Type to search

بڑی خبر حکومت خبریں

جب تک کسی پر جرم ثابت نہیں کر لیتے تب تک اس پر جرمانہ کیسے عائد کرسکتے ہیں؟: سرینا عیسٰی کا ایف بی آر کو جواب

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ مسز سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر کے آرڈر سے مُنسلک ایک نوٹس کا جواب آج دوپہر ایف بی آر کے دفتر جاکر جمع کروا دیا ہے۔ مسز سرینا عیسیٰ کے تحریری جواب سے انکشاف ہوا ہے کہ ایف بی آر کے 164 صفحات کے تحریری حُکمنامہ کے آخر میں ایک نوٹس بھی لگایا گیا ہے جِس میں مسز سرینا عیسیٰ سے پوچھا گیا ہے کہ آپ کے ذمہٰ واجب الادا ساڑھے تین کروڑ روپے ٹیکس کے علاوہ آپ کو جُرمانہ کیوں نہ کیا جائے؟ مسز سرینا عیسیٰ نے مذکورہ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے اِس کو اِنکم ٹیکس آرڈیننس کی شقوں سے مُتصادم قرار دیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر حُکام کو طنز کرتے ہوئے لکھا کہ مذکورہ نوٹس میں آپ نے پہلی بار مُجھے جواب دینے کے لیے پندرہ دِن کا میرا قانونی حق دیا جو اِس سے پہلے بھجوائے گئے آٹھ نوٹسز میں نہیں تھا۔ مسز سرینا عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ اپنی تمام تر مُشکلات کے باوجود میں نے آپ کے تمام نوٹسز کا جواب دیا تاکہ آپ یہ نہ کہہ سکیں کہ میں جواب نہیں دے رہی لیکن میری توقع کے عین مُطابق آپ نے پھر بھی پہلے سے طے شُدہ فیصلہ سُنا دیا۔ مسز سرینا عیسیٰ نے سوال اُٹھایا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا آپ مذکورہ نوٹس میں جُرمانہ کی رقم جُرمانہ عائد کرنے کی وجہ کے ساتھ لکھی ہوتی اور مُجھ سے جواب مانگا جاتا کہ آپ پر یہ جُرمانہ کیوں عائد نہ کیا جائے؟ لیکن منطق سے ہٹ کر جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے اُس کی بنا پر میں ایک نہ بتائی گئی وجہ اور غیر اعلان شُدہ جُرمانہ کی رقم کا جواب نہیں دے سکتی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ مسز سرینا عیسیٰ نے اِنکم ٹیکس کمشنر اِن لینڈ ریونیو کے دائرہِ کار پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیونکہ اُنکے ٹیکس گوشوارے ہمیشہ کراچی سے داخل کیے جاتے تھے اِس لیے اُنکا (مسز سرینا عیسیٰ) کا کیس ٹیکس کمشنر کراچی کو سُننا چاہئے تھا۔مسز سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے میرے علم میں لائے بغیر میرا ٹیکس کمشنر کراچی سے بدل کر اسلام آباد کا قرار دے دیا جِسکا سُپریم کورٹ نے نوٹس بھی لیا تھا اور ایف بی آر جو جنوری 2020 میں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے میرا ٹیکس کمشنر واپس کراچی والا ہی مُقرر کرنا پڑا تھا۔

مسز سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ آپ نے میرا کیس سُن کر سُپریم کورٹ کے مُختصر حُکمنامہ کی بھی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ سُپریم کورٹ نے اپنے حُکم میں میرے ٹیکس امور کا معاملہ مُتعلقہ ٹیکس کمشنر اِن لینڈ ریونیو کو بھیجنے کا حُکم دیا تھا جِس کے دائرہِ کار میں میرے ٹیکس گوشوارے آتے ہوں جو آپ (ذوالفقار احمد، اٹیکس کمشنر اِن لینڈ ریونیو) نہیں ہیں۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ سُپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دے کر لکھتی ہیں کہ یہ طے شُدہ اصول ہے جو بھی کاروائی دائرہِ اختیار میں نہ ہو وہ غیر قانونی تصور ہوگی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کیونکہ آپ پہلے سے ہی 10 مئی 2019 کو وزیراعظم آفس کی شکایت والے خط پر میرے خلاف معلومات دے چُکے تھے اِس لیے میں نے آپ سے بارہا درخواست کی کہ آپ میرا کیس مت سُنیں لیکن آپ نے بھرپور دلچسپی سے میرا کیس سُنا۔ مسز سرینا عیسیٰ حیرانگی کا اظہار کرتی ہیں کہ کیا یہ اتفاق تھا کہ 10 مئی 2019 کو آپ (ذوالفقار احمد) میرے خلاف غیر قانونی طور پر معلومات حکومت کو دیتے ہیں اور 25 جولائی 2019 کو ایف بی آر کے درجنوں ٹیکس کمشنروں میں سے ترقی دینے کے لیے آپ کا ہی انتخاب کیا گیا؟

مسز سرینا عیسیٰ لکھتی ہیں کہ آپ نے مُسلسل آئین کے تحت حاصل میرے شفاف ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی کی اور ابھی بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ نہ تو میں نے اپنی قابلِ ٹیکس آمدن کو چھپانے کی کوشش کی اور نہ ہی غلط گوشوارے جمع کروائے۔ مسز سرینا عیسیٰ لکھتی ہیں کہ جیسے ہی 2018 میں اِنکم ٹیکس آرڈیننس میں بیرونِ مُلک جائیدادوں کو ظاہر کرنا لازم قرار دینے کی شِق شامل کی گئی میں نے اپنی لندن کی جائیدادیں رضاکارانہ طور پر ظاہر کردیں جبکہ ایف بی آر نے مُجھے کبھی نوٹس کرکے نہیں کہا تھا۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ میں نے اپنی لندن جائیدادوں کے ساتھ اُنکی خریداری کے لیے رقم کے ذرائع آمدن اور بیرونِ ملک جِس اکاونٹ سے پیسے بھجوائے وہ بھی ظاہر کیا جِس کو آپ نے اہمیت نہیں دی۔ مسز سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا میرا فارن کرنسی اکاونٹ پہلے روز سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس رجسٹرڈ ہے اور اسٹیٹ بینک نے کبھی اُس پر سوال نہیں اُٹھایا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ سُپریم کورٹ نے اپنے حُکمنامہ میں آپ کو پابند کیا تھا کہ آپ اِنکم ٹیکس آرڈیننس کے دائرہِ کار اور شقوں کے مُطابق تحقیق کریں گے اور اِنکم ٹیکس آرڈیننس کی درج مُدت کے قانون کے مُطابق 2014 سے قبل کے ٹیکس گوشوارے طے شُدہ معاملہ ہے لیکن آپ نے سُپریم کورٹ کے حُکم اور اِنکم ٹیکس آرڈیننس دونوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میرے اُن ٹیکس گوشواروں کا بھی جائزہ لیا جو اِنکم ٹیکس آرڈیننس کی طے کردہ مُدت تحت اب طے شُدہ تصور ہوتے ہیں۔

مسز سرینا عیسیٰ لکھتی ہیں کہ میں نے اپنی لندن کی جائیدادیں چُھپانے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ میرے بچوں کے نام پر ہیں ورنہ اگر ہم چُھپانا چاہتے تو وزیراعظم عمران خان اور کئی دیگر مشہور شخصیات کی طرح آف شور کمپنیاں بنا کر اُن کے نام پر رکھ سکتے تھے۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ مُجھ پر جُرمانہ صرف اُس صورت میں عائد ہوسکتا تھا اگر اِنکم ٹیکس آرڈیننس کے مُطابق میں نے اپنی جائیدادیں چُھپائی ہوتی یا جان بوجھ کر ٹیکس بچانے کی کوشش کی ہوتی اور آپ کا نوٹس بھی مُجھ پر ایسا کوئی الزام نہیں لگا رہا اِس لیے اگر میرے پر یہ الزام بالواسطہ بھی عائد نہیں تو آپ مُجھ پر جُرمانہ کیسے عائد کرسکتے ہیں۔ مسز سرینا عیسیٰ مُتعدد عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتی ہیں جِن میں ایف بی آر کو پابند کیا گیا ہے کہ جب تک آپ کسی پر یہ ثابت نہیں کرتے کہ اُس نے جان بوجھ کر غلط بیانی کی یا جائیدادیں اور آمدن چُھپائی آپ اُس کو جُرمانہ نہیں کر سکتے۔

معزز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ جواب کے اختتامی پیرا گراف میں لکھتی ہیں کہ آپ نے میرے خلاف حُکم بظاہر اِس بنا پر جاری کیا کیونکہ بقول آپ کے آپ میری وضاحت سے مُطمعن نہیں ہوئے تھے لیکن اِس بنا پر آپ مُجھ پر جُرمانہ عائد نہیں کرسکتے۔ مسز سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میری کراچی امریکن اسکول میں ملازمت سے 1982 سے ہونے والی آمدن، کراچی میں کلفٹن میں دو جائیدادوں کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے مُنافع اور میری زرعی آمدن کو آپ نے ایک جُنبشِ قلم سے مُسترد کرکے قرار دے دیا کہ میں پاکستان میں ایک کنال کے گھر کی مالیت کے مُساوی رقم کی لندن میں جائیدادیں نہیں خرید سکتی۔ مسز سرینا ایف بی آر حُکام سے پوچھتی ہیں کہ کیا اِس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک خاتون ہوں؟ یا اِس کی وجہ میرا اُن اشخاص وزیراعظم عمران خان اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ کے ٹیکس گوشوارے طلب کرنا تھا؟ کیونکہ یہ دونوں حضرات ایسے کوئی ذرائع آمدن نہیں رکھتے جِن سے یہ اتنی بڑی جائیدادوں کے مالک بن گئے۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ سوال اُٹھاتی ہیں کیا میں یہ کہنے میں حق بجانب نہیں کہ آپ سے مُطالبہ کروں کہ آپ اِن دونوں کے ٹیکس معاملات کے ساتھ بھی وہی سلوک کریں جو میرے ساتھ روا رکھا گیا؟ مسز سرینا عیسیٰ کی اہلیہ کا مزید کہنا تھا کہ کیا یہ غلط نہیں کہ آپ میرے جوابات کے غلط معنی نکالیں، حقائق کو غلط انداز میں بیان کریں اور جان بوجھ کر مسخ کردیں۔

آخر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اُمید کا اظہار کیا کہ اوپر دیے گئے جواب کی بُنیاد پر اُن کے خلاف جُرمانہ کا نوٹس واپس لے لیا جائے گا اور اگر پھر بھی ایف بی آر حُکام اُن کے اِس سات صفحات کے جواب سے مُطمعن نہ ہوئے تو اُنہیں سُننے کا ایک اور موقع دیا جائے گا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *