Type to search

ادب بلاگ شاعری معاشرہ

کافی کچھ دکھا دیا مجھے میرے ملک کے لڑکھڑاتے ھوئے نظام نے

کافی کُچھ دکھا دیا مُجھے میرے مُلک کے لڑکھڑاتے ھُوئے نظام نے*

ہنستےچہروں کےپیچھے
غم دیکھا
خُشک آنکھوں میں ھم نے
نَم دیکھا

دیکھنے میں جو پُر سکوں
سا تھا
ھم نے اکثر اُسے برہم
دیکھا

جس کو بے حوصلہ سمجھتے
تھے
اُسکے اندر بلا کا دَم
دیکھا

جن کو جکڑا متاع کی لالچ
نے
اُنکا گرتا ھُوا فہم
دیکھا

بادشاھوں کو سب غریبوں
کا
مال کرتے ھُوئے ہضم
دیکھا

واسطے عشق چڑھتے سُولی
پر
ھم نے عاشق بھی اور صَنَم
دیکھا

پیار کے بول بولتا تھا
جو
اُسکی بے رحمی اور سِتَم
دیکھا

جسکو عادت تھی سخت
گوئی کی
اُسکے سینے میں دل نَرَم
دیکھا

سَہہ گئے کَرب رِستے
زخموں کا
چارہ گر نا کوئی مرہم
دیکھا

جو تھاخاموش سا
تما شائی
بولتا اُسکا پِھر قَلَم
دیکھا

جس کو رُکنے کا حُکم تھا
اُسکا
ھم نے بڑھتا ھُوا قدم
دیکھا

جسکی دُنیا نے چاھی ذِلَّت
تھی
اُسکا بنتے ھُوئے بھرم
دیکھا

جسکو اُوپر اُٹھا یا دُنیا
نے
اُسکو گرتے ھُوئے دَھڑَم
دیکھا

جو تَکَبُّر میں تَکتا اُوپر
تھا
اُسکی گَردَن میں پڑتے خَم
دیکھا

رَب کی حکمت کے نُورِ مُضمَر
کو
کُچھ نے زیادہ کسی نے کم
دیکھا

ھم نے پاکیزہ ریا کار وں
کا
دُوسرا چہرہ بے شَرَم
دیکھا

جنکے ہاتھوں میں رہتی
تسبیح تھی
اُنکے ایمان میں وہَم
دیکھا

جسکو بے سوز سب نے
گردانا
اُسکو گاتے ھُوے عَنَم
دیکھا

جسکو دُنیا نے گُنہگار
کہا
اُسکے اندر چھُپا حَرَم
دیکھا

جس نے مخلُوقِ رب سے پیار
کیا
اُس پہ ﷲ کا کَرَم
دیکھا

شُکر ھے قوم میں اُبھرتا
پھر
اِتِّفاق اِک نیا بَہَم
دیکھا

قوم کے پھر سے مَردِ مومِن
کو
ھم نے لیتے ھُوئے جَنَم
دیکھا

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *