Type to search

انصاف خبریں

‘ملزم نظام کو شکست دے کر گیا، باہر بیٹھ کر وہ سسٹم پر ہنس رہا ہوگا’

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیلوں کے کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ نوازشریف کا بیرون ملک جانا پورے نظام کی تضحیک ہے اور ملزم کو پتا ہے وہ سارے نظام شکست دے کر گیا وہ وہاں بیٹھ کر پاکستان کے سسٹم پر ہنس رہا ہوگا۔

اس موقع پر عدالت نے کہا کہ ہم نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، دیکھنا ہےکہ کیا جان بوجھ کرعدالتی کارروائی سے فرار کیاجارہا ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وارنٹ کی تعمیل کیلئے پاکستانی ہائی کمیشن کے افسر راؤ عبدالحنان ایون فیلڈ اپارٹمنٹس گئے لیکن وہاں موجود شخص ایڈی نے وارنٹ لینے سے انکار کردیا جس کے بعد نوازشریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

دورانِ سماعت نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے عدالت کوبتایا کہ نوازشریف وارنٹ گرفتاری جاری ہونے سے آگاہ ہیں، یہ ان کے وکیل نے بھی بتایاتھا کہ انہیں عدالتی آرڈر سے آگاہ کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ہمیں بتایاگیاکہ پاکستانی عدالت کے احکامات پر عملدرآمد کے وہ پابند نہیں، اس پر عدالت نے کہا کہ ہمیں شواہد کےساتھ خودکو مطمئن کرناہےکہ عدالت نے وارنٹس کی تعمیل کیلئےاپنی پوری کوشش کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس ساری ایکسر سائز کا مقصد ہےکہ کل ملزم آئے تویہ نہ کہےکہ اسے معلوم نہ تھا، ملزم کو پتہ ہے کہ وہ سارے سسٹم کو شکست دے کرگیا ہے، وہ وہاں بیٹھ کر پاکستان کے سسٹم پر ہنس رہا ہوگا، یہ نہایت شرمناک بات ہے، اس معاملے پر عدالت فیصلہ دے گی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کل نوازشریف واپس آکر یہ نہیں کہہ سکتےکہ مجھے وارنٹ گرفتاری کا علم نہیں، وہ کل یہ موقف اختیار نہیں کرسکتے کہ مجھے موقع نہیں دیا گیا،ان کا بیرون ملک جانا پورے نظام کی تضحیک ہے، آئندہ وفاقی حکومت کوبھی خیال رکھناچاہیےکہ کیسےکسی کو باہر جانے دیناہے یا نہیں؟ جتنی کوشش ایک مجرم کو وارنٹ پہنچانے میں لگ رہی ہے،کئی سائلین کوریلیف دیا جاسکتا ہے، عدالت، حکومت، دفتر خارجہ اور ہائی کمیشن مل کر ایک وارنٹ کی تعمیل کرارہے ہیں۔

عدالت نے ایون فیلڈ اورالعزیزیہ ریفرنسز میں نوازشریف کی اپیلوں پرسماعت بھی 7 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *