Type to search

انسانی حقوق خبریں

دوبئی میں ایک لاوارث لاش جس نے پاکستان میں ایک انقلابی تنظیم کے قیام کی بنیاد رکھی

یہ سال 2010 کی بات ہے جب ضلع ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ خان محمد کار حادثے میں فوت ہو گئے۔  ان کی لاش متحدہ عرب امارات  میں تقریبا پندرہ روز تک پڑی رہی۔ دبئی میں ان کا جاننے والا کوئی نہیں تھا جو کاغذات سفارت خانے اور متعلقہ اداروں سے کلئیر کروا دیتا۔ اس نوجوان کی کہانی سن کر گاؤں میں ہم نے لوگوں مل جل کر ایک ایسی تنظیم بنانے کا سوچا جو گاؤں کے لوگوں کی ہر سطح پر مدد کرے .

مالاکنڈ کے حاجی عبید اللہ  جب یہ کہانی سنا رہے تھے تو ان کے چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان اور سکون تھا۔ حاجی عبید مالاکنڈ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ 1976 سے عرب امارات میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت انسان کو ایک جگہ اکٹھا کر تی ہے۔ مشکل صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے 2010 میں “اتحاد برائے ملاکنڈ الہ ڈھنڈ ڈھیری” کے نام سے تنظیم بنادی۔ شروع میں تنظیم میں صرف الہ ڈھنڈ ڈھیری کے لوگ تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تنظیم میں  خیبر پختونخوا اور پنجاب کے لوگ بھی شامل ہوتے گئے اور آج اس تنظیم میں ہزار سے زائد لوگ رجسٹرڈ ہیں .

حاجی عبید کے مطابق اس تنظیم میں شامل ہونے کیلئےکسی علاقے ، مذہب یا قوم قبیلے کی کوئی شرط نہیں۔ اس وقت تنظیم میں پشاور،گوجرنوالا،سرگودھا، چارسدہ ،مردان،سوات ، بونیر اور دیر کے لوگ بھی شامل ہیں۔  تنظیم میں رجسٹریشن کے لیے رجسٹریشن فیس پچاس درہم جبکہ سالانہ فیس بیس درہم  ہے۔

آنکھوں میں سہانے مستقبل کے خواب سجا کر دوبئی جانے والا محمد علی چند برس پہلے انتقال کر گیا۔ وہ دبئی میں بیمار ہوا۔ ہسپتال چیک اپ کے لیے گیا تو ڈاکٹروں نے اس کی سماعتوں پر بم برسا دیا کہ وہ کینسر کا مریض ہے۔ محمد علی کے بھائی حیدر علی بھی دبئی میں مقیم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تنظیم کے لوگوں نے ان کی دبئی میں بہت مدد کی لیکن محمد علی کا علاج دبئی میں ممکن نہیں تھا۔ اس لئے ہم اسے لیکر 2015 پاکستان آگئے۔ محمد علی کے ساتھ زندگی نے وفا نہیں کی۔علاج شروع ہونے سے کچھ دن پہلے ہی محمد علی فوت ہو گیا۔ حیدر علی کے مطابق وفات  کے بعد “اتحاد برائے ملاکنڈ الہ ڈھنڈ ڈھیری” تنظیم نے میرے والد کی مالی مدد بھی کی ۔

فضل سبحان کا تعلق بھی ضلع مالاکنڈ سے ہے جو اس سال دبئی سے ویزا منسوخ ہونے کے بعد پاکستان واپس پہنچا ہے۔ فضل سبحان دبئی میں 300 لوگوں کا انچارج تھا۔ جس کے ذمے ان 300 لوگوں کا خیال رکھنا ،مشکلات حل کرنا اور اگر مشکلات زیادہ ہوں تو تنظیم کے لوگوں مطلع کرنا تھا۔ فضل سبحان ان 300 دوستوں سے سالانہ فیس بھی اکھٹی کرتا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ سارے لوگ تنظیم کے کام کی وجہ سے تنظیم سے انتہائی خوش ہیں اور ہر ایک خوشدلی کے ساتھ سالانہ فیس دیتا ہے ۔فضل سبحان کے مطابق کورونا کی وجہ سے اس سال دبئی میں لوگوں کو مزدوری اور کام کم ملا ہے . تنظیم کی اعلی قیادت نے اس سال فیس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے .

 

شارجہ میں مقیم “اتحاد برائے ملاکنڈ الہ ڈھنڈ ڈھیری” تنظیم کے نائب صدر شاہ حسین کا کہنا ہے  کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس تنظیم کے سارے نظام کو کمپیوٹرائز کیا جائے تاکہ یواے ای کے کسی بھی سٹیٹ میں اس تنظیم کے کسی رکن کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے .اس تنظیم میں پہلے لوگ کم تھے لیکن اب اس سے ارکان کی تعداد ایک  ہزار سے زیادہ ہے ۔شاہ حسین کے مطا بق  یواے ای کے ہر سٹیٹ میں اس تنظیم کا ایک نمائندہ ہوتا ہے جو کسی ناخوش گوار واقعے میں تنظیم کے ممبر کی مدد کرتا ہے۔ذمہ داری کا کام اس کو دیا جاتا ہے جس کا اپنا کاروبار ہو کیونکہ نوکر پیشہ افراد ہروقت خدمت کیلئے حاضر نہیں ہوسکتے۔

ارشد  عالم شارجہ میں تعمیراتی  کمپنی چلاتے ہیں . ان کا کہنا ہے کہ معمولی کاموں کے لیے حکومتوں کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے . ایک دوسرے کی ممکنہ مدد کریں اور حکومت کا بوجھ بھی کم کریں۔ ارشد عاکم کے مطابق  تنظیم صرف فوت شدگان اور ان کے لواحقین کی ہی مدد نہیں کرتی بلکہ حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کی بھی مدد کی جاتی ہے . 

“اتحاد برائے ملاکنڈ الہ ڈھنڈ ڈھیری”  حاجی عبیداللہ اور ان کے دوستوں نے قائم کی تھی اور یہ انشااللہ اسی طرف چلتی  رہے گی اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی مدد کرتی رہے گی۔ اس وقت ضلع ملاکنڈ کے ایک لاکھ 10 ہزار پانچ سو 92 افراد روشن مستقبل کیلئے دوسرے ممالک میں مقیم ہیں .

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *