Type to search

تجزیہ

وادی کیلاش کے باسیوں کے بارے میں غلیظ پراپیگنڈا: سازشی منصوبہ یا جہالت؟

  • 28
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    28
    Shares
ضلع چترال کی تین وادیوں بیریر، رمبور اور بمبوریت میں تین ہزار سے زائد کیلاشی رہتے  ہیں۔ یہ لوگ اپنے مخصوص ثقافت کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتے ہیں۔ وہیں کچھ سیاحوں کی طرف سے ہراساں کرتے اور اُن کے خلاف غلط معلومات پھیلاتے دیکھا گیا ہے۔ گذشتہ سال کلاش وادی میں لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے جرم میں پشاور سے ایک شخص کو چترال کی خواتین پولیس کے ہاتھوں گرفتار کروایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اور شخص فیس بک پر غیر اخلاقی مواد آپ لوڈ کرنے کے بعد معافی مانگنی پڑی تھی۔
اس کے علاوہ آج کل فیس بُک اور یوٹیوب پر کلاش قبیلے کے خلاف غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہاں تک کہا جا رہا ہے۔ کہ کلاش ویلی میں کسی کے ساتھ بھی آسانی سے جنسی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے اور یہ اس عمل کو غیر اخلاقی نہیں سمجھتے۔ اور شادی شدہ عورت اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے مرد کے ساتھ آزادانہ طور پر رہ سکتی ہے۔ اس کا شوہر اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اور جب بچہ پیدا ہوتا ہے کلاشیوں کے اکاونٹ میں ڈالر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ 
چترال سے تعلق رکھنے والے نظار ولی شاہ جو اس وقت دبئی میں مقیم ہے۔ کلاش قبیلے سے متعلق ان باتون کو من گھڑے اور جھوٹ پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے۔ میں خود دو سال کلاش ویلی میں قیام پذیر ریا ہو ایسی کوئی بات مجھے نظر نہیں آئی۔ کلاش قبیلے کے لوگ سادہ مزاج اور شریف لوگ ہیں۔ اُن کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
لُک رحمت کلاش کا کہنا ہے۔ ہم کئی سالوں سے ان مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ لوگ کلاش قبیلے کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بدنام کر رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں کلاش قبیلے کے خلاف منفی رجحانات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  با ہر سے آئے ہوئے سیاح ہمارے خلاف غلط افواہ پھیلا رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اُن کا مزید کہنا ہے۔ یہ لوگ ہمارے نوجوان نسل کو بدظن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جس سے کلاش قبیلے میں کے لوگ مشتعل ہونگے اور اس سے ہمارے سیاحت کے شعبے کو نقصان پہنچے گا۔ کیونکہ ہمارے لوگ سیاحوں کو عزت دیتے ہیں اور وہ لوگ اس کا غلط فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے لوگ سیاحوں کو خوش آمدید نہیں کہیں گے۔ غلط معلومات پھیلانا نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ایک  جُرم ہے۔ شادی بیاہ کے بارے میں اُن کا کہنا ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ ہم ایک مخصوص تہوار میں شادی کرتے ہیں یا لڑکا لڑکی کو لیکر بھاگ جاتا ہے۔ میری اپنی شادی 25 اکتوبر کو ہوئی تھی اس میں تو  کوئی تہوار نہیں ہوتا۔ نا بیگ شراکٹ کلاش ایڈوکیٹ کہتے ہیں ضلعی انتظامیہ اور کے پی کے ٹورزیم ڈیپارٹمنٹ منفی کردار ادا کرنے والے سیاحوں اور سوشل میڈیا پر نازیبا الفاظ، غیر اخلاقی اور غیر قانونی مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔
جو ہمارے کلچر ، مذہب اور ہمارے علاقے کے لوگوں کے بارے میں غلط تصورات لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کلاش کے ناموں سے سوشل میڈیا پر کئی قسم کے گروپ ،پیچز ، فیک اور پرسنل  آئی ڈیز موجود ہیں جو کلاش لڑکیوں کی تصویریں استعمال کرتے ہیں۔ وہ ہمارے لئے قابل قبول نہیں۔ کچھ سیاح چھپکے تصویریں نکالتے ہیں اور انھیں اپنی تصویر وں کے ساتھ فوٹو شاپ کے ذریعے مسخ کرتے ہیں۔
اور اس کے علاوہ ہمارے کلچر کے بارے میں خود ساختہ اور بے بنیاد  کہانیاں  لکھتے ہیں اگرچہ ان میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔اُن کا مزید کہنا ہے کہ تینوں کالاش وادیوں میں مختلف انداز میں بلیک میلنگ بھی کی جاتی ہے۔ جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا نتیجہ تبدیلی مذہب کی صورت میں نکلتا ہے۔ کلاش قبیلے کا چیف قاضی شیر زادہ جو کلاش قبیلے کے مذہبی رہنما مانے جاتے اپنے ویڈیو پیغام میں کہتے ہیں کہ کلاش قبیلے کے لوگ اپنے طور طریقے کے مطابق آزاد ہیں۔ گھومتے ہیں اور اپنے تہوار اپنے مذہبی اقدار کے مطابق مناتے ہیں اور اپنے مہمانون کو خوش آمدید کرتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اخلاقی طور پر گرے ہوئے ہیں۔ لوگ ہمارے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور اُنہیں چاہئے ہم سے معافی مانگے۔ بصورت دیگر ہم قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ چترال کے مقامی لکھاری دلشاد پری کہتے ہیں کہ لوگ اپنے یوٹیوب چینل کی ریٹنگ اور ویورز بڑھانے کے لئے غلط افواہیں پھیلا رہے ہیں جو حقیقت کے منافی اور جرم کے ذمرے آتے ہیں۔ یوٹیوب چینل چلانے والے کچھ حضرات نہ صرف کلاش قبیلہ بلکہ پورے چترال کا امیج خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے یوٹیوب میں کچھ ایسے ویڈیوز چترال اور کلاش قبیلے کے متعلق دیکھے ہیں، جو سراسر گمراہ کُن ہیں۔  دوسرے شہروں کے لوگ چترال میں آکر شادیاں کرتے ہیں یا ان کی دوسرے شہروں میں پہلے سے رشتہ داریاں ہوتی ہیں یا بالع لڑکے اور لڑکی پسند کی بنیاد پہ شادی کرتے ہیں۔ شادی سے پہلے قانونی لوازمات پورے کرنے پڑتے ہیں۔
Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *