، سماجی اور جذباتی استحصال نہ صرف جائز سمجھتا ہے بلکہ اس پر نازاں ہوتے ہوئے اسے اپنی بہادری سمجھتاہے۔ ایسے میں اگر سماجی روایات کے برعکس عورت مرد کو قانونی اور اخلاقی لحاظ سے دلیل کی بنیاد پر یہ باور کرانے کی کوشش کرے کہ افزائش نسل کے عمل کی ابتدا سے لیکر ، گھر داری اور ریاستی معاملات تک عورت برابر کی شراکت دار ہے اور اسے فیصلہ سازی یا پالیسی سازی میں شریک کرتے ہوئے ، اس کی رائے کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہوئے اسے اہم قرار دیا جانا چاہئے تو  عورت کی اس مانگ کو روائت پرست پس پشت ڈالتے نظر آتے رہے۔

عورت کی ہتک عزت اور جنسی استحصال یا آبرو رزیری نہ تو کوئی نئی بات ہے اور نہ موٹر وے پر پیش آنے والا سانحہ آخری سانحہ ہو گا اس عمل کے نتیجے میں تمام مردوں کو من جملہ مورد الزام ٹھہرانا بھی شاید مناسب نہیں، اسی معاشرے میں صنفی مساوات اور عورتوں کے  حقوق کی آواز بلند کرنے والی خواتین کے ساتھ کئی مرد ان کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں ۔ سکول ، کالج یا یونیورسٹی یا آفس میں ایسے کئی مرد موجود ہوتے ہیں  جو اپنی کلاس فیلوز یا ساتھ کام کرنے والی عورت کے ساتھ احترام کے رشتہ رکھتے ہیں اور وہ بجائے عورت کو ایک مخالف صنف سمجھنے کے ایک مکمل انسان سمجھتے ہوئے اس کی طاقت بنتے ہیں اور عورت کے پیشہ وارانہ معاملات میں اسکی ترقی میں اسکا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں۔

جنسی گھٹن اور ہوس پرستی کو بالعموم سارے مردوں یا کسی ایک طبقے کے ساتھ منسلک کرنا شاید درست نہیں ہوس پرست محنت مزدوری کرنے والا مزدور بھی ہو سکتا ہے اور کسی ملٹی سٹوری بلڈنگ میں قائم شدہ کمپنی کا مالک بھی، کسی بس کا ڈرائیور بھی اور کسی سرکاری ادارے کا اہلکار بھی اسی طرح ہوس، کا شکار ہونے والی خواتین بھی محنت کش طبقہ، ملازمت پیشہ اور جدیدیت پسند یا سماجی طور پر بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والی ہو سکتی ہے۔

پاکستانی معاشرہ، پالیسی ساز ادارے اور مجموعی طور پر ریاست  ایک طرح کے مردانہ   فوقیت کا مزاج  رکھنے افراد کے زیر اثر رہا ہے اور ہنوز پنجاب کے سی سی پی او کا بیان اور مظلوم کو قصور وار ٹھہرانا اس کی ہلکی سے جھلک ہے۔ گھر کے باورچی خانے سے لیکر آئین ساز ادارے اور ریاستی مشینری چلانے والی بیوروکریسی سے لیکر تعلیمی درسگاہوں پر  اکثریت کی ذہن سازی اس طرح سے کی جاتی ہے کہ اسکا عکس سماج میں ہونے والے مختلف واقعات اور سانحات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر آپ کسی خاتون کے رشتے کی صورت میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ اسلام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے کے لئے مرد اور خاتون دونوں کی رائے لینی لازم ہے یا  لڑکی اور لڑکا اگر مسلمان ہیں اور قبیلہ برادری کی تفریق مذہبی احکام سے متصادم ہے تو فریقین یہ رائے دیتےنظر آئیں گے کہ مذہب کی بات اپنی جگہ درست لیکن ہمارا قبیلہ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا گویا قبیلائی  اخلاقیات مذہبی اخلاقیات سے بڑھ کر ہوئیں۔ اسی طرح کئی ذہین اور محنتی خواتین کو استطاعت کے باوجود اعلٰی تعلیم کے لئے اس لئے نہیں بھیجا جاتا کہ ان کے خاندان میں یہ رواج نہیں ہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض خواتین جو ریاست کا ایک کثیر سرمایہ لگنے کے بعد کسی مخصوص شعبے میں اعلٰی تعلیم حاصل کرتی ہیں ان کا خاندان انہیں اس شعبے میں خدمات سر انجام دینے کی اجازت نہیں دیتا ۔

ریپ اور خواتین کے جنسی استحصال کے لئے پاکستانی ریاست موجودہ وقت تک موثر قانون سازی نہیں کر سکی،  قانون شہادت سے لیکر مجرم کوسزا دینے تک کا قانون  ایک معمے سے کم نہیں اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے ڈر سے ریپ کے اکثر کیس رپورٹ ہیں نہیں ہوتے۔ قانونی موشگافیوں سے پہلے عوام کو اس بات کا ادراک ہونا لازمی ہیکہ جنسی درندگی کا شکار ہونیوالی خاتون ایک جسمانی اور نفسیاتی المئے کا شکار ہوئی ہے  اسلئے اس کے کسی بھی عمل کو کسی بھی فورم پر زیر بحث لانے سے گریز کیا جائے۔ ریاست کو تمام قانونی پیچیدگیوں کو آسان تر بناتے ہوئے ہوس پرستوں کے خلاف ایسی موثر قانون سازی کرنی ہوگی کہ یہ عمل بار بار دھرائے جانے کا شائبہ تک نہ رہے، چار گواہان کے بکھیڑے میں  پڑھنے کی بجائے ڈی این اے رپورٹ کو شہادت تسلیم کرنے کی قانون سازی سب سے پہلا عمل ہے۔

لباس ، پردہ ،  اکیلی عورت، محرم کا ساتھ ہونا ، ڈرامے ، انٹرنیٹ اور موبائل کے مستعمل ہونےکو ریپ کی وجہ قرار دیکر اپنا اخلاقی فریضہ ادا کرنا کافی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے جنسی گھٹن کا شکار معاشرے میں مردوں کی برتری  کے زیر اثر  اور قانون کے کمزور ہونیکے خلاف موثر آواز اٹھاتے ہوئے ارباب اختیار کو مجبور کیا جائے تاکہ   مستقبل میں ایسے حادثات کا تدارک ہو سکے۔  اپنے گھروں میں اپنے بچوں کی تربیت اس نہج پر کی جائے کہ وہ شعوری طور پر عورت کو انسان  سمجھتے ہوئے  اس کے احترام یقینی بنائیں۔  ریاست ، عوام اور معاشرہ اگر موجودہ نظام کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے اور تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک عوام دوست ، منصفانہ اور غیر طبقاتی نظام کی داغ بیل نہیں ڈالی جاتی تو ہوس پرست  ظالم ہو کر بھی قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہونگے اور عورتیں  بلا تخصیص ایسے حادثات کا شکار ہو کر بھی قصور وار –

 

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *