Type to search

تجزیہ سیاست میڈیا

وہ پانچ مواقع جب عمران خان نے پاک فوج پر سنگین الزامات عائد کیئے

ویسے تو اقتدار کے حساب کا بنیادی کلیہ ہی یہی ہے کہ اس کا کوئی کلیہ نہیں۔ جو بھی کیا جائے جیسے بھی کیا جائے، بس طاقت کے مرکز سے جڑا جائے۔ اب اسے ہی کلیہ مان کر امریکہ، روس، چین، بھارت اور برطانیہ سمیت کسی بھی ملک کو اس پر رکھ کر تول لیا جائے تو اس کی حقانیت مزید واضح ہو جائے گی۔ مگر پاکستان کی سیاست کو اس کلیے پر پرکھا جائے تو شاید اسے سند اعلیٰ نصیب ہو۔

آج کل بحث پھر سے چھڑی ہے کہ اپوزیشن فوج سے رابطے کیوں بڑھا رہی ہے؟ خفیہ ملاقاتیں کیوں کرتی ہے؟ اور پھر وہی اپوزیشن عوام میں آ کر فوج کے خلاف کیوں بیان بازی کرتی ہے؟ اب کیا کریں صاحب کہ طاقت کا مرکز ہے اور کلیہ اقتدار اس کا قرب پانا ہے۔ پیار سے، بات چیت سے یا پھر دباؤ میں لا کر۔۔۔ اب حکومتی جماعت کے ٹوئٹر کارکنان جو کہ نواز شریف اور اپوزیشن کے خلاف فوجی اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے پر ان کو ہندوستان نوازی اور غداری کے فتوے دے رہے ہیں، ان کو شاید یاد نہیں کہ ان کے سیاسی مائی باپ اور ملک کے موجودہ وزیر اعظم اس سے کہیں زیادہ سخت بیانات کھلے عام داغ چکے ہیں۔ اور تو اور بھارتی میڈیا کے سامنے بھی اپنی شعلہ بیانی میں رتی برابر کمی کے روادار نہیں رہے۔ اسی کا تو نتیجہ ہے کہ طاقت کا مرکز ان کی طرف متوجہ ہوا اور پھر انہیں اپنا بنا لیا۔ موجودہ سیاسی بحث اس بات کی متقاضی ہے کہ جناب وزیر اعظم عمران خان کے ان بیانات کو یاد کیا جائے اور ریکارڈ کا حصہ ایک بار پھر سے بنایا جائے۔

ایک بار تو عمران خان صاحب ایک نجی محفل میں بیٹھے تھے۔ ترنگ میں آ کر کہنے لگے کہ بیس ہزار بندہ اکھٹا کر لو تو جرنیلوں کا پیشاب نکل جاتا ہے۔ کسی منچلے نے وہاں ان کی ویڈیو بنا لی اور کسی دل جلے نے موقع محل دیکھتے ہوئے اپلوڈ کر دی۔

پھر اسی طرح خان صاحب کسی انٹرنیشنل دورے پر تھے۔ وہاں ایشیا سوسائٹی سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں معصوم عوام کو ذبح کیا۔ عورتوں بچوں کو۔ یہی کچھ بلوچستان میں ہو رہا ہے اور یہی فاٹا کے قبائلی علاقوں میں۔ ایک فوجی کی نفسیات میں ہی عوام سے ڈیل کرنا نہیں ہوتا۔ ان کی ٹریننگ نہیں ہوتی۔ ان کا جب کوئی ساتھی مر جاتا ہے تو وہ دشمن سے بدلہ لیتے ہیں لیکن اس جنگ میں واضح دشمن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماورائے عدالت قتل اور جنسی زیادتیاں کی جاتیں ہیں۔

(لوگوں کا جمہوری نظام سے اعتبار اٹھ چکا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کا ووٹ کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا۔ مثلاً اس وقت کے بارے میں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، میں لکھ کر دے سکتا ہوں کہ 18 فروری [2018] کو پاکستان کی تاریخ میں کم ترین ووٹ ڈالے جائیں گے کیونکہ لوگوں کو پہلے ہی پتہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خود انتخابات لڑ رہی ہے۔ ق لیگ جسے مشرف نے بنایا ہے، پوری ریاستی مشینری اس کی انتخابی مہم چلا رہی ہے، اور سب کو نظر آ رہا ہے

ایک اور موقع پر طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہماری فوج اپنے ہی لوگوں پر بم برسا رہی ہے۔ اس کے غیر اخلاقی پن کے بارے میں سوچیے۔ کہ یہ کتنا بہیمانہ ہے۔ آپ اپنے ہی لوگوں پر بمباری کیسے کر سکتے ہیں؟: عمران خان)

)1971 میں جب پاکستان آرمی نے مشرقی پاکستان میں کارروائی کی، میں وہ شخص تھا جو اپنی فوج کے ساتھ کھڑا تھا کہ یہ بہادر فوجی ہیں، یہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں، اور یہ سب غیر ملکی دہشتگرد اور انتہا پسند ہیں۔ یہ ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ فوج نے عام شہریوں کو ذبح کیا، عورتوں کو، بچوں کو، اور اب ہم وہی کچھ بلوچستان میں کر رہے ہیں۔ وہاں لوگوں پر بم برسائے جا رہے ہیں۔ آپ لوگوں پر بم کیسے برسا سکتے ہیں؟ کیا آپ کے سامنے کوئی فوج کھڑی ہے جس پر بم برسا رہے ہیں؟ یہ عام لوگ ہیں، ان میں بچے شامل ہیں۔ ہمارے لئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کیا ہم اپنے ہی لوگوں پر بم برسا رہے ہیں؟)

پھر ڈان ٹی وی پر بیٹھ کر قبائلی علاقوں میں قتل کیے جانے والے صحافیوں کے بارے میں کہا کہ انہیں شک ہے کہ انہیں ایجنسیوں نے مروایا ہے کیونکہ جب آپ جھوٹا آپریشن جھوٹ کی بنیاد پر کرتے ہیں تو اسے چھپانا پڑتا ہے۔

ویڈیو کے لیے لنک:https://www.dailymotion.com/video/x2p7udh

ایک مرتبہ بھارت کے مشہور پروگرام ’آپ کی عدالت‘ میں بیٹھ کر سرِ عام کہا کہ 2002 کا الیکشن ہم اس لئے ہارے کیونکہ جو سیاسی جماعت پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہوتی ہے، اسے کبھی جیتنے نہیں دیا جاتا۔ اس ضمن میں انہوں نے مسلم لیگ نواز کی مثال بھی دی کہ 1997 میں ان کی ملک میں دو تہائی اکثریت تھی مگر جب اسٹیبلشمنٹ ان کے خلاف ہو گئی تو انہیں پورے ملک سے کل ملا کر 17 نشستیں ہی میسر آئیں۔

یہاں تک کہ ہمارے وزیر اعظم اپنی کتاب ’میں اور میرا پاکستان‘ کے صفحہ نمبر 310 پر پاکستان کی انٹیلیجنسی ایجنسیوں پر فرقہ واریت اور دہشت گردی پھیلانے کا الزام لگا چکے ہیں جس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ میڈیا پر اثر انداز ہو کر اسے سوات آپریشن کے لئے راہ ہموار کرنے کے کام پر لگا دیا گیا۔ ایک صحافی نے مجھے بتایا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لوگ کہتے ہیں کہ طالبان کے خلاف خبریں فرنٹ پیج پر لگاؤ اور پھر یہ لکھتے ہیں کہ صحافی نے انہیں بتایا کہ ایجنسیاں طالبان سے فکری قربت رکھنے والے دیو بندی مکتبہ فکر کو بے دست و پا کرنے اور فرقہ ورانہ ٹکراؤ کو ہوا دینے کے درپے تھیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *