Type to search

جرم خبریں دہشت گردی سیاست

محسن داوڑ پر حملہ کرنے والے ہارون رشید کے ماضی میں دہشتگردوں سے ممکنہ تعلقات منظر عام پر آگئے

ایم این اے محسن داوڑ پر حملہ کرنے والے سابقہ ایم این اے اور جماعت اسلامی کے نائب امیر ہارون رشید کے ماضی میں دہشتگردوں کے ساتھ ممکنہ تعلقات کی خبیں سامنے آئی ہیں۔ 2 مارچ 2010 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک بیان میں سابقہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اختر عباس اور اور انسپکٹر جنرل فرنٹئیر کور میجر جنرل طارق خان نے کہا تھا کہ جماعت اسلامی کے رہنماء حافظ ہارون رشید کے طالبان اور دہشتگردوں سے ممکنہ تعلقات کے ثبوت ملے ہیں۔ اس وقت جماعت اسلامی کے رہنماء ممکنہ حراست سے بھاگ رہے تھے اور آرمی انہیں ڈھونڈنے میں مصروف تھی۔

اطلاعات کے مطابق رہنماء جماعت اسلامی ہارون رشید نے باجوڑ ایجنسی میں بار کی تقریب حلف برداری کے دوران ایم این اے محسن داوڑ اور تقریب میں موجود دیگر افراد پر حملہ کیا تھا۔ محسن داوڑ کو تقریر کرنے سے روکنے پر مزاحمت کے دوران جماعت اسلامی کے رہنماء اور انکے ساتھیوں نے تقریب میں موجود لوگوں کو زد و کوب کیا۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے محسن داؤڑ کو فون کر کے اس حملے کو صاحبزادہ ہارون رشید کا انفرادی فعل قرار دیا ہے اور اسے جماعت اسلامی کی پالیسی کے برخلاف قرار دیا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *