Type to search

خبریں سیاست

سیاسی قیادت کو بلانا چاہیے تھا، نہ جانا چاہیے تھا، فیصلے جی ایچ کیو نہیں پارلیمنٹ میں ہوں: مریم نواز

صبح صبح اپنی ایک اور ضمانت کروا کر واپس اسلام آباد پہنچا۔ دفتر میں رک کر پانی پیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ روانہ ہو گیا کیونکہ آج پھر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز بمع شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی پیشی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو جانے والی سڑکیں ہر طرف سے بند تھیں اِس لئے کار پارک کرنے کے بعد 15 منٹ کی واک کر کے 11 بج کر 35 منٹ پر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچا اور احاطے میں صحافی دوستوں سے ہنستا مذاق کرتا کمرہِ عدالت میں داخل ہو گیا۔

کمرہِ عدالت میں ہاؤس فل تھا۔ ن لیگ کے رہنما سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک سفید شلوار اور خاکی کرتے میں جب کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر سفید شلوار قمیض میں موجود تھے۔ تھوڑی دیر بعد ایک وکیل اٹھ کر نکلا تو اس کی نشست پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر سستانے کے بعد جب کمرہِ عدالت میں صحافی دوستوں کی آمد شروع ہوئی تو میں بھی اٹھ کر صحافی ساتھیوں کے ساتھ آ کھڑا ہوا۔ سینیٹر مصدق ملک ڈیلی ڈان کے نمائندہ اسد ملک اور سینیئر صحافی مطیع اللہ جان سے ہلکی پھلکی طنزیہ گفتگو میں مشغول تھے تو میں بھی شامل ہو گیا۔

ایک موقع پر ڈاکٹر مصدق ملک نے طنزیہ انداز میں کہا پاکستان میں جو ماڈل اپنایا گیا ہے پوری دنیا سے ڈونر ایجنسیاں اِس کا مطالعہ کر رہی ہیں کہ کیسے اِس کو اپنے ملک میں لاگو کیا جائے تاکہ ترقی کی جا سکے۔ سینیئر صحافی مطیع اللہ جان نے اپنی مخصوص شریر مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا آپ این سی او سی ماڈل کے ذریعے ملک چلانے کی بات کر رہے ہیں تو سینیٹر مصدق ملک ہنس دیے لیکن خاموش رہے۔ میں نے بھی معصوم بننے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک سے پوچھا سر تو آپ کہہ رہے ہیں پاکستان کو بھی جنوبی کوریا کے جنرل چینگ جیسا کوئی مل گیا ہے؟ سینٹر مصدق ملک نے فوراً مطیع بھائی اور ملک اسد کو کہا کہ دیکھو میں نے کوئی نام نہیں لیا تھا یہ اسد علی طور نے نام لیا ہے۔ ہم سب ہنسنے لگے۔

12 بج کر 40 منٹ پر کمرہِ عدالت میں ہلچل پیدا ہوئی تو سب نے گردن گھما کر داخلی دروازے کی طرف دیکھا۔ مریم نواز ہلکے نیلے کرتے اور سفید شلوار میں کمرہِ عدالت میں داخل ہو رہی تھیں جب کہ ان کے ساتھ ساتھ نیلی شلوار قمیض اور کالی واسکٹ میں کیپٹن صفدر بھی تھے۔ تھوڑے فاصلے پر رہتے ہوئے ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب بھی کمرہِ عدالت میں داخل ہو گئیں۔ کمرہِ عدالت میں صحافی حسن ایوب نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا نوازشریف کے نمائندے کی آرمی چیف سے ون آن ون ملاقات ہوئی؟ مریم نواز نے اِس ملاقات کی تردید کر دی۔ اِس کے بعد 1 بج کر 5 منٹ پر جسٹس عامر فاروق اور محسن اختر کیانی کمرہِ عدالت میں داخل ہوئے۔ 1 بج کر 10 منٹ پر مریم نواز بنام ریاست کی آواز لگی تو مریم نواز کے وکیل امجد پرویز بھٹی اور حکومتی نمائندے روسٹرم پر آ گئے۔

مریم نواز کے وکیل  نے عدالت سے اپیلوں کی سماعت باری باری شروع کرنے کی درخواست کرتے ہوئے مہلت طلب کی۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ پہلے کون سی اپیل کی سماعت چاہتے ہیں؟ امجد پرویز ملک نے 6 جولائی 2018 کے فیصلے کی نظرِ ثانی کی سماعت کی درخواست کی تو جسٹس عامر فاروق نے ایون فیلڈ کیس میں مریم نواز کی اپیل کی سماعت نو دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل پر حکومتی نمائندے سے جواب مانگ لیا۔ جسٹس عامر فاروق کو حکومتی نمائندے نے بتایا کہ وارنٹس فزیکلی ڈلیور نہیں ہو سکے تھے لیکن آج نواز شریف کے ایک بیٹے کے سیکرٹری وقار احمد نے ہائی کمیشن میں علی ابڑو کو کال کر کے درخواست کی کہ اب وارنٹ بھجوائے جائیں ہم موصول کر لیں گے۔

حکومت کی طرف سے جسٹس عامر فاروق کو مزید بتایا گیا کہ راؤ عبدالحنان کو ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بھجوا دیا گیا ہے جو پاکستان کے لندن میں ہائی کمیشن سے صرف 15 منٹ کی واک پر ہے اور کیونکہ لندن کا مقامی وقت پاکستان کے سٹینڈرڈ ٹائم سے چار گھنٹے پیچھے ہے تو وارنٹ کی موصولی کی تصدیق ہونے میں کچھ گھنٹے لگیں گے۔ جسٹس عامر فاروق نے وارنٹ وصولی کی تصدیقی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کر دی۔

سماعت کے بعد باہر نکلے تو ن لیگی کارکنوں کی نعرے بازی اور گھیرے میں مریم نواز کا سامنا جب صحافیوں سے ہوا تو سینیئر صحافی مطیع اللہ جان نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ن لیگی رہنماؤں کی فوجی قیادت سے ملاقات کا علم تھا اور کیا یہ ملاقات ان کی مرضی سے ہوئی؟ مریم نواز نے جواب کا آواز آہستہ آہستہ بولتے ہوئے کیا جیسے وہ بہت سوچ سمجھ کر الفاظ ادا کر رہی ہوں اور جواب کے اختتام پر پوزیشن لی کہ نواز شریف کو معلوم تھا یا نہیں یہ ان کے علم میں نہیں لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ سیاستدانوں کو ایسی ملاقاتوں کے لئے نہیں بلانا چاہیے اور نہ ہی سیاستدانوں کو جانا چاہیے۔ مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ یہ گلگت بلتستان کی عوام کے حقوق کا ایشو ہے اور ایسے معاملات پر جی ایچ کیو میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *