Type to search

تجزیہ

‘وزیر اعظم آفس کو ن لیگ کے خلاف غداری کے مقدمہ کے اندراج سے قبل اطلاع دی گئی تھی’

یہ بات پہلے دن سے ہی سمجھ سے باہر تھی کہ اچانک حکومت کو کیا ہوا ہے جو وہ بار بار شاہدرہ تھانے میں مسلم لیگ نواز کی لیڈرشپ کے خلاف غداری کے مقدموں پر اپنی صفائیاں پیش کر رہی ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں میں صحافیوں کے خلاف ایسے کئی مقدمات سامنے آئے ہیں، ایک بار بھی حکومت نے شرمندگی کا تاثر نہیں دیا، نہ ہی خود کو ان مقدمات سے دور کرنے کی کوئی کوشش سامنے آئی۔ مطیع اللہ جان کے بھی صرف اغوا پر عمران خان نے کہا کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اپویشن کے بارے میں وہ الیکشن سے پہلے سے ’مودی کا یار‘ کے نعرے لگاتے آئے ہیں بلکہ انہیں نہ صرف ملک کا بلکہ اسلام کا بھی غدار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے رہے ہیں جب انہوں نے کہا تھا کہ جو کچھ ختم نبوت کے قانون کے ساتھ نواز شریف نے کیا ہے، ہم عوام کو بھولنے نہیں دیں گے۔

جس دن شاہدرہ میں مقدمہ درج کروایا گیا، اس سے ایک روز قبل کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی بغاوت کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا، اس پر بھی کہیں کوئی ندامت وغیرہ کا تاثر حکومتی حلقوں کی طرف سے نہ دیا گیا۔ خود عمران خان ندیم ملک کے پروگرام میں کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف کے پیچھے بھارت ہے اور اسد عمر نے پریس کانفرنس میں بھارتی اخبارات کی سرخیاں بھی لہرائیں۔ تو پھر شاہدرہ تھانے والے بغاوت کے مقدمے پر بار بار یہ کہنا کہ ہمارے سے اس کا کوئی تعلق نہیں بڑے اچنبھے کی بات تھی۔ بلکہ فواد چودھری کے مطابق تو وزیر اعظم نے خفگی کا اظہار بھی کر دیا تھا۔

قیاس یہی تھا کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو غدار قرار دینا حکومت کو مہنگا پڑ گیا ہے اور اب وہ اس سے خود کو دور کرنا چاہتی ہے تاکہ بین الاقوامی میڈیا میں ہونے والی سبکی سے بچا جا سکے۔

ممتاز صحافی سہیل وڑائچ نے اب کم از کم اس بات کی تو تصدیق کر دی ہے کہ اس مقدمے سے متعلق آئی جی پنجاب کی جانب سے وزیر اعظم کے خاص الخاص پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی۔

وہ لکھتے ہیں کہ کہا جاتا ہے پرچہ درج کرنے سے پہلے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس نے پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اعظم خان کو فون کر کے بتایا کہ اپوزیشن کو روکنے کے لئے اُن کے خلاف اِس طرح کا مقدمہ درج کیا جا رہا ہے، چنانچہ وفاقی حکومت اور وزیراعظم کا یہ دعویٰ درست معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں سرے سے مقدمے کے اندراج کا علم ہی نہیں تھا۔

دراصل غداری کے مقدمے پر جو ردِعمل آیا، پی ٹی آئی نے اپنے آپ کو مقدمے سے الگ اور دور کرنے کا سیاسی فیصلہ کیا اور معاملہ اداروں پر ڈال دیا کہ اُنہوں نے وفاقی حکومت سے پوچھے بغیر ہی یہ مقدمہ درج کر لیا حالانکہ حقیقت یہ نہ تھی۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئے محاذ پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ 18 اکتوبر کو گوجرانوالہ کے جلسے سے پہلے وفاقی اور پنجاب حکومت نے یہ طے کرنا ہے کہ کیا وہ محمد خان جونیجو کی طرح اپوزیشن کو فری ہینڈ دے کر بےنظیر بھٹو کے 1986جیسے جلوسوں کا ہلہ برداشت کر پائیں گی؟۔ جلسے جلوسوں سے حکومتیں گرتی نہیں مگر ہل ضرور جاتی ہیں۔ اگر تو حکومت عالی حوصلگی اور برداشت کا مظاہرہ کرے، جلسہ جلوس ہونے دے تو اسے شارٹ ٹرم نقصان ہوگا، حکومت کمزور دکھائی دے گی مگر جلسہ جلوس گزرنے کے بعد حکومت ببانگِ دہل کہہ سکے گی کہ اُنہوں نے جمہوری انداز میں کھلی چھٹی دی اور جلسہ جلوس ہونے دیا۔

دوسرا راستہ جلسے جلوس کو روکنے کا ہے۔ جلسے سے پہلے کارکنوں کی گرفتاریاں کی جائیں، پہلے جلسے جلوس کے بارے میں خوف و ہراس پھیلا کر اُسے محدود کرنے کی کوشش کی جائے اور اگر اُس کے باوجود اپوزیشن باہر نکلے تو لیڈر شپ کو بھی گرفتار کر لیا جائے تاکہ ہر طرف دھاک بیٹھ جائے کہ حکومت مضبوط ہے اور اپوزیشن حکومت کو ڈینٹ نہیں ڈال سکی لیکن سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرنے سے جو گڑبڑ اور سیاسی انتشار پیدا ہو گا اُس کے اثرات لانگ ٹرم ہوں گے۔ حکومت کے جمہوری رویوں پر بھی سوال اُٹھنے لگیں گے۔

اندازہ یہ ہے کہ حکومت، اپوزیشن کو فری ہینڈ نہیں دے گی اور آئندہ چند دنوں میں کارکنوں کی گرفتاریاں شروع ہو جائیں گی۔ گوجرانوالہ میں پولیس نے ایک کارنر میٹنگ پر لاٹھی چارج کیا تو وفاقی حکومت نے پھر کہا، اُن کا ایسا کوئی حکم نہیں ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ اگر عوام زیادہ تعداد میں نکل آئے تو لاہور اور گوجرانوالہ کے جلوس ایک ہو جائیں گے اور اُنہیں سنبھالنا پولیس کیلئے مشکل ہو جائے گا۔ پولیس کو پہلے بھی تھپکی اور شاباشی نہیں مل رہی، اِسی لئے ان کا حوصلہ ٹوٹا ہوا لگتا ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق اپوزیشن کے گوجرانوالہ جلسے کا سب سے بڑا اہم واقعہ مریم نواز کی شرکت ہوگا۔ شریف فیملی نے پچھلے چند ماہ میں اپنی جو اسٹرٹیجی بنا رکھی ہے اُس کے مطابق وہ آسانی سے گرفتاری نہیں دیتے۔ مریم نواز بھی جاتی امرا سے باہر تب نکلیں گی جب کارکن اُنہیں لینے کے لئے گھر سے باہر آ جائیں گے تاکہ وہ باہر نکلیں تو کوئی اُنہیں گرفتار نہ کر سکے۔

حکومت اپنا مورچہ جاتی امرا لگائے گی اور کوشش کرے گی کہ کارکن وہاں پہنچ کر جمع نہ ہو سکیں۔ معاملہ جو بھی ہوگا حکومت اور اپوزیشن کی آنکھ مچولی بس شروع ہونے کو ہے۔ اس جنگ میں کون سرخرو ہوگا یہ چند دنوں میں سامنے آ جائے گا۔

قومی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو سب ادارے اور حکومت ایک صفحے پر ہیں، بظاہر حکومت کو کوئی فوری خطرہ نہیں اور بقول وزرا کے 2023 تک اُن کی حکومت ایسے ہی چلتی رہے گی۔ دوسری طرف نواز شریف کا احتجاجی بیانیہ دو طرح کا ردِعمل پیدا کر سکتا ہے۔

پہلا ردِعمل تو یہ ہے کہ ادارے اور حکومت سب مل کر نواز شریف اور ن لیگ کا تیاپانچہ کردیں، فارورڈ بلاک بنا دیں، مزید مقدمات، مزید گرفتاریاں اور مزید دبائو ڈالیں مگر اس آپشن پر پہلے ہی اتنا عمل ہو چکا ہے کہ نواز شریف اور ن لیگ دیوار کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ انہیں مزید زخمی کر کے کوئی بڑا سیاسی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

نواز شریف کے احتجاجی بیانیے کا توڑ کرنے کے لئے دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ن لیگ کے لئے ادارے یا حکومت میں سے کوئی ایک سافٹ کارنر پیدا کرے تاکہ ن لیگ کو بھی سیاسی نظام میں کوئی امید نظر آئے اور انہیں یہ آس لگے کہ آج نہیں تو کل وہ بھی اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ اگر وہ مکمل طور پر مایوس کر دیے گئے تو پھر انہیں یہ بندوبست قابلِ قبول نہیں ہو گا اور پھر وہ حکومت اور اداروں، دونوں کے خلاف لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے۔

سہیل وڑائچ نے لیکن کسی غیر آئینی اقدام کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دو مختلف افواہیں زیر گردش ہیں۔ ایک تو یہ کہ چند دنوں میں وفاقی کابینہ میں اہم ردوبدل ہونے والا ہے جس سے گورننس میں بہتری لانا مقصود ہے۔ دوسری افواہ یہ ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کا ملاکھڑا خطرناک ہو گیا، سیاسی گھڑمس میں اور اضافہ ہوگیا تو پھر عدلیہ کو ایک ریفرنس بھیج کر ایک سال کے لئے عبوری آئینی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔ یہ حکومت عدلیہ کی زیر نگرانی الیکشن کو شفاف بنانے، عدالتی و انتظامی اور انتخابی اصلاحات کے لئے کام کرے گی۔ بظاہر یہ بہت دور کی کوڑی ہے۔

دلائل اور عقل اس تھیوری کو تاحال تسلیم کرنے سے انکاری ہیں لیکن جس ملک میں کئی بار مارشل لا نافذ ہوئے ہوں، ایمرجنسی نافذ رہی ہو، حکومتیں ٹوٹی ہوں اور اسمبلیاں تحلیل ہوئی ہوں وہاں کوئی بھی انہونی ہو سکتی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *