Type to search

بڑی خبر جرم حکومت خبریں سیاست

خڑ کمر کیس: عدالت نے علی وزیر، محسن داوڑ کو باعزت بری کر دیا

گزشتہ سال 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے خڑ کمر میں انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا جب فائرنگ کے دوران 15 افراد شہید جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے شبہ میں وزیرستان کے نو منتخب ایم این ایز علی وزیر اور محسن داوڑ پر سی ٹی ڈی کی جانب سے مقدمہ درج کیا گیا تھا جسے آج بنوں کی انسداد دہشگردی کی عدالت نے ثبوت نہ ہونے کی بناء پر خارج کرتے ہوئے دونوں اراکین اسمبلی کو با عزت بری کر دیا ہے۔ تاہم کیس کا تفصیلی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔

گزشتہ سال شمالی وزیرستان کے علاقے خڑ کمر چیک پوسٹ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جب وہاں کے منتخب نمائندے علی وزیر اور محسن داوڑ ایک احتجاج میں شریک ہونے وہاں پہنچے اور یکدم فائرنگ شروع ہوگئی جس میں 15 افراد شہید جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر نے خڑکمر واقعہ کی رپورٹ تیار کرکے صوبائی حکومت کودی تھی جس کے تحت دونوں کو اسکا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے محسن داوڑ کے  گاوں کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے آپ کو خود سی ڈی ڈی کے حوالہ کر کے گرفتاری دی ۔ دونوں اراکین قومی اسمبلی تقریباً تین ماہ سے زائد عرصہ جیل میں رہے تاہم اراکین اسمبلی کی طرف سے انہیں پروڈکشن آرڈر جاری کر کے 21 ستمبر 2019 کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ منتخب رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ضمانت پر رہائی کے بعد قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر خڑ کمر واقعہ میں ان پر گولی چلانے کا الزام ثابت ہوجائے تو انہیں اور علی وزیر کو ڈی چوک میں پھانسی دی جائے۔

یاد رہے کہ اے آر وائے ٹی وی کے اینکرز کی جانب سے واقعے کا ذمہ دار دونوں اراکین اسمبلی کو قرار دیا گیا تھا اس سے قبل سابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی ایم کیلئے “Time up” ہو چکا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *