Type to search

بلاگ تاریخ تجزیہ

رائے احمد خان کھرل اور پنجابی کسانوں کی1857 میں کمپنی راج کے خلاف چھاپہ مار مزاحمت

نہایت ہی قابل احترام اور میرے عظیم معلم رمضان انور صاحب نے سید سید علی ثانی جیلانی کی238 صفحات پر مبنی 2020 کی تصنیف “رائے احمد خان کھرل شہید تاریخِ جنگ آزادی 1857” ناشر ادارہ صوتِ ہادی شیخو شریف اوکاڑہ مجھے ہدیہ کی تو  تاریخ کے طالبعلم ہونے کی حیثیت سے میری نگاہ جلد ہی کتاب کے آخر میں دیے گئے مختلف حوالوں پر مبنی مراجع اور حواشی پر پڑی۔

جس سے واضح ہوا کہ یہ کام پر اثر تحقیق پر مشتمل ہے۔ اسی چیز سے متاثر ہو کر میں نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو دیپاچہ میں اپنے محسن استاد محترم محمد رمضان انور صاحب کے مصنف اور کتاب کے باے میں مدلل جملوں نے تجسس کو مزید بڑھا دیا۔ مقدمہ میں مصنف کے یہ الفاظ کہ”میں مورخ نہیں بلکہ ایک مقالہ نگار ہوں” نے ان کے علمی قد کاٹھ کو اور بڑھا دیا کہ مورخ نہ ہونے کے باوجود ایک مستند تاریخی کتاب تصنیف کی۔ مقدمہ میں مصنف نے رائے احمد خان کھرل شہید کے مختلف معاشرتی، مذہبی، سیاسی اور علمی پہلوؤں کو مختصراً سمیٹا ہے۔  جس میں اے ڈی اعجاز صاحب کی “کال بلیندی” دستاویز بہت اہم ہے۔ محترم محمد رمضان انور صاحب کی شاہکار تصنیف “تاریخ سید والا” کا تذکرہ اور کتاب میں جا بجا اس کے حوالے کام کی اہہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔

 

باب اول میں مصنف نے 1857 کی تحریک آزادی کے حالات و واقعات کے پس منظر کو ایک نہایت ہی اہم نقطہ کے ساتھ اٹھایاہے کہ آیا یہ تحریک بغاوت تھی یا تحریک حریت تھی؟ اس خطہ زمین کے تاریخی پس منظر میں مغل حکومت اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے برضغیر میں کردار کو زیر بحث لاتے ہوئے اس کےخلاف اٹھنے والی تحریک کے جانبازوں کو حریت پسند ثابت کیا گیا ہے۔

 

باب دوئم میں برصغیر میں عمومی طور پر 1857 کی تحریک آزادی کے حالات و واقعات کا نقشہ کھینچتے ہوئے بغاوت کی وجوہات، ابتدا مرکزیت اور رہنمائی کے فقدان پر بات کی گئی ہے۔

مرکز میں موجود، پاکستان میں اشرافیہ کی تاریخ لکھنے کا رجحان بہت زیادہ رہا ہے اور علاقائی تاریخ کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ کتاب کے باب سوم میں ضلع پاکپتن اور ساہیوال کے علاقے کی اہمیت تحریک آزادی کی نسبت سے عیاں کی گئی ہے۔

 

علاقائی تاریخ نویسی کے حوالے سے باب چہارم “شیخوشریف”بہت متاثرکن ہے۔ رائے احمد خان کھرل کی راہنمائی میں پنجاب میں حریت کی سب سے بڑی تحریک کے مجاہدین کا شیخو شریف سے روحانی اور علمی تعلق اس تحریک کی اصل روح تھی جس پر بہت کم روشنی ڈالی گئی ہے۔ کچھی والے جنگل اور شیخو شریف پر انگریز فوج کی کاروائی اس کی واضح مثالیں ہیں۔

 

باب پنجم میں انگریزوں کے مخالف مسلمانوں کے حصہ میں سرفہرست رائے احمد خان کھرل ہیں جنہوں نےاکیاسی سال کی عمر میں فرضیت جہادکا فتوٰی آنے کے بعد اور اپنے مرشد سید عبدالرزاق گیلانی شیخوی کے حکم پر جدو جہد کا آغآز کیا اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے بہادری اور جوان مردی کے جوہر دکھائے۔ دشمن نے اس وقت ان کو گولی ماری جب وہ نماز میں میں مصروف تھے۔ ان کے سر کو دھڑ سے جدا کر کے گو گیرہ جیل کے دروازے پر لٹکا دیا گیا۔ اسی تحریک کے دوسرے سرگرم ناموں میں محامد کاٹھیا، نتھو کاٹھیا، نادر شاہ قریشی، مراد فتیانہ ،امانت علی چشتی، حضرت بابا نگاہی شاہ چنیوٹٰی، ولی داد مردانہ بلوچ، سوجابھدرو، جلا ترہانہ، موکھا و ینہیوال اور رجب و ینہیوال شامل ہیں۔ مصنف نے دانشمندی سے ان خاندانوں کے افراد کی جدوجہد کو بھی اجاگر کیا ہے جن کا کسی نہ کسی طرح اس تحریک میں کردار تھا۔ ان میں سید، رائے سارنگ، نواب، ہدایت، واگھ، بہاول، محکم وساوا، تریج وٹو، باہلک وٹو، متلی وٹو، شہرا، مورا، پٹھانا، کلو جنجوعہ، نورنگ، واہگھ، شہ داد، رچھا، رحمان، مراد، خوشحال ماچھی، میاں جہانا، دتو شیخ پربائیں(ڈھول بجانے والا) اور ایک بزرگ کھگہ کا نام بھی ملتا ہے۔

 

رائے احمد خان کھرل کی شہادت کے بعدجس طریقے سے اسٹنٹ کمشنر گوگیرہ لارڈ برکلے کو مار کر بدلہ لیا گیا اس نے لندن تک کو ہلا ڈالا۔ پنجابیوں کی اس گوریلا لڑائی میں پہلا شخص مراد فتیانہ ہے۔ مصنف کے مطابق اس نے رائے احمد خان کھرل کی آواز پر سب سے پہلے لبیک کہا۔ لارڈ بر کلےکو سب سے پہلے برچھی (نیزہ) اس نے مارا اور رائے احمد خان کھرل کے بچوں کی حفاظت و کفالت کا ذمہ لیا۔ دوسرا شخص سوجا بھدرو سے جب لارڈ برکلے کو مراد فتیانہ نے نیزہ مار کر گھوڑے سے گرا دیا تو اسی نے اس کو ڈنڈا مار کر ہلاک کر دیا۔جلا ترہانہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ لارڈ بر کلے کا سر کاٹ کر اپنے گائوں جلہی لے گیا۔ اس کے بعد موکھا وینہیوال وہ پنجابی سپوت ہے کہ جب اس کو گرفتار کر کے کالے پانی لے جایا جا رہا تھا تو اس نے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگا دی اور واپس آکر دریائی علاقے میں چھپا رہا۔ زیر مطالعہ باب کے آخر میں انگریزوں کے مسلمان، سکھ، اور ہندو وفاداروں کے کردار زیربحث لاتے ہوئےصلے میں ملنے والی جاگیروں اور انعامات کی اہم تفصیل دی ہے۔

 

باب ششم میں خاص طور پر رائے احمد خان کھرل شہید کے احوال آثارکی بابت ہر پہلو پر بات کی گئی ہے۔ پیدائش سے لے کر شہادت کے احوال کو مصنف نے جامع اور خوبصورت پیرائے میں مزین کیا ہے۔ رائے احمد خان کھرل پر سب سے بڑا اعتراض ادائل میں ان کی انگریز دوستی پر ہوتا ہے۔ باب ہفتم میں محکمہ دستاویزات و کتاب خانہ جات پنجاب کے فارسی ریکارڈ کے کچھ خطوں کو باب میں شامل کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ انگریزوں سے ان کو ذاتی عناد نہیں تھا بلکہ ملک و قوم کے لیے جہاد کا جزبہ تھا۔

 

علاقائی ڈھولوں اور زبانی تاریخ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ مگر تاریخ دان ڈھولوں سے اس لئے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں کہ بعض ڈھولوں میں مصنف اور لکھاری کاپتہ ہی نہیں ہوتا۔

مصنف نےآٹھویں باب میں پنجاب کی تاریخ کی علاقائی ثقافت میں ڈھولوں کی اہمیت کو خوبصورت انداز میں اجاگر کرتے ہوئے قدیم عرب اور پنجاب کے ثقافتی میلوں میں پڑھے جانے والےڈھولوں کے رومانوی اثرات، عامیانہ شاعری، زبان دانی اور نغز بیانی کا موازنہ کیا ہے۔ مصنف کے مطابق پنجاب کے “ڈھولوں کا اسلوب انگریزی ادب کی نظموں سے ملتا ہے”. تاریخ کے مضمون میں تحقیقی طریقہ کار کے ضمن میں محققین کی ایک بہت بڑی تعداد سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی زبانی تاریخ کو معتبر نہیں مانتی اور نہ ہی ان کو اپنی تحقیق میں شامل کرتے ہیں مگر موجودہ وقت میں تاریخ دانوں کی ایک بہت بڑی تعداد عام لوگوں کی تاریخ کو اہمیت دیتے ہوئے زبانی تاریخ کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ اس باب میں مصنف نے رائے احمد خان کھرل اور ان کے ساتھیوں کےبارے میں مختلف اوقات میں کہے گئے ڈھولوں کو شامل کیا ہے مگر ساتھ ساتھ مصنف ان کے تاریخی مآخذ ہونےکے بارے میں بھی مکمل طور پر بیدار ہے اور اپنے خیالات کا اظہار اس طرح فرماتے ہیں”اس باب میں چند ڈھولے قارئین کے ذوق طبع کے لیے شامل کیے گئے ہیں نہ تو یہ تاریخی سند ہیں اور نہ ہی ان کی زبان نستعلیق ہے بالکل ہٹھاری زبان اور جٹاکی لہجہ 

ہے۔ مختلف شعرا کا اپنا اپنا تخیل ہے۔ بے ربط مضامین بھی ہیں۔ ان کے پیچھے دادودیش کی طاقت بھی کار فرما ہے”۔ مصنف نے قارئین کے ادبی ذوق  کی تشنگی اور آسانی کے لیے ہر ڈھولے کا عام فہم اور اردو میں ترجمہ بھی کر دیا ہے۔ باب کے آخر میں منٹگمری گزٹئیر کا مکمل اقتباس شامل کر کے انگریزوں کی مرتب کردہ مجاہدین اور وفاداران انگریز کی تفصیل دی گئی ہے۔

 

جب بھی رائے احمد خان کھرل کی بہادری اور جانبازی کا تذکرہ ہوتا ہے تو فوراَ یہ سوال ذہنوں میں گھومتا ہے کہ وہ کون تھے ان کا سلسلہ نسب کیا تھا اور موجودہ دور میں ان کے وارث کون ہیں۔ اور ان کی وراثت کا کیا حال ہے۔ کتاب کے اوائل میں مصنف نے اپنا مدع یوں بیان کیا ہے “مجھے کھرل قوم کے مناقب بیان کرنے سےکوئی غرض نہیں مسئلہ صرف یہ ہے کہ جب وسیع و عریض ملک کے طول و عرض میں انگریز قوم نے اپنے قدم رکھے تو بڑے بڑے نامور خاندان اور جاگیر داران ان پر نثار ہونے لگے۔ بڑے عالی شان خانقاہوں کے سجادہ نشینان نے ان کے لیے دیدہ دل فرش راہ کیے”۔

 

باب نہم میں مصنف نے نہایت عرق ریزی سے شجرہ جات اولاد رائے شہید پر کام کیا ہے جو کے میری رائے میں نہایت اہم کام ہے۔ رائے احمدخان کھرل کے جد رائے شہ داد خان سے لے کر موجودہ دور میں رائے فخر عباس (ایڈ ووکیٹ)، رائے حیدر علی اور ان کی دو ہمشیران پر ختم کرنا مصنف کے کام کو مزید جامع اور معتبر بنا دیتا ہے۔

باب دہم جو کہ آخری باب ہے کہ ضمیمہ جات میں تصاویر اماکن ،مشاہیر اور دستاویزات کو مختصر تعارف کے ساتھ  شامل کرکے کتاب کی خوبصورتی اور عمومی معلومات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

 

اس کتا ب کے بارے میں اپنےتاثرات کو سمیٹتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ یہ کتاب رائے احمد خان کھرل پر علمی ذخیرہ میں خصوصی اور پنجاب کی تاریخ کے اس بنیادی گوشے پر عمومی اور شاندار اضافہ ہے جو کہ اس حوالے سے نئی علمی بحثوں کی بنیاد بنے گا۔ جس طرح پروفیسر ڈاکٹر محمد افتخار شفیع صاحب نے فرمایا ہے کہ”اردو زبان میں اس موضوع پر یہ اولین کتاب ہے” تو مصنف مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کا کام نہ صرف پنجاب میں بلکہ پورے پاکستان میں اس تحریک کے وسیع پہلوؤں کو اجاگر کرے گا۔ خاص طور پر اس سال21 ستمبر 2020 کو یہ بات میرے مشاہدہ میں آئی کہ رائے احمد خان کھرل کی برسی کے حوالے سےحکومتی سطح پر کوئی پروگرام منعقد نہیں کیا گیا اور منعقد ہو بھی کس طرح کیوں کہ رائے احمد خان کھرل کے خلاف انگریزی فوج کا ساتھ دےکر جائدادیں بنانے والوں کی اولادوں کی اکثریت ہر دفعہ حکومت میں ہی ہوتی ہے۔

 

 

 میری رائے کے مطابق اس طرح کی تحریریں اس تاثر کو ذائل کرنے میں بہت معاون ثابت ہوں گی کہ پنجاب نے ہمیشہ باہر سے آنے والےحملہ آوروں اور حکمرانوں کا ساتھ دیا۔ پنجابیوں کی سکندر اعظم کی فوج کے خلاف مدافعت سے لے کر دلا بھٹی اور احمد خان کھرل اور ان کے ساتھیوں کی تحریک، 1919میں سانحہ جلیانوالہ باغ کے نتیجے میں برطانوی راج کے خلاف گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والی عوامی مزاحمت اور اس پر حکومت کی فضائی بمباری کرنا، اودھم سنگھ، بھگت سنگھ کا ساتھیوں کے ساتھ برطانوی افسران پر کامیاب قاتلانہ حملے اور 1947 میں پنجاب مسلم لیگ کی یونینیسٹ حکومت کے خلاف کامیاب عوامی جیل بھرو تحریک اس یک طرفہ اور معتصبانہ دلیل کو رد کرتے ہیں۔1857 میں انگریزوں کا ساتھ عوامی نہیں بلکہ علاقائی حکمرانوں اور اشرافیہ کا تھا۔ مزید  یہ کہ پنجاب کے چند حکمرانوں نے بھی انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی۔ اس تحریک کا معاشرتی پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ کس طرح رائے احمد خان کھرل نے عام کاشت کاروں کو آزادی کے متوالوں اور گوریلا فائیٹرز میں بدل دیا اور انہوں نے ان کی شہادت کے بعد عام کسانوں کی جوق در جوق شمولیت کے ساتھ اس کو راوی کے دوسرے علاقوں میں موثر طور پر پھیلا دیا اور یہ تحریک 1858 تک برطانوی سرکار کو لرزہ بر اندام کرتی رہی۔ کتاب کے آخر میں اپنے مہربان دوست اور ابھرتے ہوئے تاریخ دان پروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن سرگانہ صاحب کے اس حوالے سے شاندار کام کا حوالہ بھی دیکھا جو کہ اب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے چھپ بھی چکا ہے۔  

 

اپنے تاثرات کے اختتام پر میں سید سید علی ثانی جیلانی کو اس کتاب کو لکھنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ مستقبل میں اس کتاب کے مختلف پہلوؤں پر تجزیہ و تحلیل کر کے مزید کتب لکھ سکتے ہیں

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *