Type to search

خبریں سیاست

آرمی چیف کی نواز شریف کے نمائندے سے ملاقات میں کیا ہوا؟: ‘کہا گیا کہ حکومت کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلنے دیں گے’

جب سے اپوزیشن کی اے پی سی ہوئی ہے اور اس میں نواز شریف کی تقریر سامنے آئی ہے پاکستان کے طاقت کے ایوانوں سے روز کوئی نہ کوئی خبر سامنے آرہی ہے۔ اب صحافی طلعت حسین نے اپنے یو ٹیوب چینل ایس ٹی ایچ میں ایک دھماکے دار انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے اے پی سی سے کئی روز قبل نواز شریف کے نمائندے اور آرمی چیف سے ایک ملاقات  کی تفصیل جاری کی ہے۔ اس ملاقات میں کچھ دیر کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض بھی شریک ہوئے۔ طلعت حسین نے بتایا کہ یہ ملاقات اس ملاقات سے الگ ہے جس کا تذکرہ آج کل جاری ہے جس میں اپوزیشن کی لیڈر شپ اور عسکری قیادت شریک ہوئی تھی۔

جس ملاقات کا وہ تذکرہ کر رہے ہیں یہ صرف نواز شریف کے نمائندہ واحد اور آرمی چیف و ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد دنوں اطراف کو اپنے گلے شکوے، پیغامات اور صورتحال پر تبصرہ تھا۔ طلعت حسین نے انکشاف کیا ہے کہ ملاقات میں آرمی چیف نے یہ برملا کہا کہ اس وقت وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ جو سیاسی سیٹ اپ چل رہا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور یہ سب ایسے ہی چلے گا۔ عمران خان کے حوالے سے آرمی چیف نے کہا کہ انکی حکومت کے تین سال مکمل کرائے جائیں گے۔ اس ملاقات میں نواز شریف کے نمائندے نے کھل کر نواز شریف کا موقف رکھا۔

اس نے آرمی چیف کو کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ وہ اس حکومت کے خلاف بھرپور سیاسی مہم چلانے کا فیصلہ کرنے والے ہیں جس پر آرمی چیف نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ چاہے جو مرضی کر لیں اس حکومت کے خلاف کسی سیاسی سرگرمی نہیں ہونے دیں گے کوئی لانگ مارچ ہوگا نہ مال روڈ پر دو بندے جمع ہونے دیں گے۔

طلعت کے مطابق نواز شریف کے نمائندے نے آرمی چیف کے سامنے حکومت کی بد ترین کارکردگی خاص طور پر معاشی کارکردگی کا بھی حوالہ دیا جس پر آرمی چیف نے وہی بیانیہ اپنایا جو کہ عمران خان اپناتے ہیں جس کے مطابق یہ سب پچھلی حکومتوں کی گئی تباہ کاریاں ہیں۔ طلعت حسین کے مطابق اس ملاقات کا مقصد بیچ کی راہ ڈھونڈنا نہیں تھا دو پارٹیاں ایک دوسرے کو سننا اور سنانا چاہتی تھیں۔ اس ملاقات کے بعد نواز شریف کو فوجی قیادت کا موڈ اور موقف بتا دیا گیا۔ جس کے تحت نواز شریف نے تمام کشتیاں جلاتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ ان تلوں میں تیل نہ تھا نہ ہے سو اب سیدھا مقابلہ کیا جائے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *