Type to search

تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست

کیپٹن صفدر، مزارِ قائد کی ’بے حرمتی‘ اور خالد انعم کی تھپڑ لگانے کی خواہش

سوشل میڈیا پر واویلا مچا ہے۔ کیپٹن صفدر نے یہ کیا کر ڈالا؟ کوئی کہتا ہے قائد کی قبر کی بے حرمتی ہو گئی۔ کسی کا کہنا ہے بابائے قوم کو سیاسی نہ بنایا جائے۔ ہمارے اعجاز حیدر نے تو ٹوئٹر پر لمبا سا تھریڈ بھی لکھ ڈالا جس میں قانون کی رو سے ثابت کیا گیا کہ یہ عمل غلط تھا۔ ایک نے تو کہا کہ یہ کوئی انقلاب تو ہے نہیں، اور جب یہ انقلاب نہیں ہے تو پھر یہ انقلاب جیسا نظر بھی نہیں آنا چاہیے، تاہم اسی بے حرمتی کے الزام میں آج انہیں علی الصبح کراچی میں انکے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر گرفتار بھی کر لیا گیا۔ کیونکہ اخذ کیا گیا کہ کیپٹن صفدر نے بے انقلابی کی روح سے رو گردانی کی ہے۔ یہ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ مریم کو مادرِ ملت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نہ جانے اس بات کا مطلب کیا ہے لیکن ایسا کہنے والوں کی رائے کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف وہ بھی ہیں جن کو اس عمل میں کچھ جمہوری نظر آیا۔ وہ کہتے ہیں بابائے قوم ایک سیاسی لیڈر تھے، جمہوریت کا نعرہ ان کی قبر پر نہ لگایا جائے گا تو کہاں لگایا جائے گا۔

ہوا کچھ یوں کہ 18 اکتوبر کو سانحہ کارساز کی تیرہویں برسی پر پیپلز پارٹی نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا جلسہ منعقد کیا تو لاہور سے مسلم لیگ نواز کی مقبول رہنما مریم نواز بھی کراچی پہنچیں جہاں خلافِ توقع ان کے پرستاروں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر جب وہ مزارِ قائد پہنچیں تو یہاں بھی کارکنان مناسب تعداد میں موجود تھے۔ مریم قائد کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گئیں تو وہاں کارکنان بہت جذباتی ہو رہے تھے اور کیپٹن صفدر نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے لگوانا شروع کر دیے۔

سب سے پہلے تو دیکھا جانا چاہیے کہ اس معاملے کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ مزارِ قائد پر کسی بھی قسم کا جلسہ منع ہے۔ کوئی بھی شخص یہاں کسی مظاہرے، جلسے یا جلوس کا انعقاد نہیں کر سکتا، نہ ہی مزارِ قائد یا اس کی بیرونی دیوار کے دس فٹ تک کے علاقے کو کسی سیاسی سرگرمی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تحفظِ مزارِ قائد آرڈیننس 1971 کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ مزار ایک تاریخی عمارت ہے اور اس کی ایک قومی حیثیت ہے۔ جب قانون میں قومی حیثیت کی بات کی جائے تو اس کا مطلب عموماً یہ لیا جاتا ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیں اپنے یکطرفہ ایجڈے کی ترویج نہیں کر سکتیں کیونکہ اس سے عمارت کی قومی حیثیت کی نفی ہوتی ہے۔

قانون کی حد تک اس میں کوئی شک نہیں کہ مزارِ قائد پر کسی بھی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہے اور کیپٹن صفدر کا عمل خلافِ قانون ہے۔ لیکن کیا کیجئے کہ سیاست اور قانون ایک دوسرے کے لئے جزوِ لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیا قومی ہے اور کیا نہیں، سیاست میں اس کا فیصلہ انسان اپنی مرضی سے کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قانون اور قومی حیثیت کی دہائی دینے والوں میں بھی بہت سے ایسے شامل ہیں جن کی تنقید کا مقصد شاید وہ نہیں جو وہ جتلانا چاہتے ہیں۔ مثلاً وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر صاحب نے کہا کہ’’نہ ان بے شرم لوگوں کو اپنی تاریخ کا پتہ نہ اپنے محسنوں کی عزت اور تکریم کے آدابِ سے واقف۔ ان کو میاں صاحب کے علاوہ کسی کی عزت کرنی نہیں آتی۔ قائد کے مزار کی بے حرمتی کرنے پر ان کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے‘‘۔

ان کی قائد سے محبت اپنی جگہ، لیکن یہ جو لفظ ’بے شرم‘ استعمال کیا گیا ہے، لگتا نہیں کہ یہ محض قومی حیثیت کی حامل عمارت کی مبینہ بے حرمتی کا غصہ تھا۔ آج کل کے سیاسی حالات بھی اس غصے کی ایک وجہ ہو سکتے ہیں کہ جب عوام مہنگائی پر حکومت سے نالاں ہیں تو اپوزیشن اسے کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کہہ کر پکارتی ہے، اس کو ’لانے والوں‘ کی مہربانی کا نتیجہ قرار دیتی اسے مزید زچ کرتی نظر آتی ہے۔ یہ بدزبانی پاکستانی سیاست کا یوں بھی ایک مستقل حصہ بن چکی ہے۔

انہیں جواب سندھ کی درویش صفت مصنفہ نورالہدیٰ شاہ نے دیا کہ ’’شرم؟ 70 سال سے ماری ماری پھرتی، در بدر قوم اپنے ’’بابا‘‘ کے مزار پر بھی احتجاج نہ کرے؟ کیوں؟ یہ قوم کے باپ کا مزار ہے نا! کسی غاصب کے باپ کا تو مزار نہیں!‘‘

اب یہاں قانون واضح طور پر ایک طرف ہو گیا۔ نورالہدیٰ شاہ کے مطابق موجودہ نظام ناانصافی پر مبنی ہے اور اس کے خلاف لڑنے کے لئے ’70 سال سے ماری ماری پھرتی، دربدر  قوم‘ اگر اپنے قائد کے مزار پر جا کر احتجاج کر رہی ہے تو یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ ہونا ہی چاہیے۔

تاریخ دیکھی جائے تو مرتضیٰ سولنگی کے مطابق ضیائی آمریت کے دوران بھی جمہوری کارکنان جناح کے مزار پر آتے رہے ہیں، سیاسی نعرے لگاتے رہے ہیں اور گرفتاریاں پیش کرتے رہے ہیں۔

اب رہ گئے فخرِ عالم اور خالد انعم جیسے فنکار جن میں سے ایک قائد سے معافی مانگ رہے ہیں اور دوسرے کے مطابق یہ منظر دیکھ کر ان کا خون کھول رہا ہے۔

پوری ویڈیو

آپ نے سنا، خالد انعم کے خیال میں ان لوگوں پر غداری کا مقدمہ قائم ہونا چاہیے۔ اور یہ شق آرمی چیف کو چاہیے کہ ان لوگوں کو بلا کر لگائیں۔ ان کی جانب سے ’چور‘ اور ’بھاگے ہوئے‘ کا لفظ بھی استعمال کیا گیا۔ تو یہ تو صاف ہے کہ یہاں مسئلہ دراصل سیاسی ہے۔ جس طرح کی زبان استعمال کی جا رہی ہے، یہ غداری کے مقدموں وغیرہ کے مطالبے آج کل حکومتی وزرا بہت زیادہ کر رہے ہیں۔ تاہم، وہ بھی اس کے لئے کوئی شق ڈھونڈنے سے قاصر ہیں اور بابائے قوم کو اپنا باپ قرار دیتے ہوئے خالد انعم بھی اس شق کو ڈھونڈ لانے کا مطالبہ آرمی چیف سے ہی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تھپڑ لگانا چاہتے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ خاصے پڑھے لکھے آدمی ہیں اور اب سے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے اپنے گھر میں کتنی بڑی لائبریری ہے۔ اگر ان کا پہلا رد عمل تشدد ہے تو یہی سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ جس معاشرے میں متشدد سوچ اس حد تک سرایت کر چکی ہو کہ پوری پوری لائبریری بھی انسان کا کچھ نہ بگاڑ پا رہی ہو تو معاملہ قانونی ہے ہی نہیں۔ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے اور اسے سیاسی طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے بانی ہیں۔ اس مقصد کے لئے لیکن انہوں نے کوئی گوریلا جنگ نہیں لڑی تھی۔ وہ بندوق یا تھپڑ کی زبان میں بات کرنے والے شخص نہیں تھے۔ وہ ایک سیاستدان تھے۔ انہوں نے اپنا مقدمہ چوراہوں میں لڑا، سڑکوں پر لڑا، میدانوں میں لڑا، بالآخر ووٹ کے ذریعے سے پاکستان حاصل کیا۔ ہم نے انہیں بابائے قوم کی مسند پر یوں فائز کیا کہ انہوں نے ایک قوم کو ایک راہ دکھلائی، اس کی قیادت کی، اور اسے تشدد کے راستے پر لے جانے والوں سے بچاتے بچاتے سیاست کے ذریعے ایک وطن دلانے میں کامیاب ہوئے۔ معروف استاد اور تاریخ دان ڈاکٹر مہدی حسن اکثر اپنی کلاس میں ہنس ہنس کر یہ قصہ سناتے ہیں کہ ایک بار انہوں نے جنرل مشرف سے پوچھا کہ قوم کو قائد کے نظریات کے مطابق ڈھالنے کے لئے آپ نے کیا پروگرام مرتب کیا ہے تو مشرف صاحب نے فرمایا کہ ’میں نے پی ٹی وی کو حکم دے دیا ہے کہ روزانہ خبرنامے سے پہلے قائد کا ایک قول ضرور چلایا جائے‘۔

یہاں لوگوں کے مزار بنانے کا چلن ہے۔ قرآن کو ہم جزدان میں لپیٹ کر سب سے اوپر والی کارنس پر رکھ دیتے ہیں۔ ساری زندگی ایک لفظ سے دس نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، سبق لیکن حاصل نہیں کرتے۔ قائد کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ہم نے انہیں ایک میدان کے بیچوں بیچ ایک اونچی مچان پر قبر بنا دی ہے۔ آپ انہیں اپنے باپ سے نہ ملائیں۔ یہ کسی معمولی آدمی کی قبر نہیں۔ اپنے ہیروز کی قبروں پر دھمالیں ڈالنا برصغیر کی ثقافت کا حصہ ہے۔ سیاسی جماعتیں، سیاستدان، سیاسی کارکنان اس قبر سے ہر دور میں طاقت کشید کرتے آئے ہیں۔ کوئی قانون لاگو ہوتا ہے تو ضرور لگائیے۔ یہ تھپڑ وغیرہ لگانے کی باتیں، تشدد کی باتیں، غداری کے الزامات، آرمی چیف سے کوئی شق لگانے کے مطالبات غیر سیاسی، غیر جمہوری ذہنوں میں ہی جنم لے سکتے ہیں۔ اسی سوچ سے اس ملک کو ہر بار خطرہ ہوا ہے۔ اسی سطحیت کا غاصبوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ جمہوریت پنپے گی تو یہ متشدد رویے اور یہ سطحی اور غیر سیاسی سوچ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *