Type to search

انسانی حقوق انصاف جدوجہد خبریں

بحریہ ٹاؤن اراضی تنازعہ: “100سالوں سے مقیم آبادی نہیں بحریہ ٹاؤن اصل قبضہ مافیہ ہے”

بحریہ ٹاؤن انتطامیہ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی مزید توسیع کیلئے نواحی گاؤں علی محمد گبول پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ روز اس گوٹھ پر قبضہ کرنے کے دوران مقامی لوگوں اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے مابین جھڑپ ہوئی اور انتظامیہ کی جانب سے ایک شخص پر بلڈوزر چڑھا دیا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہوا۔

نیا دور نے مقامی لوگوں سے رابطہ کر کے معاملے کے حقائق جاننے کی کوشش کی۔ متاثرہ گاؤں کے رہائشی اور عوامی ورکرز پارٹی کے کارکن حفیظ بلوچ کا کہنا ہے کہ کراچی ملیر کے اس علاقے میں یہ چھوٹے قبائل پاکستان بننے سےپہلے کے آباد ہیں۔ یہ زرعی علاقہ ہے اور آج تک کسی نے اسکی زرعی حیثیت ختم کرنے کی کوشش نہیں کی مگر بحریہ ٹاؤن نے اپنے رہائشی منصوبوں کو بڑھاتے ہوئے آہستہ آہستہ اس علاقہ سمیت تمام گوٹھوں پر ناجائز قبضہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ علاقہ زرخیز تھا اور یہاں بہت سے معدنیات واقع ہیں جن میں پہاڑوں اور ندیوں سے نکلنے والی ریت ہے جو پانی کو فلٹر کر کے اسے زمینوں میں منتقل کردیتی ہے جسے ایک قدرتی نعمت سمجھا جاتا ہے۔ اس ریت کی مدد سے وہاں موجود کنوں میں صاف پانی محفوظ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ریت کو بیرون ملک برآمد بھی کیا جاتا ہے اور اس کاروبار میں بڑے بڑے سیاستدان اور بیوروکریٹ مقامی لوگوں کا استحصال کرتے چلے آرہے ہیں۔

انہوں نےمزید بتایا کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے انکے ، گھر ،کنویں اور قبرستان  مسمار کر کے ان پر بلڈوزر چلا دئیے گئے ہیں۔ جبکہ غریب گاؤں والوں کی زمین ہتھیا کر اس پر گرینڈ مسجد بنائی گئی ہے۔علاوہ ازیں مرکزی عید گاہ کی زمین پر بھی قبضہ کر کے اس کے چاروں طرف باونڈری وال بنا دی گئی۔

حفیظ بلوچ نے انکشاف کیا کہ وہ اور علاقہ مکین عرصہ 7 سال سے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے جبر کے خلاف تن تنہاء لڑ رہے ہیں جبکہ حکومتی ادارے اور بیوروکریسی بحریہ انتظامیہ کی پشت پناہی کرنے میں مصروف ہے ۔ انکا مزید کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے کچھ لوگوں کو چند روپیوں کا لالچ دیکر ان سے کوڑی کے داموں سے زمین خریدی اور وہاں کام شروع کیا جبکہ باقی علاقوں پر زبردستی قبضہ کر کے باؤنڈری وال بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند سال قبل بحریہ انتظامیہ اور حکومتی اہلکاروں نے 80 سالہ بزرگ فیض محمد گبول کو کہا کہ وہ اپنی زمینیں انہیں بیچ دیں جس پر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ انکے انکار پر راؤ انوار کو انکے سر پر سوار کر کے پولیس کی مدد سے زبردستی انکی زمین ہتھیا لی گئی۔

بحریہ ٹاون کا دعوی ہے کہ یہ جگہ انکی ملکیت ہے تاہم جب حفیظ بلوچ سے سوال کیا گیا کہ، بحریہ اور پولیس کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ مقامی لوگ یہاں غیر قانونی طور پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں جبکہ یہ سرکاری زمین ہے جو سرکار نے خود بحریہ ٹاؤن کو دی ہے۔ اس سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ یہ قبائل پاکستان بننے سے قبل یہاں آباد ہیں اور یہ زمینیں انکے دادا پڑدادا کی ہیں۔ ‘کولاچی مائی’ جس کے نام سے ‘کراچی’ شہر منسوب ہے اس علاقے میں مقیم تھیں اور یہاں مقیم سارے قبائل کراچی کے سب سے قدیم رہائشی تصور کیئے جاتے ہیں۔  تقسیم ہند کے موقع پر جو لوگ یہ علاقہ چھوڑ کر گئے صرف وہ علاقہ حکومت نے قبضے میں لیا جو بعد میں بحریہ انتظامیہ کو بیچا مگر باقی گاؤں اور گوٹھ یہاں موجود قبائلی لوگوں کی ملکیت ہے جو پچھلے سو سال سے زائد عرصے سے اس علاقے میں آباد ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں اس لئے انہیں زمینی قواعد و ضوابط کا علم نہیں ورنہ وہ تو خاموشی سے اپنی زمینیوں پر کھیتی باڑی اور محنت مشقت کر رہے تھے انہیں معلوم نہیں تھا کہ اتنا بڑا قبضہ مافیہ انکی زمین ہتھیانے پہنچ جائے گا۔

انہوں نے اس سوال کے جواب میں مزید کہا کہ قبضہ مافیہ ہم لوگ نہیں جو یہاں سالوں سے مقیم ہیں، یہ زمین ہماری ماں ہے جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے زرخیز اور رہنے کے قابل بنایا ہے۔ حقیقت میں قبضہ مافیہ وہ ہیں جو ہمارے آبا ؤ اجداد کی زمین ہتھیانے یہاں پہنچ گئے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کی گئی زمین کا کل رقبہ 16000 ایکڑ ہے جسکا کوئی نقشہ جاری نہیں کیا گیا جبکہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے اسکی توسیع کرتے ہوئے 25000 ایکڑ پر اپنا قبضہ جما لیا ہے ۔مقامی لوگوں کی زمین کو بھی سرکاری زمین قرار دیا جارہا ہے جس کے خلاف ہم نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں درخواستیں جمع کروا رکھی ہیں اور سٹے آرڈرز بھی لے رکھے ہیں۔

زبیر بلوچ نے کہا کہ بحریہ ٹاون کی توسیع  ماحولیاتی تباہی کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے جہاں کراچی کے ساتھ ملحقہ گاؤں شہر کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں جبکہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ اسکی قدرتی خوبصورتی چھین کر یہاں مصنوعی اور اشرافیہ کے ترقیاتی منصوبے بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماحولیات کے طلبہ نے اس معاملے  پر تحقیقی مکالہ جات اور کالم بھی لکھے ہیں جس میں بغیر حکمت عملی بحریہ ٹاون کی توسیع کو ماحولیات کیلئے بہت بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج ہفتہ کی شام کو بحریہ انتظامیہ اور پولیس نے سائرن بجاتے علاقے میں گشت کیا تاہم میڈیا پر خبر آنے کے باعث مزید کوئی بھی کاروائی کرنے سے کترا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقامی لوگ، کراچی بچاؤ تحریک ، عوامی ورکرز پارٹی و دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سوموار کو پریس کانفرنس کی جائے گی جس میں حقائق کے ساتھ موقف اور آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا جائیگا۔ نیا دور نے اس معاملے پر بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کا موقف لینے کی کوشش کی مگر ٹاؤن انتظامیہ کے کسی نمائندے سے رابطہ نا ہوسکا تاہم ای میل کے ذریعے انکا موقف لینےکی کوشش کی جارہی ہے۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *