Type to search

تجزیہ

نواز شریف اب تاریخ کا قرض چکا دیں

محمد زبیر کے ذریعے “اہتمام حجت” سے مایوس ہو کر اے پی سی میں اور بعد ازاں دو اور تقاریر سے  نوازشریف سیاسی مخمصہ سے باہر نکل ہی آۓ۔ یہ خطاب سن کر ایسے لگا کہ یہ تقریر تیار کرتے وقت نواز شریف کے ذہن میں خان عبدالولی خان کا یہ قول موجود تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف فیصلہ کن جنگ پنجاب سے ہی لڑی جائے گی۔ شاید اسی وجہ سے مقتدرہ بھی بہت زیادہ ناراض ہے کہ پہلی بار ایک پنجابی سیاستدان ان کے اقتدار کو چیلنج کر رہا ہے۔ اسی لئے تو ہر ملاقات کی تان ڈان لیکس اور مریم نواز پر آ کے ٹوٹ جاتی ہے اور اب تو غدار قرار دینے تک بات جا پہنچی ہے۔ دونوں اطراف کو بہت اچھی طرح علم ہے کہ اب کی بار لڑائی “گھر” کے اندر سے شروع ہوئی ہے اور اب تو یہ بھی معلوم ہو گیا ہوگا کہ کسی سندھی، بنگالی یا بلوچ کی طرح پنجابی سیاستدان کو پورا زور لگانے کے باوجود غدار یا سکیورٹی رسک قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نوازشریف اب آزاد فضا میں ہیں اور صحت بھی قدرے بہتر ہے اسی لئے اپنی  تقاریر کے ذریعے وہ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ بلکہ اپنی پارٹی کی فاختاؤں کیلئے بھی اہم پیغام دے رہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اجلاس میں سعودی عرب سے خراب ہوتے تعلقات کا ذکر ان کی پہلی تقریر کا سب سے دلچسپ پہلو تھا لیکن انہوں نے سی پیک اور چین کے ساتھ تعلقات کا ذکر نہ کر کےثابت کیا کہ وہ خارجہ پالیسی کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں اور کوئی بات سوچے سمجھے بغیر نہیں کرتے۔ حالانکہ یہ بات زبان زد عام ہے کہ سی پیک کو وزارت منصوبہ بندی کے ذریعے چلانا اور گوادر پورٹ  کو مشورہ کے باوجود آپریشنل کرنے پر بضد رہنا میاں نواز شریف کے اقتدار سے رخصت ہونے کے اہم اسباب میں شامل ہے۔

نواز شریف نے جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے مالی معاملات اور بلوچستان حکومت گرانے کا ذکر فصاحت کے ساتھ کیا.پھر  ساتھ ہی علیمہ خان کے مالی معاملات اور چیئرمین نیب کی جنسی سکینڈل کا ذکر کر کے کرپشن پر حکومتی بیانیہ کہ خوب بھد اڑائی۔

انہی خطابات سے نوازشریف نے  شہباز شریف سمیت اپنی پارٹی کی قیادت کو کھلا پیغام دیا کہ ان کی مصالحانہ پالیسی نے ن لیگ کو دیوار سے لگانے کے علاوہ کچھ نہیں دیا اور وہ اسٹیبلشمنٹ سے وعدہ فردا کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں کر سکے۔ انہوں نے اپنی بیٹی سمیت جیل بھی کاٹی اور پارٹی قیادت کے اصرار پر خاموشی بھی اختیار کی، لیکن ان سے بہتر کون جانتا ہے کہ ان کی رہائی کے پیچھے ان کا شدید بیمار ہونا اور مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے دباؤ کا عنصر کارفرما تھا۔

نواز شریف کے علم میں ہوگا کہ اپنے دھرنے ہی کے ذریعے مولانا فضل الرحمٰن موجودہ حکومت کو چلتا کرنے کی تاریخ لینے میں کامیاب ہوئے۔ انہیں یقیناً اس بات کا قلق ہے کہ اس وقت ن لیگ اور پیپلزپارٹی خلوص دل سے مولانا کا ساتھ دیتے تو اس سے بھی زیادہ حاصل کیا جا سکتا تھا۔

دوسری طرف خاموش رہنے کی تجویز مان لینےکے باوجود جج ارشد ملک کا فیصلہ اس کے برطرف ہونے کے باوجود کالعدم نہیں ہو سکا۔ سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ہو، ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی ہو یا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ، ہر مقام پر ن لیگ کی طرف سے خفیہ یا اعلانیہ حمایت سامنے آئی لیکن ن لیگ دباؤ میں ہی رکھی گئی۔

مصالحانہ پالیسی کا سب سے زیادہ فائدہ شہباز شریف کو ہونا چاہئے تھا لیکن حمزہ شہباز طویل عرصہ سے جیل میں ہیں اور شہباز شریف بھی اپنی مفاہمت سمیت گرفتار ہو گئے ہیں اور اب آگے ان کے گھر کی عورتوں سے تفتیش کا عمل شروع ہونے کو ہے۔ نواز شریف کو یہ یقین ہو چکا ہے کہ یہ مصالحانہ پالیسی ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں اسے زیادہ دیر جاری رکھا گیا تو اس کا فائدہ صرف ہائبرڈ نظام کو ہوگا۔

یقیناً وسطی پنجاب کے سیاستدان کے منہ سے ایسی باتیں بہت غیر متوقع تھیں اسی لئے ہر طرف بھونچال کا سماں ہے۔ پہلی تقریر کے فورا بعد سیاستدانوں کی آرمی چیف سے ملاقاتوں کی خبریں اچانک سے میڈیا پر آنی شروع ہو گئیں بلکہ محمد زبیر کی ملاقاتوں کو تو ریاستی سند بھی عطا کی گئی۔ اگلی تقریروں کے بعد اب نوبت غداری کے فتوؤں اور مودی سے خفیہ تعلقات کے الزامات تک جا پہنچی ہے۔ لیکن جہاں نواز شریف سمجھتے ہیں کہ یہ “بندوبست” بری طرح ناکام ہو چکا۔ اس کو لانے والے اتنے غیرمقبول ہو چکے کہ اب کچھ اور کر دکھانے کے قابل نہیں وہیں  مزاحمتی سیاست کیلئے پارٹی قیادت کی تیاری تو کیا دلچسپی بھی نظر نہیں آتی۔  ن لیگ کی بقیہ قیادت خصوصاً پارلیمانی پارٹی نواز شریف کے بیانیہ سے پہلو بچاتی نظر آتی ہے۔

اے پی سی اجلاس کے فورا بعد میڈیا پر ن لیگ کی قیادت نواز شریف کے خطاب کو طرح طرح کے معنی پہنا کر جان چھڑاتی نظر آئی۔ احسن اقبال نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ نوازشریف کی ذاتی رائے ہے۔ اگر نواز شریف خود صفائی نہ دیتے تو خواجہ آصف تو آصف زرداری پر تنقید کر کے پی ڈی ایم کی بینڈ بجا چکے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کارکن کی سطح پر نوازشریف کا بیانیہ بےحد مقبول ہے اور تقریبا سو سال کی تاریخ میں نواز شریف ہی وہ رہنما ہیں جنہوں نے لیگی ووٹر کی سوچ بدلنے کی کوشش کی ہے۔

لیکن نواز شریف کی سیاست بھی تو تضادات کا مجموعہ ہے۔  اسی وجہ سے ن لیگ کے کئی رہنما اسے ذاتی انا کے معاملے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔ اس تضاد بھری سیاست کا ہی ثمر ہے کہ نوازشریف کو مزاحمتی سیاست کیلئے مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کا کندھا تو دستیاب ہے لیکن اپنی جماعت میں شاہد خاقان عباسی کے علاوہ سب احتیاط سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پارلیمانی پارٹی میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جن کو پاپولر ووٹ کیلئے نواز شریف اور مریم نواز کے بیانیہ کی تو اشد ضرورت ہے لیکن باقی معاملات میں وہ شہبازشریف یا مسلم لیگ کی پرانی سوچ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ تھوڑا آگے چل کر ن لیگ کو پارلیمانی سطح پر روایتی منتخب نمائندوں سے ہاتھ دھونے کا دباؤ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ نواز شریف تین دفعہ ملک کے وزیراعظم رہے, جیلیں اور جلاوطنی بھی کاٹی۔ یہ بات ان سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا کہ ان کی پارٹی کے رہنما کس طرح انفرادی طور پر “احسان مند” کئے گئے ہیں. اسی وجہ سے دستیاب قیادت مزاحمتی سیاست کے بیانیہ سے کوسوں دور ہے۔  حالت یہ ہے کہ اگر مولانا عبدالغفور حیدری مدد کو نہ آتے تو لیگی قیادت محمد زبیر کی ملاقاتوں پر کسی موقف دینے کی منصوبہ بندی سے بھی محروم تھی۔

اس طرح کی غیر واضح حکمت عملی کی ذمہ داری نواز شریف اور شہباز شریف  پر بھی آتی ہے. اب نواز شریف کو بھی اپنی پارٹی کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ اور مریم نواز کن شرائط پر خاموش ہوئے.قوم کو اب پتہ چلنا چاہئے کہ کس کی یقین دہانی پر ن لیگ قومی اسمبلی میں حلف لینے پر تیار ہوئی.انہیں قوم کو یہ بتانا چاہیے کہ کس “وعدہ” پر وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں اضافہ کے معاملہ پر جسٹس کھوسہ کے غیرقانونی فیصلے پر آواز نہ اٹھا سکے اور پھر اپنے اصولی موقف سے انحراف کرتے ہوئے مدت ملازمت میں اضافے کی آئینی ترمیم کو بلا چوں چرا ووٹ دینے پر بھی آمادہ ہوئے۔

نیب چیئرمین کے نیب کی ملزمہ کے ساتھ ہی جنسی سکینڈل پر وہ اب بولے ہیں لیکن اس وقت کیا مجبوری تھی کہ دستیاب قیادت نے اسے ذاتی معاملہ قرار دیا اور کسی انکوائری کا مطالبہ نہیں کیا۔ نواز شریف الیکشن شفاف الیکشن کے داعی ہیں لیکن انہیں بتانا چاہیے کہ کس وجہ سے وہ اس دفعہ بھی کسی “طاقتور” کی تجویز کردہ شخصیت کو ہی چیف الیکشن کمشنر ماننے پر مجبور ہوئے۔ دوہزار چودہ کے دھرنے اور ڈان لیکس سمیت ماضی کے اور کئی راز نوازشریف کے سینے میں دفن ہیں۔

انہیں اپنے ووٹر اور تاریخ کو روشناس کروانا چاہیے کہ وہ کونسی “مجبوریاں” تھیں جس کی وجہ سے وہ سمجھوتوں پر مجبور ہوئے۔  پنجاب کے سیاستدان نوازشریف نے اگر مزاحمتی سیاست کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو اپنی پارٹی یا چاہنے والوں کو ایک صفحہ پر لانے کیلئے تمام تر سمجھوتوں, اعترافات اور یاداشتوں کو ایک کتاب کی صورت لکھ کر تاریخ کا قرض ادا کریں. ایسی کتاب انٹرویو کی شکل میں بھی سامنے لائی جا سکتی ہے.یہ کتاب ہی وہ واحد ذریعہ ہو سکتی ہے جس سے ایک طرف تو بھونچال آنے کا اندیشہ ہے اور دوسری طرف عوام کو بالعموم اور سیاسی کارکنوں کو بالخصوص اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ان کی مجبوریوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ہو سکتا ہے کل کلاں ایسی کتاب مزاحمتی سیاست کیلئے زادراہ بن جائے یا اس ملک کی جمہوری جدوجہد کی تاریخ کا نصاب کہلائے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *