Type to search

تجزیہ

وزیر اعظم عمران خان ماضی میں طاہر اشرفی کے بارے میں کیا خیالات رکھتے تھے؟

 

وزیراعظم عمران خان نے آج مولانا طاہر اشرفی کو اپنا معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مقرر کیا ہے۔ مولانا طاہر اشرفی لشکر جھنگوی کے اہم رہنماوں سے قریبی روابط رکھتے ہیں۔ لشکر جھنگوی جو ملک بھر میں شیعہ مخالف کارائیوں میں سرگرم ہے اور مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کا کھل عام پرچار کرتی ہے کے مولانا طاہر اشرفی کیساتھ ذاتی نوعیت کے تعقات ہیں اور وہ بارہا انکا دفاع بھی کر چکے ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان لشکر جھنگوی کو کوئٹہ میں ہزارہ شیعوں کے قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرا چکے ہیں۔ جبکہ ایک ٹویٹ میں انہوں نے سوال کیا تھا کہ اس قتل عام پر ریاست کہاں ہیں۔  علاوہ ازیں وزیر اعظم اپنے سابقہ کئی بیانات میں مولانا طاہر اشرفی کے بیانات پر انہیں تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں۔

مولانا طاہر اشرفی کو معاون تعینات کرنے سے قبل انہیں سعودی حکام کی جانب سے سعودی عرب بلایا گیا تھا۔ انکی واپسی کے کچھ گھنٹوں بعد انہیں معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی تعینات کر دیا گیا ہے۔

ایسی صورت حال میں جب ملک میں فرقہ واریت پڑھ رہی ہے اور شیعہ سنی فسادات طوالت اختیار کر رہے تو مولانا کو مذہبی ہم آہنگی کا معاون خصوصی بنانا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *